ارمان ِ دل۔۔۔   


کو شائع کی گئی۔ August 13, 2016    ·(TOTAL VIEWS 678)      No Comments

Uzma-1
قسط نمبر26
رائٹر ۔۔۔ عظمی صبا
ویسے تم اور ارما ن سر دونوں کی جوڑی کمال لگ رہی تھی۔۔۔انشراح گاڑی کی بیک سیٹ مسکان سے ہنستے ہوئے
کہہ رہی تھی۔
جوڑی؟؟؟ وہ اس کی بات سنتے ہوئے چونکی۔۔۔حجاب لئے ہوئے بلیک لبا س میں ملبوس اس کا چہرہ کافی چمک رہا
تھا مگر ا نشراح کی بات سے اس کے دماغ کی بتیاں روشن ہو گئیں تھیں۔۔۔!!
ہاں ۔۔۔!!وہ مسکرائی۔
بدتمیز ۔۔۔!!چپ رہو۔۔۔!!ڈرائیور کے آئینے سے پیچھے دیکھنے پر وہ اسے کہنی مار کر اشارۃَ َ سمجھانے لگی۔
٭٭٭
لفظوں کی چوٹ سے اکثر دل شکستہ ہو کر رہ جاتا ہے مگر امید اور انتظار ہی دو ایسے پھول ہیں جو ناممکن کو بھی
ممکن بنا دیتے ہیں۔۔۔آج بہت خوش ہوں میں،بہت زیادہ خوش۔۔۔!!کامیابی اتنی مل جاے گی کبھی سوچا نہیں تھا مگر اب
وہ مل جائے جو میری سوچوں کا محور ہے۔۔مگر اس کی سوچ اور عمل میں مجھ سے زیادہ تضاد ہے اور سب سے
اہم بات میں دل میں چھپی سچی محبت کو یوں سرِ عام ڈرامے کا نام نہیں دے سکتی۔۔!!وہ گھپ اندھیرے میں ٹیبل
لیمپ روشن کیے اس کو سوچتے ہوئے ڈآئری پر سب لکھنے لگی۔
٭٭٭
تھک گئی آج تو۔۔۔!!وہ تھکن کا اظہار کرتے ہوئے بولی۔
ہاں میں بھی۔۔۔!!
اچھا خاصا آفس میں کام کرنا پرتا تھا۔۔۔مگر تمہاری مہربا نیاں ۔۔!!وہ گلہ کرتے ہوئے بولی
کیا مطلب؟؟؟وہ چلتے چلتے رکی۔
میری وجہ سے؟؟؟وہ چونکی۔
ہاں تو اور۔۔۔
کس نے کہا تھاسخی بننے کے لئے۔۔۔
خود تو پھنسی ہی مجھے بھی الجھا دیا۔۔وہ بیگ سے موبائل نکالتے ہوئےفون ملانے لگی
انشراح؟؟وہ افسردہ ہوئی
دیکھو ہم سے آج کام کرنے نہیں ہوا۔۔۔
بلکہ گائیڈ کرتے کرتے تھک گئے۔۔
ورکرز کے حوصلے کی تو داد دینی چاہیئے نا!!!وہ اسے سمجھاتے ہوئے دوبارہ چلنے لگی۔
ہاں!دینی تو چاہیئے !!مگر عادی ہیں یہ سب۔۔۔وہ ذرا الجھے ہوئے لہجے سے بولی۔
ہاں!!
ٹھیک کہا۔۔۔!!وہ دھیما سا مسکرائی۔
عادت بدلی نہیں جاسکتی اور نہ ہی عادت پختہ ہوتے ہوئے تھکن ہوتی ہے بس عادی لوگ اسی لئے تو زندگی کو
جیتے ہیں اپنے کام سے محبت کرکے نا کہ بڑے لوگوں کی طرح زندگی گزار کے۔۔۔۔
بڑے لوگوں کی زندگی میں تو صرف مادہ پرستی ہی اہم ہوتی ہے۔۔!!وہ نہایت سنجیدگی سے اسے کہتے ہوئے مسکرا
رہی تھیجبکہ انشراح اس کی بات کو سن کر خاموش رہ جاتی ہے۔
کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک کہہ دیجئے گا۔۔۔!!وہ ان دونوں کو کینٹین میں بیٹھے چائے پیتا دیکھ کر
کہنے لگا۔
جی کہہ دیں گے۔۔۔!!انشراح لاپرواہی سے بولی۔
خیریت ؟؟
اتنی روکھی سی گفتگو؟؟؟وہ اس پر گہری نظر ڈالتے ہوئے بولی۔
سوری ۔۔!!
