اذیت ناک سات سال،گونگے بہرے حکمران اور مظلوموں کی سسکیاں   


کو شائع کی گئی۔ June 12, 2021    ·(TOTAL VIEWS 88)      No Comments

تحرير شیخ گلفام علی قادری اوکاڑہ 
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے تم ہی کہو
سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی ساتویں برسی پر جہاں ہمارے دل غم سے نڈھال ہیں وہیں دل کو اطمینان بھی میسر ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ورثاء اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی حصول انصاف کی جدوجہد سات سال کے بعد بھی پوری طاقت اور عزم استقامت کے ساتھ جاری ہے حصول انصاف کی اس جدوجہد میں شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری پر غیر متزلزل یقین اور اعتماد کا اظہار قابل فخر اورقابل تقلید ہے شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کے عزم ہمت اور حوصلے کو وقت کی نمرودی اور فرعونی قوت بھی متزلزل نہ کر سکی،17جون 2014پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جس دن نواز شہباز حکومت نے طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ اور ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر نہتے بے گناہ معصوم کارکنان پر حکومتی دہشت گردی کی انتہا کی،حکومتی دہشتگردی کے مناظر میڈیا چینلز کے ذریعے پوری دنیا نے براہ راست اپنی آنکھوں سے دیکھے جس میں 14 بے گناہ شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ان میں 2 خواتین بھی شامل تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی حالیہ پیش رفت ،ابھی تک سوالیہ نشان ہے،
سانحہ ماڈل ٹاؤن کی غیر جانبدار تفتیش کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے مورخہ 5دسمبر 2018کو سپریم کورٹ اسلام آباد میں سماعت کی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفشیش کے لیے ازسرنو نئی جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ ہوا,مورخہ 3جنوری 2019 کو پنجاب حکومت نے اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا مورخہ 14جنوری 2019سے لیکر 20مارچ 2019تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے تمام ملزمان باشمول اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ سابق pso ٹو وزیراعلی ڈاکٹر توقیر شاہ سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا سے انویسٹیگیشن کی، جے آئی ٹی نے ملزمان کا چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ایک ملزم کانسٹیبل خرم رفیق کی درخواست پر مورخہ 22مارچ 2019کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے
جے آئی ٹی کا نوٹی فکیشن معطل کر کے جے آئی ٹی کو مزید کام کرنے سے روک دیا،جے آئی ٹی کے نوٹیفکیشن کی معطلی کے خلاف فل بینچ کے عبوری حکم مورخہ 22مارچ 2019کے خلاف سپریم کورٹ اسلام آباد میں cpLAs دائر کی تھی جس کی سماعت مورخہ 13فروری 2020کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ میں نیا بنچ تشکیل دے کر ترجیحاً تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی ڈائریکشن دی
لیکن جے آئی ٹی کی تشکیل کے خلاف جو رٹ دائر ہوئی تھی وہ لاہور ہائی کورٹ کے 7رکنی لارجر بینچ کے پاس ابھی زیر سماعت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین حصول انصاف کے لئیے مسلسل قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں قوی امید ہے پاکستان عوامی تحریک کے بے گناہ کارکنان کو قتل کرنے والے اور قتل کروانے والے اپنے عبرت ناک انجام سے ایک نہ ایک دن ضرور دو چار ہوں گے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف ملے گا انشاء اللہ
