ارمان دل   


کو شائع کی گئی۔ June 12, 2016    ·(TOTAL VIEWS 971)      4 Comments

Uzma-1
قسط نمبر17
رائٹر عظمی صبا
جانتی ہو کیا کیا تم نے؟؟؟
آخر مسئلہ کیا ہوا ہے؟؟؟؟وہ بے چینی سے پوچھتے ہوئے اس کے قریب کرسی پر بیٹھ گئی ۔
مسکان۔۔۔؟؟؟
کانپ کیوں رہی ہو تم؟؟؟؟اس کو سہما ہوا دیکھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
کچھ نہیں۔۔۔۔!!
کچھ مت پوچھو مجھ سے۔۔۔۔وہ کانپتے ہوئے بولی۔
کچھ مت پوچھیئے ان سے۔۔۔۔وہ غصہ سے کانفرنس روم میں داخل ہوتے ہوئے گرجا۔
اب ان کا کوئی جواب،کوئی دلیل قابلِ قبول نہیں ہو گی۔۔۔۔۔اس کو اس طرح غصہ میں دیکھ کر دونوں اٹھ کھڑی ہوئیں کیونکہ پہلی بار دونوں نے یوں اسے غصہ میں  دیکھا۔
کہا تھا ان سے میں نے۔۔۔مگر۔۔۔۔۔!!!وہ بات کرتے کرتے خاموش ہو گیاجبکہ وہ دونوں اس کی بات سنتی رہیں۔۔۔!!
سمجھ میں نہیں آتا مجھے آخر  آج ہو کیا گیا تھا۔۔۔وہ غصہ میں بولا۔
سر۔۔۔۔!!وہ خاموشی و توڑتے ہوئے بمشکل بولی۔
میں نے پہلے ہی آپ سے کہہ دیا تھا۔۔۔۔
کہ میں نہیں کر پاؤں گی۔وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی۔
کیا؟؟؟وہ حیران ہوا۔
کیا کہہ دیا تھا آپ نے۔۔۔۔۔وہ غصہ سے بولا۔
بیس منٹ  پہلے کہتی ہو کہ میں نہیں کر سکتی۔۔۔۔!!
 کوئی ڈرامہ نہیں تھا کہ آپ ریڈی نہیں تو میں ریلیکس ہو جاؤں۔۔۔!!!   
ہوئی ہے ہمیں ۔۔۔وہ غصہ سے بولا  ایمبیرمنٹ فیل     آپ نہیں جانتی شاید ،کتنی  
سر۔۔۔۔۔
پلیز۔۔۔۔۔سوری۔۔۔۔!!اس کو غصہ میں دیکھ کر انشراح بولی۔
میں اس کی طرف سے معذرت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔
پلیز۔۔۔وہ التجائیہ بولی۔
بات معذرت کی نہیں مس انشراح۔۔۔!!
 ٹرسٹ کی ہے۔۔۔۔  بات تو
جو مجھے ان پر تھا۔۔۔۔وہ اشارہ کرتے ہوئے انشراح سے کہنے لگا جبکہ مسکان اس کی یہ بات سن کر چونک سی گئی۔
مگر ان کو۔۔۔۔۔۔!!!وہ زچ ہو کر ایک دم سے  کمرے سے باہر نکل گیا۔
سر۔۔۔۔!!!اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مگر  وہ وہاں سے جا تے ہی مسکان کی طرف مائل ہوئی۔
مسکان۔۔۔۔
رکو۔۔۔۔!!
رکو تو۔۔۔۔!!
مسکان۔۔۔!!!اس کو وہاں جاتا دیکھتے ہی پیچھے سے آواز دینے لگی۔مگر وہ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھتی گئی۔
 ایکسکیوز می ۔۔۔۔!!!شکیل اس کو روکتے ہوئے اس کے آگے آ کھڑا ہوا ۔
جی۔۔۔۔۔!!وہ اس کے ہوں سامنے آنے پر چونکی۔
  پریزنٹیشن چیک کروا دیں ذرا۔۔۔وہ اس سے مسکراتے ہوئے بولا۔  آپ آج کی
جی۔۔۔!!وہ چونکی۔
ہاں۔۔!!