شکیل بھائی۔۔۔مسکان ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے بولی۔
اصل میں طبیعت ٹھیک نہیں ذرا اس کی ۔۔۔وہ دھیما سا مسکراتے ہوئے بولی۔
ام م ۔۔۔۔او ہو۔۔
کیا ہوا مس انشراح؟؟؟وہ پوچھنے لگا۔
کچھ نہیں۔۔وہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔
اب آپ جائیں گے یہاں سے؟؟؟وہ اسے وہاں سے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
انشراح۔۔۔!!مسکان اسے گھورنے لگی۔
شکیل بھائی ۔۔۔!!وہ بمشکل مسکراتے ہوئے اسے روکنے لگی۔
آپ بھی لیجیئے نا۔۔۔وہ بسکٹ اور چائے کا کپ آگے کرتے ہوئے دھیما سا مسکرائی۔
نہیں۔۔۔
شکریہ بہت بہت۔۔۔!!وہ ایک نظر انشراح پر ڈالتے ہوئے مسکرا کر مسکان سے بات کرنے لگا اور وہاں سے چلا گیا۔
یہ کیا کیا تم نے یار؟؟؟وہ خفگی سے بولی۔
کیا؟؟وہ حیرانگی سے پوچھنے لگی جیسے جانتی ہی نہ ہو۔
انشراح۔۔۔!!
برائی ہی کیا ہے اگر وہ دو منٹ یہاں بیٹھ گیا؟؟وہ سوالیہ انداز میں قدرے خفگی سے پوچھنے لگی۔
برائی ہے اس میں۔۔۔وہ نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولی۔
مطلب؟؟؟وہ معنی خیز انداز سے پوچھنے لگی۔
دیکھو مسکان۔۔۔
ضروری نہیں تم اسے بھائی کہتی ہو و وہ بھی تمہیں بہن ہی سمجھتا ہو۔۔۔!!وہ تفصیلاَ َ کہنے لگی۔
میں سمجھی نہیں۔۔۔
مجھے نہیں لگتا کہ ۔۔۔مسکان بات مکمل کرتے کرتے رکی۔۔۔
تمہیں نہیں لگتا ۔۔۔!!وہ طنزیہ مسکرائی۔
کیا فرق پڑتا ہے اس سے۔۔
ایک نمبر کا فلرٹی انسان ہے یہ۔۔۔!!
ٹھیک ہے آفس سے متعلق کام میں بات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔۔
مگر یوں بےتکلفی۔۔۔۔!!وہ باقی کی بات نظروں ہی نظروں میں اسے سمجھا چکی تھی۔
٭٭٭
آپی۔۔۔!!گڑیا اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے چھت پرآپہنچی۔
پتہ تھا مجھے یہیں ہوں گی آپ ۔۔۔!!وہ مسکرائی۔
ہاں۔۔۔
تو اور کہاں ہو سکتی ہوں بھلا۔۔۔وہ کبوتروں کے پنجرے میں پانی کا پیالہ رکھتے ہوئے مسکرائی۔
چھوڑیں ان کی جان اب ۔۔۔!
چلیئے بازار چلتے ہیں۔۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہنے لگی۔
گڑیا۔۔۔۔!!
رکو تو۔۔۔۔وہ پلیٹ میں باجرہ ڈالنے لگی۔
ہاں بولو اب۔۔۔!!وہ کام سے فارغ ہوتے ہی اس کی جاب متوجہ ہوئی۔
کیا چاہیئے تمہیں؟؟؟وہ مسکراتے ہوئےپوچھنے لگی۔
آپی۔۔۔
کالج میں فنکشن ہے۔۔۔
اور میرے پاس کوئی نیا سوٹ نہیں۔۔۔وہ افسردہ ہوتے ہوئے بولی۔
اوہ۔۔۔میری گڑیا۔۔
بس اتنی سی بات ۔۔!وہ پیار سے اس کا گال تھپتھپانے لگی۔
بے فکر رہو۔۔۔!!
