اسپروگلوسز   


کو شائع کی گئی۔ June 10, 2021    ·(TOTAL VIEWS 49)      No Comments

ٹحریر۔۔۔ ڈاکٹر فیاض احمد
عمل تنفس اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے والی بیماریاسپروگلوسز کی جانچ کے لئے مختلف ٹسٹ کرائے جاتے ہیں جن میں بلغم کے ساتھ خون کا ٹسٹ بھی شامل ہے جراثیم ہر جگہ موجود ہیں یہ گھروں اور باہر کھلی فضا میں بھی ہمارے ساتھ ہوتے ہیں سائنس بتاتی ہے کہ مختلف اقسام کے جراثیم کے علاوہ کئی دیگر خردبینی جاندار بھی ہمارے زیر استعمال اشیاءکپڑوں اور جلد پر ہمہ وقت موجود رہتے ہیں یہ سانس کے ذریعے ہمارے جسم کے اندر بھی داخل ہوتے ہیں اور یہ عمل ہمہ وقت جاری رہتا ہے سائنس دانوں کے مطابق ہوا اور گردوغبار میں موجود بیکٹیریا اور فنجائی وغیرہ کی مختلف اقسام بے ضرر بلکہ انسانی صحت کے لئے فائدہ مند بھی ہیں لیکن ان میں سے کچھ بیماریوں اور الرجی کا باعث بنتی ہیں ماہرین کے مطابق عام جراثیم کے علاوہ فنجائی کی مختلف اقسام انسانوں کو بیمار کرسکتی ہیں ان کی وجہ سے لاحق ہونے والا انفیکشن بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے ایک طبی تحقیق سے بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ہر سال دس لاکھ سے زائد افراد مختلف اقسام کی پھوپھندی سے لاحق ہونے والے امراض کی وجہ سے لقمئہ اجل بن جاتے ہیں تحقیق کے مطابق فنجائی کی پچاس لاکھ سے زائد اقسام ہیں جن کی گروہ بندی کے بعد مطالعہ اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ تین گروپس انسانوں کی زندگی کے لئے خطرہ بنتے ہیں یہاں ہم پھوپھندی سے لاحق ہونے والی نظام تنفس اور پھیپھڑوں کی ایک بیماری کے اسباب اور علامات بیان کرتے ہیںاس جرثومے کو طبی دنیا میں ایسپرگیلس کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے زیادہ تر اس کا شکار کم زور مدافعتی نظام والا جسم بنتا ہے اور اس کے انفیکشن کو اسپروگلوسز کہتے ہیں یہ جسم کے اندر فنجائی یا پھوپھندی پر ریشے بننے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کی مختلف اقسام ہیں جن کے علاج کا طریقہ بھی مختلف ہوتا ہے ماہر ڈاکٹر ایسے کسی مریض کے علاج کے لئے بیماری کی شدت اور ظاہری علامات پر غور کرنے کے بعد اینٹی فنگل دوا یا کوئی دوسرا طریقہ علاج تجویز کرتے ہیں اس انفیکشن کی وجہ سے سانس لینے کا عمل شدید متاثر ہوتا ہے انفیکشن بڑھ جانے کی صورت میں مریض کے لئے سرجری کروانا ضروری ہو جاتا ہے تاہم اس کا فیصلہ ماہر معالج ہی کرتا ہے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند انسان کے لئے پھوپھند کی زیادہ تر اقسام نقصان دہ ثابت نہیں ہوتیں لیکن پہلے ہی سانس یا پھیپھڑوں کے کسی مرض میں مبتلا فرد میں ان خردبینی جانداروں کی وجہ سے انفیکشن خون کی شریانوں کے ذریعے جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جاتا ہے اور یہ نہایت خطرناک ثابت ہوتا ہے
اسپروگلوسز کی شکل میں لاحق ہونے والا انفیکشن کئی طرح کا ہو سکتا ہے اور ان کا علاج بھی اسی لحاظ سے تجویز کیا جاتا ہے اس میں اینٹی فنگل ادویات تجویز کرنے کے ساتھ بعض کیسز میں سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے اسپروگلوسز کی علامات اس بیماری کی شدت اور اس کی نوعیت کو ظاہر کرتی ہیں دمہ یا پھر سسٹ فبروسس کے مرض کے باعث سانس کی نالی ، پھیپھڑوں اور نظام ہاضمہ کی خرابی کا سامنا کرنے والے مریضوں میں اسپروگلوسز کا حملہ شدید نہعیت کی الرجی پیدا کرتا ہے جسے برانچوپلمونری کہتے ہیں اس کی عام علامات میں ہلکا بخار، کھانسی کے ساتھ خون آنا اور سانس لینے میں شدید دشواری شامل ہیں اس مرض کی ایک قسم میں پھیپھڑوں کے درمیان حالی جگہوں پر پھوپھندی کے ریشے بننے لگتے ہیں جنہیں طبی اصلاح میں فنگل ماس کہا جاتا ہے یہ نہایت پیچیدہ حالت ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے پھیپھڑے جیسے اہم ترین عضو کو مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہےاس کی ایک علامت کھانسی بھی ہے جس کی شدت میں دن بدن اضافہ ہوتا جاتا ہے اور کھانسی کے ساتھ خون آنے لگتا ہے اس کے علاوہ پٹھوں کے درد کی شکایت کے ساتھ وزن میں اچانک کمی نظر آتی ہے اسپروگلوسز کی وجہ سے انفیکشن زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے یہ پھیپھڑوں سے پھیل کر دماغ ، دل، گردوں اور جلد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اس کی ایک وجہ ہمارے مدافعتی نظام کی کم زوری ہے اگر انفیکشن کا بروقت اور موثر علاج نہ کیا جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے اس کی عام علامات میں تیز بخار ،جسم کا ٹھنڈا پڑ جانا، کھانسی کے ساتھ زیادہ مقدار میں خون آنا، سینے اور جوڑوں میں درد کے علاوہ ناک سے خون بہنا اور چہرے پر ایک جانب سوجن شامل ہیں اسپروگلوسز کا سبب بننے والی پھوپھندی زیادہ تر پرانے باسی کھانوں میں بھی پائی جاتی ہے صحت مند افراد یا جن کا مدافعتی نظام مضبوط ہو ان پر بھی اس کا جرثومہ حملہ کر دیتا ہے خون میں سفید خلیات کی تعداد کم ہونے سے بھی یہ لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
اسپروگلوسز کی جانچ کے لئے مختلف ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں جن میں بلغم کے ساتھ خون کا ٹیسٹ بھی شامل ہے اس بیماری کی علامات کافی حد تک ٹی بی سے مشابہ ہیں ماہر معالج مرض کی تشخیص کے لئے مذکورہ طبی طریقے اپنانے کے علاوہ سینے کا ایکسرے اور سی ٹی اسکین کروانے کی بھی ہدایت کر سکتا ہے ایکسرے مرض کی مکمل اور بہتر تشخیص میں مدد دیتا ہے بعض صورتوں میں جلد کا طبی معائنہ بھی کرایا جاتا ہے اسپروگلوسز کے مریضوں کے پھیپھڑوں کے ٹشو ز کی مائیکرواسکوپ کے ذریعے سے جانچ بھی علاج میں مدد دیتی ہے

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Themes