بہت مشکل سے کل کا ٹائم لیا۔۔۔!!
اب پلیز کل کوئی گڑبڑنہ ہو۔۔۔۔
اس لئے۔۔۔!!
 آپ ہمیں بر یف کر دیں اس کے بارے میں۔۔۔!!انشراح اسکو یوں اس کمے سامنے آتا دیکھ کر وہیں رک گئی ۔   
جی۔۔۔
 یو ۔ایس ۔بی بیگ میں سے نکال کر  دیتے ہوئے سنجیدگی سے جانے لگی۔ یہ لیجیئے۔۔۔۔وہ اسے
۔۔۔!!!Excuse me
چلیئے ۔۔۔!!اسے اشارۃَ َ اپنے ساتھ جانے کے لئے کہنے لگا۔
جی۔۔۔۔!!
مجھے دیر ہو جائے گی۔۔۔!!
پلیز۔۔۔۔۔!!وہ معذرت کرتے ہوئے بولی۔
دیکھ لیجیئے ۔۔۔!!
ارمان سر ویسے بھی بہت غصہ میں ہیں۔۔۔
بہتر یہی ہے کہ آپ۔۔۔۔
ہاں۔۔۔!!
چلو۔۔۔!! مسکان۔۔۔۔!!!! انشراح اس کی بات سنتے ہوئے فوراَ َ اسے آگے بڑھتے ہوئے مسکان کو جانے لے لئے کہنے لگی۔جواباَ َ  وہ مسکرانے لگا۔
٭٭٭
مجبوریاں ،بے بسیاں اگر نہ ہوں تو زندگی کتنی حسین لگے نا۔۔۔!!
میری زندگی بھی کیا ہے،ستاروں کے جھرمٹ کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔!!
 شئیر کروں بھی تو کس سے؟؟؟  اپنی زندگی کی داستان  
کسی سے نہیں۔۔۔۔۔وہ افسردہ ہوتے ہوئے کمرے کی کھڑکی سے باہر ستاروں کے جھرمٹ کو دیکھتے ہوئے ڈائری پر اپنی باتیں تحریر کرنے لگی۔
بہت برا ہوا آج ۔۔۔!!!
مگر۔۔۔۔۔۔!!میں اتنی کمزور  کیسے پڑ گئی آخر؟؟؟؟وہ خود سے سوال کرتے ہوئے اپنا قلم سر پر کھجانے لگی۔
مجھے کمزور نہیں ہونا۔۔۔!!وہ خود سے عہد کرتے ہوئے بولی۔
خیر۔۔۔!سانس بھرتے ہوئے  وہ پر سکون ہوتے ہوئے ڈائری کو بند کرتے ہوئے اٹھی۔
کتنی روشنی ہے نااس اندھیرے میں بھی۔۔۔۔وہ کھڑکی کے پاس جاتے ہوئے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر کہنے لگی۔
نجانے۔۔۔
مجھے میرا ستارہ کب ملے گا ۔۔۔
ایسا چمکتا ہوا ستارہ۔۔۔۔!
جو میری اندھیری دنیا    میں بھی روشنی بھر دے ۔۔۔۔!!!وہ حسرت سے وہاں کھڑی ستاروں کو دیکھتے ہوئے خؤد سے باتیں کرنے لگی۔
٭٭٭
سب ٹھیک ہو جائے گا ریلیکس۔۔۔شکیل اسے سمجھانے کی کوشش کرے لگا۔
کیا ریلیکس یار۔۔۔!!وہ بری طرح سے بولا۔
پتہ نہیں اب کل کیاکرتی ہے۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا۔۔۔!!اسے سمجھاتے ہوئے۔
تم نے دیکھا نہیں۔۔۔۔وہ شرمندہ تھی۔۔۔
ہاں جانتا ہوں۔۔۔
مگر آج کیوں کیا اس نے ایسا۔۔۔؟؟؟وہ کشمکش میں مبتلاہوا۔
بھئی کس نے کیا کیا؟؟دونو ںکو گفتگو کرتا ہوا دیکھ کر اس کے روم میں  داخل ہوتا ہوادیکھ کر شاہ میر  پوچھتے ہوئے پاس پڑے ٹیبل پربسکٹس  اٹھا کر کھانے لگا۔
ایک لڑکی بھا گئی ہے تمہارے بھائی کو۔۔۔شکیل شرارتی انداز میں بولا۔