چلو چلتے ہیں۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی۔
٭٭٭
میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو ۔۔۔
آئی رت مستانی کب آئے گی تو۔۔۔!!شکیل اسے گہری سوچ میں ڈرائیو کرتا دیکھ کر شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے
گانے لگا۔جبکہ ارمان گھور کر اس پر گہری نظر ڈالنے لگا۔
ارمان ویسےوہ کیا دن تھے نا۔۔۔
بہت ناز تھا تمہیں خود پر۔۔۔
اور آج دیکھو ۔۔وہ شرارتی لہجہ میں بولا۔
کیا اج؟؟؟وہ کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
تمہاری حالت۔۔۔!!وہ مسکرایا۔
کیا ہوا میری حالت کو؟؟؟ٹھیک ہوں میں۔۔۔!!وہ خود کو نارمل کرتے ہوئے بولا۔
لگتا نہیں۔۔۔۔۔!!وہ کندھوں کو اچکاتے ہوئے بولا۔
ایک بات تو بتاؤ مجھے۔۔۔!!وہ اجازت طلب کرتے ہوئے بولا۔
ہاں!!کیا؟؟؟؟گاڑی کو سگنل پر روکتے ہوئے وہ اس کی طرف دیکھنے لگا۔
کیا تم واقعی سیریس ہو اس سے محبت کو معاملے میں؟وہ شرارتی انداز میں بولا۔
میرا مطلب اگر یہ مذاق ہے تو پلیز ۔۔۔!!وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔
شکیل۔۔۔وہ حیران ہوا۔
یا تو تم مجھے جانتے نہیں یا پھر میری فیلنگز کا احساس نہیں۔۔!
کیسے دوست ہوتم۔۔۔وہ بے بس ہوتے ہوئے بولااور گاڑی کو ریسٹورنٹ کے سامنے کھڑی کرتے ہوئے اس کی طرف
دیکھنے لگا۔
٭٭٭
آپی یہ فراک کیسی ہے؟؟؟وہ سفید فراک کو ہاتھ میں لئے اس سے پوچھ رہی تھی۔
ہاں بہت پیاری ہے۔۔۔!!
لے لو۔۔۔!!وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
اب جیولری بھی چاہیئے مجھے۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے ضد کرنے لگی۔
ہاں!کیوں نہیں۔۔۔!!
چلو۔۔۔۔!فرا ک کو پیک کرواتے ہوئے شاپنگ بیگ کو پکڑتے ہوئے بولی۔
آپی۔۔۔!!پی ۔سی ۔او ۔پر نظر پڑتے ہوئے مسکان سے بولی۔
ہاں بولو۔۔۔!!جیولری شاپپ جاتے جاتے وہ رکی۔
وہ مجھے۔۔۔گلہ صاف کرتے ہوئے بولی۔
میرا مطلب ہے کہ مجھے وہاں سے فرینڈ شپ کارڈ لینے ہیں ۔۔۔وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔
ہاں!چلو۔۔۔وہ مسکرائی۔
نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔
وہ آپ ۔۔۔!!!جیولری دیکھیئے۔۔۔
میں بس ابھی آئی ۔۔۔۔وہ کہتے ہی جلدی سے وہاں سے چلی گئی،مسکان کو عجیب لگا مگر اس نے اگنور کر دیا۔
٭٭٭
ہیلو۔۔۔!!
کاشف۔۔۔!!پی۔سی۔او۔ سے فوراَ َ نمبر ملاتے ہوئے جلدی جلدی بات کرنے لگی۔
میں گڑیا۔۔۔!
ہاں!
