آسمان زیر زمیں   


کو شائع کی گئی۔ November 5, 2018    ·(TOTAL VIEWS 54)      No Comments

تحریر۔۔۔ میرافسر امان
آسمان کو زیر زمیں کرنے والے منفرد شاعر محمدنعیم ملک صاحب جن کاادبی نام نسیمِ سحر ہے واقعی ہی آسمان کو اپنے کلام سے زیر زمیں کیا ہے۔ وہ اپنی کتاب’’ آسمان زیر زمیں‘‘ کے صفحہ۸۴ پر اپنے ایک شہر میں فرماتے کہ:۔
اتر کر پستیوں میں ہم نے جانا
بہت سے آسماں زیرِ زمیں ہیں
ہم نے قرآن شریف میں شعرا ء کے متعلق یہ پڑھا تھا کہ شعرا ء حضرات مختلف وادیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں،یعنی شایدانہیں قافیہ سے ردیف کو ملانے کے لیے خلاف واقعہ حقائق لکھنے پڑھتے ہیں اور مبالغہ سے کام لیتے ہیں۔ کیونکہ قرآن تو ہے ہی حقیقت بیان کرنے والا۔ اس لیے ہمیں ایسی شاعر ی سے کوئی خاص لگاؤ نہیں رہا۔ لیکن جب ہمیں یہ معلوم ہوا کہ حسان بن ثابتؓ رسولؐ اللہ کی شان میں شعر کہتے تھے۔ کفار اپنے شعروں میں رسولؐ اللہ کی شان میں گستاخیاں کرتے تھے۔ جبکہ حسانؓ بن ثابت اپنے اشعار کے ذریعے رسولؐاللہ کا دفاع کرتے تھے۔ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلہ اللہ علیہ وسلم حضرت حسان ؓ بن ثابت کے شعروں کو پسند کیا تھا۔ تو معلوم ہوا کہ حقیقت بیان کرنے والے شعرا ء کو پڑھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ پھر ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اسلام کا دفاع کرنے، حالی، اکبر الہ آبادی اور شاعر اسلام حضرت شیخ علامہ محمد اقبال ؒ جو قرآن اور حدیث کو اپنی شعری میں بیان کرتے ہیں، تو پھر کیسے ،ایسی شاعری سے رغبت پیدا نہ کی جائے۔ ہمیں برصغیر کے شعرا ء جو صرف عورت کے نین،بال، رخسار،قد، حسن اور انگور کی بیٹی ، شباب اور کباب کے اردگرد اپنی شعری کومرکوز رکھنے والوں سے دُور کا واسطہ بھی نہیں رہا۔ اس میں شاعری کا قصور نہیں بلکہ شعر اء کا قصور ہے جو چھوٹے بڑے ذہن کے ہوتے ہیں۔ شاعر تو وہ ہی کامیاب ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات کو اپنے شعر وں میں سمیٹے ہیں۔ ایسے شاعر بڑے ظرف والے ہوتے ہیں جن میں یقیناً نسیم سحر شامل ہیں۔
حسن اتفاق کہ علمی و ادبی ہفتہ وارنشست قلم کاروان اسلام آباد کی ایک نشست میں ،ایک جدید شاعر اور نثر نگار جناب نسیمِ سحر نے اپنی کتاب’’ آسمان زیر ز میں ‘‘ہمیں عنایت فرمائی۔ اس کتاب کاہم نے مطالعہ کیا اور اپنے حساسات اور جذبات قارائین کی نظر کر رہے ہیں۔ قلم کاروان کی یوم پاکستان کے حوالے سے شعری نشست میں شعراء نے اپنا اپنا کلام سنایا۔ اس نشست کے صدر نشین جناب نسیم سحر تھے۔ ایک بڑا شاعر ہونے کے باوجود نسیم سحر ، مجھے ایک سادہ ، محبت کرنے والا اور پروقار شخص محسوس ہوا۔ نسیم سحر درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں جن میں شاعری اور نثر شامل ہے۔وہ کئی سال ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم رہے۔ وہاں ادبی اور سماجی و ثقافتی تنظیموں سے منسلک رہے۔ جن میں’’ دائرہ ادب‘‘ جدہ کے جنرل سیکر ٹیری اور’’عالمی اُردو مرکز‘‘ جدہ کے اساسی رکن،بانی اور جنرل سیکرٹیری رہے۔ سعودی عرب اور پاکستان سے بیک وقت ایک سہ ماہی ادبی مجلہ’’ سحاب‘‘ جاری کیا۔ اب وہ پاکستان ،اپنے وطن میں ہیں اور شاعری فرما رہے ہیں۔ کئی ادبی و قومی اداروں کی طرف سے انعامات، اعزازات اور ایوارڈ، جس میں سرے فہرست، نظریہ پاکستان ٹرسٹ ہے، سے’’ اقبال گولڈ میڈل‘‘ بدست ڈاکٹر قدیر خان صاحب وصول کر چکے ہیں۔نسیم سحر صاحب رولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے اور اب اسلام آباد اور راولپنڈی کی علمی اورادبی محفلوں میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔ اِس وقت بھی جدہ، دمام،الخبر، طائف،بحرین وغیرہ کے بہت سے شعراء اپنے کلام پر نسیم سحر سے بذریعہ ای میل اور ٹیلیفون اصلح لے رہے ہیں۔نسیم سحر نے مشاعروں میں شرکت کے لیے مختلف ملکوں کے سفر بھی کیے ہیں۔نسیمِ سحر کا شاعرانہ ادبی پس منظر یہ ہے کہ ان کے نانا پنجابی کے شاعر تھے۔ان کے ماموں پاک و ہند کے ایک معروف شاعر مانے جاتے تھے۔ ان کے سسر شاعر، نقاد اور پی ٹی وی کے لیے تقاریر لکھنے کے حوالے سے مشہور تھے۔یوں انہیں ابتداء سے ہی علم و ادب اور شاعری کا ماحول میسر آیا ۔اور وہ خود ایک کامیاب شاعر ثابت ہوئے۔’’آسمان زیر زمیں‘‘ کتاب در اصل ان کی شاعری اور نثرپر لکھی گئی درجنوں
کتابوں،جن میں حمد، نعت ، غزل،نظم، نثر،افسانہ، ہائیکو ،ماہیے خاکہ نگاری،تنقید،تبصرے اور مزحیہ شاعری پر مشتمل کلام کا نچوڑ ، یعنی کوزے میں دریا بند کرنا ہے۔ان کتب میں پہلی اُڑان،ہر بوند سمندر،روشن دان میں چڑیا اور نعت نگینے( حمدو نعت) اور دوسری کتب کے شعر شامل ہیں۔ اس کتاب کوان کے مداع جناب خاور عجاز صاحب نے مرتب کیا ہے۔اس طرح نسیم سحر کے سارے کلام کا نچوڑ اس کتاب میں جمع کر دیا گیا ہے۔
نسیم سحر کی شعری مجموعہ کتاب’’ آسمان زیر زمیں‘‘ کے مطالعہ کے دوران معلوم ہوا کہ نسیم سحر حمد اور نعت میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ ھمد میں کیا خوب شعر کہا ہے:۔
تسلسل حمد کا ہم ٹوٹنے دیتے نہیں ہر گز
نسیم اک حمد کہہ ہم مکرر حمد کہتے ہیں
رسولؐ اللہ کی شان میں نعت لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:۔
اے کاش مرا نام جو آئے تو وہ کہہ دیں 
یہ نام غلامان محمدؐ میں لکھا جائے
کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہو کر لفظ’’ شہر‘‘ کو اپنے کئی اشعار میں استعمال کیا ہے۔ہمارے نذدیک اس ماحول کو اپنے شاعری میں ایک’’ شہر‘‘ تصور کر کے اس پر دُکھ اور غم کا اظہار کرتے ہے۔ اپنی شعری کے ذریعے لوگوں کو بیٹھ جانے کے بجائے اُوپر اُٹھاتے ہیں اور جد وجہد کرنے پر اُکساتے ہیں۔ وہ اپنے شعر میں بیان کرتے ہے کہ پریشانیوں اور مشکلوں میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے ورنہ مشکلوں میں انسان دب کر رہ جائے گا پھر اس سے نکل نہیں سکے گا۔ اس طرح وہ انسان کو حوصلہ دیتے ہیں کہ مشکلوں کے حل کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ بیٹھ نہیں جانا چاہیے ۔وہ اپنے شعر میں کہتے ہیں:۔ 
زلزلوں کے شہر میں محتاط رہنا چاہیے
ورنہ دیوارں تلے سب کچھ دبا رہ جائے گا
وہ اپنے ایک اور شعر میں کہتے کہ انسانوں کو آسانیوں کی آس تب رکھنی چاہیے جب ان کے لیے جدو جہد بھی کریں۔ اگر لوگ اپنی قسمت بنانے کے لیے کسی آسانی کی صرف آس لگائے بیٹھے بھی رہیں اور جدوجہد اور تدبیریں نہ کریں اور اگر قدرت اُنہیں کبھی آسان وقت مہیا کر بھی دے تو اس سے کوئی فائدہ بھی نہیں اُٹھا سکیں نگے۔کیونکہ انہوں نے شکست تسلیم کر رکھی ہے ۔ شکست خردہ لوگ اچھے وقتوں سے بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ان کی پیشانیوں پر بے ہمتی لکھی ہوئی ہے۔ وہ آگے بڑھنے کی ہمت ہار بیٹھے ہیں۔جب تک وہ اس کیفیت سے نہیں نکلیں نگے۔ کسی آسانی سے فائدہ نہیں اُٹھا سکیں گے۔ اس کیفیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں:۔
بارشوں کی آس کیا اس شہر کے باسی رکھیں
خشک سالی اس کی پیشانی پہ جب تحریر ہے
جو لوگ ماحول کی مشکلوں سے ڈر جاتے ہیں۔ مقابلہ کرنے اور جد وجہد کرنے کے بجائے اِدھر اُدھر
پنائیں ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ انسان کو آندھیوں کے سامنے آکر مقابلہ
کرنا چاہیے اور ڈر کر نہ بیٹھ جانا چاہیے۔ پناہ کے لیے آشیانے نہیں بدلنے چاہییں۔بلکہ نئی نئی تدبیریں کرنی چاہیے۔ نئے نئے راستے تلاش کرنے چاہیے۔ اس چیز کو اپنے شعر میں اس طرح بیان کرتے ہیں:۔
آندھیوں سے ڈرے ہوئے پنچھی
آشیانے بدلتے رہتے ہیں
نسیم سحرکے سارے شعری مجموں میں کہیں بھی عورت اُس کے حسن، شراب کباب اورکم ستہی سوچ کا کوئی دخل نہیں۔ ہاں نسیم سحر کی شاعری میں حمد، نعت اور امیدوں سے بھرا کلام ضرور نظر آتا ہے۔ لوگوں کو اللہ پر بروصہ، رسولؐ اللہ سے عشق اور اُن کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے کی تلقین اور بے ہمت لوگوں حوصلہ دیتے نظر آتے ہیں۔غر ض نسیم سحر اُمید کے شاعر ہیں بلکہ قومی شاعر ہیں۔ ادبی اور علمی لوگوں کو ان کی عالمی معیار کی کتاب’’آسمان زیر زمیں‘‘ جسے مجلد اور خوبصور ت کیٹ اپ کے ساتھ، دنیائے اُردو پبلی کیشن ،روالپنڈی نے شائع کیا ہے، کاضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress主题