اخروٹ کھانے سے دماغی صلاحیتیں بھی جوان   


کو شائع کی گئی۔ January 31, 2020    ·(TOTAL VIEWS 42)      No Comments

کیلیفورنیا: (یواین پی)عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جہاں ہماری جسمانی صلاحیتیں کمزور پڑتی ہیں، وہیں ہمارے دماغ میں نت نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت یعنی ’’اکتسابی صلاحیت‘‘ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی چلی جاتی ہے جو آگے چل کر مختلف دماغی امراض کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔لیکن اگر 40 سال یا اس سے زائد عمر کے لوگ اپنی روزمرہ غذا میں خشک میوہ جات، بالخصوص اخروٹ کی تھوڑی سی مقدار بھی شامل کرلیں تو ان کی دماغی اور اکتسابی زیادہ طویل عرصے تک جوان رہتی ہیں اور وہ زیادہ بڑی عمر تک سیکھنے کے معاملے میں فعال رہتے ہیں۔واضح رہے کہ چند روز پہلے ایکسپریس نیوز کی اسی ویب سائٹ پر شائع شدہ ایک خبر میں دل اور نظامِ ہاضمہ پر اخروٹ کے مثبت اثرات کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ تازہ خبر بھی اسی تسلسل میں ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ امریکا میں اخروٹ اور صحت مند عمر رسیدگی میں باہمی تعلق کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا تھا جس میں معدے اور دل کے علاوہ دماغی صحت کے مختلف پہلو بھی شامل کیے گئے تھے۔اخروٹ اور عمر رسیدگی کے حوالے سے مطالعے کا یہ دو سالہ حصہ لوما لنڈا یونیورسٹی، کیلیفورنیا کے ماہرین نے انجام دیا جس میں امریکا اور اسپین سے ایسے 640 عمر رسیدہ افراد شامل کیے گئے جو اکیلے رہ رہے تھے۔انہیں دو گروپوں میں بانٹا گیا: ایک گروپ نے روزانہ تھوڑی تھوڑی مقدار میں اخروٹ استعمال کیے جبکہ دوسرے گروپ نے اس بارے میں کوئی پابندی نہیں کی۔ دو سالہ عرصے میں ان کا باقاعدگی سے طبی معائنہ جاری رکھا گیا۔مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ جن بزرگوں نے اپنی روزمرہ غذا میں اخروٹ شامل رکھے تھے، دو سال کے عرصے میں ان کی دماغی صحت اور اکتسابی صلاحیت، دونوں معمول کے مطابق تھیں۔ ان کے برعکس، اخروٹ نہ کھانے والے بزرگ افراد کی دماغی صحت اور اکتسابی صلاحیتیں، ان ہی دو سال کے دوران قدرے کم ہوگئی تھیں۔اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور پولی فینولز نامی مادّے پائے جاتے ہیں۔ یہ دونوں کے دونوں ہمارے دماغ کو طاقتور بناتے ہیں اور اکتسابی صلاحیتوں کو کمزور پڑنے سے روکتے ہیں۔مذکورہ تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ دماغ کو تقویت پہنچانے والے اجزاء میں ان ہی دونوں مادّوں کا اہم ترین کردار ہے۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

Weboy