کہاں ہو یار۔۔۔!!بہت مس کرتا ہوں تمہیں۔۔۔وہ افسردگی سے بولا۔
ہاں!میں بھی۔۔۔
کل بارہ بجے کالج کے باہر آجانا۔۔۔
میں آجاؤں گی۔۔۔
اچھا باقی باتیں کل کروں گی۔۔۔وہ جلدی جلدی بات ختم کرتے ہوئے ریسیور رکھنے لگی۔۔۔
بھائی کتنا ہوا؟؟؟کال کا بل پوچھتے ہوئے وہ مسکرائی۔
بیس روپے۔۔۔وہ روپے پکڑاتے ہی فوراَ َ مسکان کے پاس آ پہنچی۔
٭٭٭
لے آئی کارڈز؟؟؟جیولری پسند کرتے ہوئے وہ اسے مسکراتا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگی۔
نہیں۔۔۔
پسند نہیں آئے مجھے۔۔۔وہ ناپسندیدگی کا اظہارکرتے ہوئے بولی۔
چلو۔۔۔کوئی بات نہیں ۔۔۔۔
کہیں اور سے دیکھ لیتے ہیں۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
اچھا۔۔۔
بتاو کیسی ہے یہ جیولری؟؟
بہت اچھی لگے گی تم پر۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے اسے دکھاتے ہوئے بولی۔
ہاں!!بہت اچھی ہے۔۔۔!وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
٭٭٭
آج آپ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے بھائی۔!!وہ مسکراتے ہوئے ارمان سے پوچھنے لگی۔
آپ کے بھائی کے ساتھ ایک سپیشل کیس ہے۔۔۔وہ شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئےشازیہ سے کہنےلگا۔
سپیشل کیس؟؟؟وہ حیران ہوئی۔
چھوڑیں آپ اسے ۔۔۔!!وہ نارمل ہوتے ہوئے بمشکل مسکرایا۔
کہاں جا رہےہو؟؟؟اسے فون ریسیو کرتا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگا۔
آتا ہوں۔۔۔!وہ فون سنتے ہوئے کچھ دور جا کر کھڑا ہوگیا۔
ارمان بھائی ۔۔۔!!یہ شکیل کیا کہہ رہے تھے۔۔۔وہ بات کو واضح طور پر پوچھنے لگی۔
وہ۔۔!!
کچھ نہیں۔۔۔!!وہ قہقہہ لگا کر ہنسا۔
شکیل تو پاگل ہے۔۔۔!!وہ مسکرایا۔
ہاں یہ تو پتہ ہے مجھے بھی۔۔۔!!وہ ہنستے ہوئے ارمان سے کہنے لگی۔
٭٭٭
اب تو خوش ہو نا!وہ مارکیٹ سے باہر آتے ہوئے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی۔
ہاں۔۔۔!!
بہت خؤش ہوں۔۔وہ گہری سانس لیتے ہوئے مسکرائی۔
ابھی وہ اس سے مسکراتے ہوئے بات کررہی تھی کہ ا سکا دھیان دور کھڑے ارما ن پر پڑا جو سڑک پر کھڑا شازیہ
سے مسکراتے ہوئے بات کررہاتھا ۔اس کے چہرے پہ آئی مسکراہٹ یک دم افسردگی میں بدل گئی۔
کیا ہواآپی؟؟وہ اسے اچانک خاموش دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
کچھ نہیں۔۔۔!!وہ لاپرواہی سے بولتے ہوئے ٹیکسی کو روکنے لگی۔
٭٭٭
مجھے اپنے دل سے خیال نکال دینا چاہیئے ۔بھلامیں کیوں سوچتی ہوں ان کے بارے میں۔۔۔
کہاں رشتہ ہی نہیں کوئی وہاں کیسی امیدیں۔۔۔!!وہ آہ بھرتے ہوئے چاند کی روشنی میں کرسی پر بیٹھی ڈائری لکھ رہی
تھی۔کمرے کی کھڑکی سے چاند اور جگمگاتے ستارے ایک دل کش منظر پیش کررہے تھے۔
یااللہ ۔۔۔!!
میری مدد فرما۔۔۔!!
میں جلد ہی ا سکو اس کے روپے لوٹا دوں۔۔۔
مجھ سے بالکل بھی نہیں ہو گا وہ سب۔۔۔!!وہ لکھتے لکھتے اشک بار ہوگئی۔
٭٭٭
کچھ بھی ہو جائے کاشف۔۔۔!
میں تم سے دور ہرگز نہیں ہو سکتی۔۔۔وہ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرنے لگی۔
ہاں۔۔!!
اور میں بھی۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے بولا۔
ہو اکیا تھا؟؟وہ وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔
اوہ۔۔ہو۔۔!!
