آئی ایس آئی انٹیلی جنس   


کو شائع کی گئی۔ February 9, 2020    ·(TOTAL VIEWS 201)      No Comments


تحریر: مہر اشتیاق احمد
انٹیلی جنس ……انٹیلیجنٹ (ذہین)لوگو کا کام ہے۔ دنیا کی پیچیدہ ترین تعلیم ہے۔ انٹیلیجنس یہ کام کیسے ہوتا ہے، کون کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے یہ عقل سے سمجھا نہیں جاسکتا اور نہ ہی کسی بھی قسم کی تعلیم اسکا احاطہ کر سکتی ہے اور نہ ہی دانشوری سے غلط یا صحیح ثابت کیا جاسکتا ہے۔جاسوسی ایک انتہائی مشکل کام ہے یہ بارڈر پر ٹینک کاگولہ چھاتی پر کھانے سے بھی مشکل ہے۔ یہ ایک ایسی گمنام زندگی ہے جس کا کسی کو ادراک بھی نہیں ہو سکتا۔مجھے پاکستانی پڑھے لکھے دانشوروں کے دلائل حیرت میں ڈال دیتے ہیں یا اِنکو علم نہیں یا پھر پڑھے لکھے جاہل ہیں۔ انٹیلیجنس نوکری نہیں، پیشہ نہیں، ذریعہ معاشی نہیں ہر لمحہ مشن کا نام ہے اور یہ بڑے باکمال لوگ ہوتے ہیں۔چونکہ انکی داستانیں فلموں کی طرح لکھی نہیں جائیں اور نہ ہی جنگجوؤں کی طرح بیان کی جاتیں ہیں۔ اس لیے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک نوکری ہے جسکی لوگ تنخوا ہ لیتے ہیں۔ یہ واحدکام ہے۔ جسکی تنخواہ بندہ خودنہیں لیتا ہمارا یک جاسوس خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے مزار پر ملنگ بن کر رہا۔ ادھر سے ہلا نہیں کھیانا لنگر سے کھاتا اور سوتا زمین پر تھا۔ آخر اسے انڈین انٹیلی جنس نے پکڑ لیا۔ بہت مارا، اتنا مارا کہ اُسکے اندر سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ جب اُنکو یقین ہو گیا کہ یہ زندہ نہیں رہے گا تو پھینک دیا۔ اسے دہلی سفارت خانے لایا گیا علاج ہوا اورٹھیک ہوا۔ اب ہر تعلیم یا فتہ یہی سوچے گا کہ انہوں نے اُسے قتل کیوں نہیں کیا؟ تو جناب اگر وہ قتل کرتے تو پاکستان ایجنٹ یاسفارت کار اِدھر قتل ہوجاتا اور اگر اسے ملک سے ناپسندیدہ کہہ کر نکالتے تو پاکستان اِنکا ایک نکال دیتا۔ جو ہوسکتا ہے بہت اہم کام کر رہا ہو۔ روزانہ لاکھوں لوگ کراچی سے خیبر تک آتے اور جاتے ہیں۔ اب ان میں ایک جاسوس بھی گھس جائے تو کسی کو کیا پتہ کون ہے اورکدھر ہے۔اب ایک آدمی جو اسرائیل سے ٹریننگ لیتا ہے۔ پشتو سیکھتا ہے،سارے طور طریقے سیکھتا ہے۔ جب مکمل ٹریننڈ ہوجاتا ہے تو افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہو تاہے پاکستانی پشتون لباس میں پشتو پٹھانوں کی طرح بولتا ہے۔ لبا س انہی کی طرح پہنتا ہے، نسوار تک کھاتا ہے۔قہوہ پیتا ہے۔ کباب کھاتا ہے۔ پاکستانی شناختی کارڈ رکھتا ہے۔ حلیہ سے بھی پاکستان لگتا ہے اور یہاں کام شروع کردیتا ہے۔ خود کش حملے کر واتا ہے، پہلے سے موجود ایجنٹوں کے ساتھ رابطہ کرتاہے۔ بنوں میں موجود ایک یہودی جو عالم بنا ہوا تھا سے مدد لیتا ہے جو وہاں دس سے زائد مسجد اور مدرسہ چلارہا ہوتاہے۔پولیس پر،فوج پر، سیاستدانوں پر، شہریوں پر حملہ کر واتا ہے۔ ملکی ادارے اس گمنام جاسوس کو ڈھونڈتے ہیں کہ دھماکہ ہوا تو اُس کو کِس نے کروایا؟ جب آدھی رات کو مدرسے پر چھاپا پڑا ہے تو مولوی بھاگ جاتاہے اورلوگوں کو کہتا ہے کہ یہ دھماکے آئی ایس آئی کر واتی ہے اور فوج پٹھانوں کی دشمن ہے لوگ بھی سوچتے ہیں کہ جو بندہ ہمیں قرآن و حدیث پڑھاتا رہا وہ کیسے جھوٹ بول سکتا ہے۔ اس مولوی کی مسجد تہہ خانے سے کمپیوٹر اورتمام ریکارڈ قبضے میں لیا جاتا ہے۔ اسے ڈیکوڈ کیاجاتا ہے اورجب اسکے ساتھیوں کی تلاش کی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ مولانا صاحب کابل سے دوبئی فرار ہو چکے ہیں اور وہاں سے انہیں گرفتار کیا جاتا ہے اور باقی سارے آپریٹر بھی بھاگ جاتے ہیں لیکن ایک چھپتا رہتا ہے اور اپناکام جاری رکھتا ہے بے پناہ پیسہ اس کے پاس ہوتاہے۔ہر جگہ رشوت لینے والی انتظامیہ کو خوش کرتا رہتا ہے۔ لیکن ایک جاسوس جواُسے پہچان لیتاہے اور مقامی پولیس سے مدد مانگتا ہے لیکن کسی نہ کسی طریقے سے پیسوں کے زور پر انٹیلی جنس فور س کو پہنچنے سے پہلے فرار ہوجاتاہے اور کابل کے راستے امریکہ بھاگ جاتا ہے۔ امریکی ادارے اُسکے کام سے بہت خوش ہوتے ہیں اور پاکستانی سفیر کو کہتے ہیں کہ جتنی سہولت چاہیے لے لو۔ جتنے ڈالر چاہیئں لے لوکسی بھی طریقے سے یہ بندہ پاکستان میں دوبارہ بھجوا دو، سفیر صاحب اسکو لا محدود ویزوہ عطا فرماتے ہیں اورپاکستا نی وزیرداخلہ کو کہتے ہیں اس بندے کو رن وے سے ہی گاڑی میں ڈالو اور لاہور امریکی سفارت خانہ پہنچا دو۔ بندہ وہاں پہنچ جاتا ہے اور پھر چند ہفتے بعد دھماکے شروع ہوجاتے ہیں۔وہی کام اب کون کر واتا ہے۔؟پتہ چلتا ہے کہ وہی بندہ ہے۔ لیکن اب خان کے نام سے نہیں ”ریمنڈڈیوس“ کے نام سے کام کر رہا ہے۔نگرانی شروع ہو تی ہے کوئی بھی ملک جسکو ویزا دے دے وہ ایک معاہدہ سمجھا جاتاہے اُسکو کینسل آسانی سے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اُسے نکالتے بھی ہیں تو اُسکے بدلے ایک انتہائی کار آمد آدمی امریکہ سے باہر کر دیا جائے گا۔ قید آپ اُسے نہیں کر سکتے، سزااُسے نہیں دے سکتے۔ بھائی آپکی سلطنت نے اُسے تحفظ کا لکھ کر دیاہے۔ یہ پاکستانی پولیس نہیں کہ چرس میں اندر کر دو۔ سمگلنگ ڈال دو، جعلی اسلحہ ڈال دو اور اندر کر دو،کسی غیر ملکی کو گر فتار نہیں کیا جاسکتا۔ پھر کیا حل ہے۔؟ گولی آپ مار نہیں سکتے تو اگر وہ عقل مند ہیں تو کیا اور لوگ نہیں ہو سکتے؟پھر اسکے پیچھے دو بندے لگا دئیے جاتے ہیں وہ جونہی ایمبیسی سے نکلتا ہے وہ موٹر سائیکل پر اسکے پیچھے وہ بندہ اپنی تمام ترچالاکیوں اور ہوشیاری کے با وجود مفلوج ہوکر رہ جاتا ہے۔اسکے مالک رزلٹ مانگتے ہیں کہ دھماکے کرواؤ، وہ ہل نہیں سکتا۔ جو اُسے ملنے جاتا ہے۔ دو بندے اسکے پیچھے لگا دئیے جاتے ہیں۔ جس ورکشا پ میں بظاہر مستری جوکہ مقامی ہے اور اُس کیلئے کام کرتا ہے اُسے بارودی مواد گاڑی میں فٹ کر نے کے الزام میں اندر کردیا جات اہے۔ہر اُسکا مقامی ساتھی یا غائب کر دیا جات ہے یاگرفتار۔ وہ بندہ بالکل پاگل ہوجاتاہے اوردو بندوں کو کہا جاتاہے کہ بس اِسے ڈراؤ،وہ یہ سمجھے کہ یہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خوف زدہ ہوکر اور رنجیدہ ہو کر انہیں قتل کر دیتا ہے۔ گرفتار ہوتا ہے اسرائیل اور امریکہ کو غشی کے دورے پڑتے ہیں۔ امریکی صدر ٹی وی پر اُسے ڈپلومیٹ (سفارتکار)کہتا ہے۔ سارے کے سارے بیک اور فرنٹ ڈور سارے کھل جاتے ہیں۔ خزانوں کے منہ کھول دئیے جاتے ہیں۔ ویسے بھی انکا روپیہ ہم سے کافی بڑا ہے۔ جان کیری دوڑتا آتا ہے۔ امریکی جنرل جو افغانستان میں ہے وہ بھی بھاگا بھاتا آتا ہے۔ وہ جاہل جو کہتا ہے کہ ہم امریکا کے غلام ہیں۔ تو بھائی آقا غلام کے پاس نہیں آتا۔ غلام کو سمن جاری کرتا ہے۔ انٹیلی جنس کاکام انٹیلی جنس والے ہی کرتے ہیں۔جان کیری کو کہا جاتا ہے کہ سی آئی اے چیف کو بھیجو۔ سی آئی اے چیف بداستہ افغانستان آدھی رات کو چکلالہ ائیر پورٹ پر اُترتا ہے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل سمچاع پاشا سے ملتا ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ جتنے ایجنٹ ہیں اُنکی لسٹ دو، وہ بہت اُوں آں کرتاہے اور آخرکار 3600لوگوں کی لسٹ دیتا ہے۔ آپ لوگوں کو یاد ہو گا۔ زرداری دور میں چار بیریکیس اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں تعمیر کی گئی تھیں۔پھر امریکا کو اتنا مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ 3300لوگ واپس نکالنے پر مجبور ہوجاتاہے۔ انہی دنوں جھنگ باہتر کے قریب ایک پُل پر ایک غریب ملکی کالا چٹا پہاڑ کی فوٹو گرافی کر رہا تھا کہ سنائپر گولی ماردیتا ہے۔ ایک اور کہوٹہ کے پاس قتل کر دیا جاتاہے۔ جس سے امریکہ مزید دباؤ میں آجا تا ہے۔ امریکہ فوج،مرکزی اورصوبائی حکومتوں کے پاؤں پکڑتا ہے۔ فوجی قیادت کہتی ہے ہمیں F-16کیلئے نائٹ ٹارگٹ کو ہٹ کرنے والی کٹس چاہیے۔ امریکا بمشکل مان جاتاہے۔ یاد رہے یہی وہ کٹس تھیں جنہوں نے وزیر ستان میں زیر زمین بنکر تباہ کئے اور TTPکا صفایا کیا۔ ایک مسلح گروہ TTPجو امریکہ جیسے ملک سے 10سال میں قابول نہیں آیا۔ پاک فوج نے ضربِ عضب کرکے چند مہینوں میں ختم کر دیا۔ نقد پیسے بھی CIAنے دئیے جو پھر اُنہیں کے خلاف استعمال ہوئے۔
نیوی کیلئے میزائیل،آرمی کیلئے ٹارگٹ ڈیٹکٹرز اورلا تعداد اسلحہ جو صرف ایک جاسوس کے عوض ملا یہ سودا پیسوں کیلئے نہیں ہزاروں پاکستانیوں کی جان بھی بچائی گئی تھی۔ اس نیٹ ورک ٹوٹنے کے بعد لاہور میں کوئی بڑا دھماکہ نہیں ہوا۔
اگر انسانی جان کی قیمت وہ ہے جو تم لوگ لگاتے ہو تو پھر بارڈر سے فوج بھی ہٹا لو۔
کیونکہ وہاں مر جاتے ہیں وطن کے بیٹے، وطن کیلئے اپنی جان کی قربانی دیتے ہیں۔جن دو نے قربانی دے کر ہزاروں کی جان بچائی وہ بھی ہیرو ہیں۔
وطن کے سپاہی وطن کی امانت ہوتے ہیں
انٹیلی جنس میں ایک جان دے کر سینکڑوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔
پاک فوج زندہ آبا
آئی ایس آئی زندہ آبا، پاکستان پائندہ باد

Readers Comments (0)




WordPress Themes

WordPress Blog