 سٹاپ اٹ شکیل۔۔۔!وہ اسے گھورتے ہوئے بولا۔
کیا لڑکی؟؟؟؟
 اور  وہ بھی بھائی کو امپاسبل ۔۔۔!!!شاہ میر مسکراتے ہوئے  شکیل سے کہنے لگا۔۔۔   
ہاں۔۔۔۔
ٹھیک کہتے ہو۔۔!!شاہ میر کو دیکھ کر ہنستے وہئے کہنے لگا۔
ویسے لڑکی بری نہیں ہے۔۔۔!!پھر سے ارمان کو تنگ کرتے ہوئے بولا۔
اوہ۔۔۔۔ہو۔۔۔ارمان اسے خفگی سے گھورنے لگا۔
ارمان بھائی۔۔۔۔!!
کیسی رہی میٹنگ ؟؟؟حیا کمرے میں داخل ہوتے ہوئے مسکرائی۔  
تم نے جو بددعا دے دی تھی۔۔۔!!وہ خفگی سے بولا۔
آں۔۔۔ہاں۔۔۔!!وہ فاتحانہ انداز میں مسکرائی ۔
پھر دیکھ لیا ہم سے پنگا ناٹ چنگا۔۔۔۔!!وہ شرارتی انداز میں مسکرائی۔
اچھا۔۔۔۔چھوڑ وبھی اب غصہ۔۔۔
کھانا کھلاؤ مجھے اب۔۔
قسم سے بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔!!شکیل انگڑائی لیتے ہوئے بولا۔
بھوک لگی ہے،مگر لگتا تو یہی ہے کہ شکیل بھائی آپ کو نیند آرہی ہے۔۔۔۔وہ طنز کرتے ہوئے بولی۔جس پر شکیل اسے گھورنے لگا۔
٭٭٭
یہ کیا کررہی ہو تم؟؟؟شاہ میر  اسے ارمان کا بیگ کھولتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا۔
ش ۔۔ش۔۔۔۔!!وہ اسے چپ رہنے کا اشارہ کرنے لگی۔وہ اس کے بیگ میں کچھ پمفلٹ رکھتے ہوئے  مسکراتے ہوئے شاہ میر کی طرف دیکھنے لگی۔
حیا۔۔
حیا۔۔۔عقل کرو۔۔۔
یہ کیا کررہی ہو۔۔۔؟؟؟؟وہ اسے روکتے ہوئے بولا۔
چپ رہو۔۔۔!!!وہ شرارتی انداز  میں مسکرائی۔
یہ تم دونوں یہاں  کیا کررہے ہو؟؟وہ کمرے میں اچانک  داخل ہوتے ہوئے ان دونوں کو وہاں پا کر حیرانگی سے پوچھنے لگا۔
ہم۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔ دونوں ڈرتے ہوئے اسے اچانک پا کر بوکھلا گئے ۔۔۔!!
کیا؟؟؟وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔؟؟
وہ۔۔۔۔ بھائی۔۔۔۔!!!
ہاں۔۔۔۔آپ کا لیپ ٹاپ چاہیئے تھا۔۔۔وہ بہانے بناتے ہوئے بولا۔
لیپ ٹاپ؟؟؟کیوں؟؟؟
وہ۔۔۔۔!!!حیا شاہ میر کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی۔
اصل میں۔۔۔۔حیا بہانہ سوچنے لگی۔
ہاں۔۔۔!!!
   اگنور کرتے ہوئے مسکرایا۔۔۔  اسائنمنٹ کا کام مکمل کرنا تھا۔۔۔۔۔ارمان ان دونوں کو گھورتے ہوئے تھوڑا بہت سمجھ چکا تھا کہ گڑبڑ ہے مگر
ہاں۔۔۔۔!!
تو لے لو۔۔۔۔۔!!مسکراتے ہوئے وہ لیپ ٹاپ  دینے لگا۔
جی۔۔۔دونوں وہاں سے لیپ ٹاپ لے کر جاتے ہوئے مسکرانے لگے۔
٭٭٭
جاری ہے

Readers Comments (4)
  1. Hanzala Shahid says:

    Great work aapa

  2. sara says:

    remaining chapters????????





Free WordPress Themes

Free WordPress Themes