وزیر اعظم سمیت مقتدر اداروں کے سربراہان کے سارے وعدے ہوا ہوگئے۔پاکستان عوامی تحریک نے ہرایک کوانصاف کی فراہمی اور اپنے کیے ہوئے وعدوں کوپوراکرنے کامعقول وقت دیا۔موجودہ وزیراعظم الیکشن سے پہلے اپنے ہرجلسے میں،ہرپریس کانفرنس میں،ہرجگہ،ہربات میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کےشہداء کاذکرکرنا،بے گناہوں کوانصاف دلانا،مجرموں اورظالموں کوپھانسی کے پھندے پرلٹکانے کامطالبہ نہیں بھولتے تھےاوراپنی حکومت آجانے پہ پہلے ہی مہینے اسیران سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کوانصاف دلانے کے وعدے کرتے تھےالیکشن سے پہلے چارسال تک سانحہ ماڈل ٹاؤن پرسیاست چمکانے والے اقتدارملتے ہی،وزیراعظم بنتے ہی انصاف اورعوامی ریلیف کے سارے دعوے،وعدےبھول گئے۔حکومت ملنے کے بعدکبھی بھی اپنی زبان پرسانحہ ماڈل ٹاؤن کاذکرتک نہ کیا۔بحیثیت وزیراعظم اسیران اور شہداء کے لواحقین سے ہمدردی کے دوبول تک نہ بول سکے۔جس سسٹم کے خلاف تبدیلی کی بات کرتے تھے اسی سسٹم کاحصہ بن گئے۔پاکستانی قوم کوبھی دھوکادیااورشہداء ماڈل ٹاؤن کوبھی دھوکادیا۔چیف جسٹس صاحب جنہوں نے یتیم بیٹی بسمہ امجدکے سرپر ہاتھ رکھ کرکہاتھاکہ بیٹاآپ کوانصاف ملے گامیرے ہوتے ہوئے ڈرنا نہیں اورکسی بھی قسم کااحتجاج نہ کرنے کی شرط پرسات دن میں انصاف کی فراہمی کایقین دلاتے ہوئے وعدہ کیاتھا،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب کے سب وعدے اڑن چھو ہوگئے۔سب کے سب دعوے تہہ خاک چلےگئے۔پاکستان عوامی تحریک نے قانون اورآئین پاکستان کااحترام کیا،صبراورامن کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑا وزیراعظم کواپنے کیے ہوئے وعدے پوراکرنے کاپوراموقع فراہم کیا،پاکستان عوامی تحریک نے صبروتحمل کاہرممکن مظاہرہ کیااوروعدوں کی لاج رکھی مگرکب تک۔وزیراعظم صاحب کب تک۔۔۔ہمیں توآج بھی یادہے آپ مجروموں اورظالموں کوچوک میں سرعام پھانسی پرلٹکانے کی بات کرتے تھے,آپ مجرمان کوعبرتناک سزادینے کی بات کرتے تھے،آپ خودچشم دیدگواہی کی بات کرتے تھے،ہمیں یادہے آج بھی۔آج بھی ہم نہیں بھولے۔ہماری آنکھوں میں آج بھی اپنی معصوم،بے گناہ بہنوں کی لاشیں ہیں،گھروں کے سربراہان کی لاشیں ہیں،باکردارنوجوانوں کی لاشیں ہیں،بزرگوں کے زخموں سے ٹپکنے والے خون کی ایک ایک بوندہمیں رات بھرسونےنہیں دیتی وہ یتیم بچی بسمہ امجد کی آواز ہمارے کانوں میں آج بھی گونج رہی ہے،کیوں مارامیری ماماکو،کیوں ماراہماری پھوپھوکو،دوبچوں کے باپ کی جوان بیوہ کی آہیں آج بھی گونج رہی ہیں کیوں مارامیرے شوہرکو،کیوں ماراہمارے بھائی کو،کیوں ماراہمارے جوان بیٹے کو،کیوں ماراہمارے گھرکے واحدکفیل کو،کیاقصورتھاان کا۔ساری دنیانے دیکھاہرآنکھ گواہ ہے،ہزاروں ثبوت شاہد ہیں،مگرانصاف؟؟؟پاکستان عوامی تحریک نے تمام قانونی تقاضے پورے کئے،مگرانصاف؟؟؟
تاریخ پہ تاریخ،تاریخ پہ تاریخ
مگرانصاف۔۔۔ندارد؟؟؟
اے حاکم وقت تیراضمیرکیوں سوگیا۔تونے لب کیوں سی لئے؟اے منصفوکہاں ہے تمھاری منصفی تم نے منہ کیوں پھیرلیا؟کیاتم نے مرنانہیں۔اگرکوئی ریاستی جابر ظالم گھوڑاتمہارے جوان بھائی کوساری دنیاکے سامنے روندڈالے،اگرکوئی تمہارے بزرگ باپ کوساری دنیا کے سامنے ڈنڈے مارمارکرلہولہان کردے،تمہاری آبرو،تمہاری عزتیں،تمہاری لاڈلی بیٹیاں ساری دنیا کے سامنے جابرظالم کی گولی کاشکارہوجائیں،تمہارے اپنے سگے جابرظالم کے بھیجے ہوئے شکاری کتوں کے نوکیلے دانتوں کاشکارہوکرساری دنیاکے سامنے اپنی جان کھوبیٹھیں،تمہارے گھرکاواحد کفیل ظالم کی گولی سے ہمیشہ کیلئے اپاہج ہوجائے،تمہارے جوان،بزرگ،بچے،خواتین ساری دنیا کے سامنے ظالموں،جابروں،قاتلوں کے درندوں کی گولیوں سے چھلنی ہوجائیں اورتمہیں انصاف نہ ملے توکیاتم ظالمو،قاتلوں اورمجرموں کوملک سے باہرجانے دوگے۔کیاجابراورظالم کے مہروں کو،ظالم کے بھیجے شکاریوں کوترقیاں دوگے۔اگرتمہارے سامنے تمہارا گھراجاڑنے والے دندناتے پھررہے ہوں توکیاتم ان کوپروٹوکول اوربرتریاں دوگے؟؟؟
تمہیں یادہوکہ نہ یادہو
ہمیں یادہے وہ سارا ظلم
اے سوئے ہوئے بےضمیر منصفو۔ہم نہیں بھولیں گےہم انصاف لے کررہیں گےتمہیں انصاف دیناہوگاہم قصاص لے کے رہیں گےاورتمہیں قصاص دلواناہوگا۔اے حکومت وقت کے تاجورو،اے قوم کے جھوٹے اورلٹیرے راہبرو!یادرکھناسات سال سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لواحقین اوراسیران انصاف کیلئے دربدردھکے کھارہے ہیں،بے قصورجیلوں میں سزائیں کاٹ رہے ہیں۔یادرکھناان معصوموں کادربدرٹھوکریں کھانا،جیلیں اورسزائیں کاٹنارائیگاں نہیں جائے گاتمھیں اس کاحساب چکاناپڑے گااس دنیامیں بھی اور آخرت کے دن بھی،اسی سانحہ ماڈل ٹاؤن کےحق میں،عدالتوں اورحکومتوں کی طرف سےملنے والی مایوسیوں اورانصاف نہ ملنے پرپاکستان عوامی تحریک سترہ جون 2021ء کوملک بھرمیں شہرشہر،گاؤں گاؤں احتجاجی مظاہرے کرے گی اوراپنااحتجاج ریکارڈکرائے گی۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Free WordPress Themes