چھوڑو۔۔۔وہی فضول باتیں۔۔۔!!منہ بسورتےہوئے بولی۔
امی نے اس دن تم سے بات کرتے ہوئے سن لیا ،بہت مارا مجھے ۔۔!!بہت۔۔!!وہ بات کرتے کرتے اشک بار ہوئی۔
مگر میں نے بھی کہہ دیا۔۔۔وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔
مر جاؤں گی،مگر اسے نہیں چھوڑوں گی۔۔۔وہ فاتحانہ طور پر کہنے لگی۔
وہ۔۔سب تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔وہ اس کی بات سنجیدگی سے سنتے ہوئے بولا۔
مگر۔۔۔
وہ امی ہیں تمہاری۔۔۔
ہاںتو۔۔۔!!میں بھی بیٹی ہوں نا ا ن کی۔۔!!
میں کوئی مسکا ن آپی تھوڑی نا ہوں۔۔۔جو ان کے اشاروں پر ناچوں۔۔۔وہ دوپٹہ ٹھیک کرتےہوئے منہ پھلاتے ہوئے
بولی۔
ام م م م۔۔۔۔!!وہ اس پر گہری نظر ڈالتے ہوئے مسکرایا۔
بہت پیاری لگ رہی ہو تم۔۔وہ رومانٹک انداز میں کہتے ہوئے مسکرایا۔
ہاں۔۔۔!!پتہ ہے مجھے۔۔۔!!وہ فخریہ مسکرائی جس پر کاشف کو بھی ہنسی آگئی۔
٭٭٭
مس مسکان۔۔۔وہ فون پر بات کرتے ہوئے بولا۔
جی سر۔۔۔!!وہ سنجیدگی سے بولی۔س
مجھے آر اینڈ ڈی والا فولڈر تو میل کر دیں ذرا۔۔۔
جی سر۔۔۔وہ فون رکھتے ہی فوراَ َ میل سینڈ کرنے لگی۔
ایک بجنے کو ہے اور تم ہو کہ ابھی تک۔۔۔انشارح اس کے روپ میں داخل ہوتے ہی اسے ڈانٹنے لگی۔
یار۔۔۔!!اٹھ جاؤ نا۔۔۔وہ ضد کرتے ہوئے اسے اٹھنے کے لئے کہنے لگی۔
ہاں۔۔۔بس آئی۔۔!!وہ لیپ ٹاپ کو بند کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے اٹھی۔
آج نہاری منگوائی ہے میں نے۔۔۔!!وہ مسکراتے بولی۔
نہاری۔۔۔۔!انشراح میرا ذرا بھی دل نہیں چاہ رہا یار۔۔۔۔وہ روکھے ہوئے لہجے میں بولی۔
کیوں؟؟؟انشراح زور دے کر بولی۔
کچھ نہیں۔۔۔۔چلو۔۔۔!!وہ بات کو ختم کرتے ہوئے اس کے ساتھ جانے لگی۔
ہاں۔۔۔چلو۔۔۔چلو۔۔۔وہ تیزی سے بولی۔
پھر تمہیں نماز بھی پڑھنی ہوگی۔۔۔
کہاں اتنا ٹائم ہو گا اب کھانے کے لئے۔۔۔وہ اس کے روم سے باہر نکلتے ہوئے کہنے لگی۔
کیا تم نہیں پڑھو گی نماز ؟؟؟و ہ سوالیہ انداز میں پوچھنے لگی۔
نہیں۔۔۔!!ٹھنڈ بہت ہے۔۔۔مجھ سے نہیں ہوتا وضو۔۔!!
وہ انتہائی روکھے لہجے سے ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوئے بولی۔
کتنی عجیب بات ہے نا!!
تم ایسا سوچتی ہو۔۔۔وہ افسردگی سے بولتے ہوئے اس کے ساتھ اس کے روم میں اینٹر ہوئی جہاں دونوں کے لئے
انشراح نے لنچ رکھا تھا ۔
موسم نارمل ہوتے ہی پکا پانچ وقت کی نماز پڑھوں گی۔اس نے عہد کیا۔
عجیب ہو انشراح تم!وہ اس پر گہری نظر ڈالتے ہوئے بمشکل مسکرائی۔
نماز ہی سے تو سکون ہے اور تم ہو کہ سکون کے لئے نارمل موسم کے آنے کا انتظار کررہی ہو۔۔۔پانی گلاس کے
اندر ڈالتے ہوئے اسے دینے لگی۔،جبکہ انشراح اس کی بات سنتے ہی خاموش ہو گئی۔
٭٭٭
کیسی ہو مائی ڈئیر ؟؟وہ اس پر گہری نظر ڈالتے ہوئے شاطرانہ انداز میں پوچھنے لگا۔
وہ اس کی بات کا کوئی بھی جواب دئیے بغیر ہی وہاں سے جانے کی کوشش کرنے لگی۔
ہیلو۔۔۔
مس مسکان۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے مسکرایا۔
مجھے پسند نہیں یہ رویہ۔۔۔وہ اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔
سوری سر۔۔۔
وہ مجھے کچھ کام ہے۔۔۔تو ۔۔۔بس۔۔۔وہ بوکھلاتےہوئے زبردستی مسکرانے لگی۔
ام م م ۔۔۔وہ لمبی سانس بھرتے ہوئے بولا۔
اور میرےکام کا کیا بنا؟؟؟
اس کے اتنے الفاظ سنتے ہی اس کی روح تک کانپ اٹھی ،وہ اس کام کو کرناہی نہیں چاہتی تھی مگر اس کے پوچھنے
کے انداز سے اسے بہت حد تک اپنے اندر احساس کتری کا احساس ہوا۔
کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔۔وہ اسے گہری سوچ میں دیکھتے ہوئے بولا۔
جی۔۔۔!!وہ سوچوں سے یکدم آزاد ہوتے ہوئے بولی۔
سر۔۔۔
پلیز آئی کانٹ ڈو دس۔۔۔پلیز۔۔۔بس کچھ مہینے اور۔۔۔
آپ کے روپے جلد ہی لوٹا دوں گی۔۔۔پلیز۔۔۔وہ التجائیہ انداز میں فریاد کرتے ہوئے بولی۔
تب کی تب دیکھی جائے گی۔۔۔
تب تک تمہیں وہی کرنا ہو گا جو میں کہوں گا۔۔۔
سجھی تم۔۔۔وہ دھمکی دیتے ہوئے بوال اور اس پر گہری نظر ڈالتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
تم یہاں ہو۔۔۔
ہر جگہ ڈھونڈ کر آئی ہوں تمہیں ۔۔۔انشراح اسے ڈھونڈتےڈھونڈتے اس کے پاس آ تےبولی۔
ہاں۔۔۔!!وہ اس کے وہاں اچانک آنے پر چونکی۔
کیا ہوا؟؟وہ اس کے یوں چونک جانے پر حیران ہوئی۔
کچھ نہیں۔۔۔وہ زبردستی مسکرائی۔
آر یو شیور؟؟؟وہ تصدیق کرتے ہوئے بولی۔
ہاں۔۔۔یار۔۔۔وہ بمشکل مسکرائی۔
٭٭٭
مشہور بزنس مین ارمان حسن ولد حسن شہباز ایک عام سی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوگئے ہیں ۔۔۔
مگر وہ نہیں جانتے کہ کیسے اپنے جذبات کا اظہار کریں۔۔۔
شکیل اسکو گہری سوچ میں مگن دیکھ کر شرارتی انداز میں قدرے اونچی آواز میں اعلانیہ طور پر بولا۔
شکیل۔۔۔!!
پاگل ہو کیا؟؟؟وہ اسے روکتے ہوئے بولا۔
نہیں میں تو پاگل نہیں۔۔
البتہ تم عنقریب ضرور ہو جاؤ گے ۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
شکیل۔۔۔
ایک بات تو بتاؤذرا۔۔
تم میرے دوست ہو یا دشمن؟؟وہ شکایتی انداز میں بولا۔
دوست ہوں یار۔۔۔
مگر تم نے ہمیشہ دشمن ہی سمجھا ہے مجھے۔۔۔
ایک مخلصانہ مشورہ مان۔۔۔!!
بتا دے اسے سب۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے رائے دینے لگا۔
یہ مخلصانہ مشورہ ہے؟؟؟وہ قہقہہ لگ اکر ہنسا۔
ہاں۔۔۔وہ اسے اس کےچہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔
وہ سور ہو جائے گی مجھ سے ۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولا اور لیپ ٹاپ اٹھاتے ہی بیگ کے اندر رکھتے ہوئے اٹھا۔
نہیں ہو گی دور یار۔۔۔وہ مسکرایا۔
ہو جائے گی۔۔۔!!میں جانتا ہوں نا۔۔!!آفس سے باہر نکلتے ہوئے بولا۔
تو پھر کیا ہے یہ ڈرامہ؟؟وہ چیخا
ڈرامہ؟؟وہ چونکا اور گاڑی کے اندر بیٹھ گیا۔
ہاں۔۔۔تو اور۔۔۔وہ گاڑی کے اندر بیٹھتے ہوئے بولا۔
اترو گاڑی سے۔۔۔وہ غصہ سے بولا۔
ارمان۔۔۔!!وہ معنی خیز نطروں سے اس کا تعاقب کرتے ہوئے بولا۔
ارمان۔۔۔
میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔
تم خوا ہ مخواہ غصہ کررہے ہو ۔۔۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔
میں غصہ کررہا ہوں؟؟
مجھے تو خود پر حیرانی ہوتی ہے کہ میں ایسا کیوں ہو گیا ہوں!جہاں دیکھتا ہوں صرف وہی نظر آتی ہے ،اس کی
آواز، اس کی باتیں اور اس کی ہنسی۔۔۔
اور تم ہو کہ اس سب کو ڈرامہ ۔۔۔وہ زچ ہو کر بولا۔جبکہ شکیل اسکی حالت کو قدرے غور سے سمجھتے ہوئے اپنے
الفاظ پر شرمندہ ہوا۔
ڈرامہ نہیں ہے یہ شکیل۔۔۔
پلیز۔۔۔!!وہ ہرٹ ہوتے ہوئے بولا۔
سوری۔۔۔وہ شرمندہ ہوا۔
تو پھر کیوں نہیں اسے کہہ دیتے تم؟؟وہ پھر سے اپنی بات دہرانے لگاجس پر ارمان دھیماسا مسکرایا۔
کہوں گا۔۔۔!!وہ گرد ہلاتے ہوئے بولا۔
مگر ابھی اسے اپنی آنکھوں کے رستے دل میں بسانا چاہتا ہوں ۔۔۔
اسکی انکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
جب تک اسےمجھ سے اور مجھے عشق سے عشق نہ ہو جائے تب تک میں یہ مرض ِ محبت دل میں ہی رکھنا چاہتا
ہوں!وہ انتہائی عقیدت سے بولاجس پر شکیل مسکراتے ہوئے رشک کرنے لگا۔
٭٭٭
کیا کررہی ہو بیٹی ۔۔بابا جان دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئےکمرے میں داخل ہوئے۔
کچھ نہیں بس ذرا آفس کا کام تھا۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
آئیے نا۔۔وہ جلدی سے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئےبولی۔
سو گئی ہے یہ۔۔۔وہ گڑیا پر نظر ڈالتے ہوئے بولے
جی۔۔۔۔!وہ مسکرائی۔
بیٹھیئے نا!
کیسے ہیں آپ؟؟وہ مسکراتے ہوئے بولی
ٹھیک ہوں ۔۔۔
کمرے کی لائٹ آن دیکھی تو آگیا۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئےبولے۔
جی۔۔۔بس کچھ کام تھا۔صبح پریزنٹیشن ہے نا۔۔۔
اس لئے ۔۔۔۔وہ مسکرائی۔
اپنی صحت پر بھی دھیان دو۔۔
دیکھو کتنی کمزور ہو گئی ہوکام کر کر کے۔۔۔۔وہ فکر مندی سے بولے۔
کوئی نہیں کمزور ہوئی میں ۔۔۔
آپ کو تو ہمیشہ لگتا ہےس۔۔۔وہ گلہ کرتے ہوئے ہنسی۔
اب آپ کا دل ہے میں پھو پھو جان صفیہ کی طرح ہو جاؤں۔۔۔وہ شرارتی انداز میں بولی جس پر عابد صاحب ہنس دیئے۔
ارے وہ بھی کمزور ہے کہ۔۔۔!!عابد صاحب ہنستے ہوئے بولے
حد کرتے ہیں بابا جان، آپ بھی نا!!وہ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگی۔
خوش رہو،مسکراتی رہوہمیشہ ۔۔۔وہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھتے ہوئے دل سے دعا دینے لگے اور شفقت سے
اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
٭٭٭
جاری ہے

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

WordPress主题