امریکی صدر اور مودی سرکار ہوش کے ناخن لیں   


کو شائع کی گئی۔ September 14, 2019    ·(TOTAL VIEWS 51)      No Comments

تحریر۔۔۔مقصود انجم کمبوہ
ہٹلر ایڈولف نے جرمن قوم کے تشخص کو اسقدر اوبھارا کہ ساری قوم لڑنے مرنے پر تُل گئی ہٹلر نے پورے یورپ کو عسکری اور اقتصادی طور پر کچل کے رکھ دیا ۔ برطانیہ تابڑ توڑ حملوں کی زد میں رہا ہر طرف بے سکونی ، بد امنی کے بادل چھائے رہے بڑی بڑی عسکری قوتوں کے مالک دن بدن کمزور ہوتے چلے گئے جرمن کی فوج بجلی کی طرح کوندتی اور قبضہ کرتی چلی جاتی آخر کار سائی بیریا کی دلدل میں دھنس کر رہ گئی ہٹلر پوری دنیا پر قابض ہوتا چلا جارہا تھا جاپانی افواج کلکتہ کی سرحدوں کو چھو رہی تھی کہ اتحادی ممالک کی پریشانیوں نے انکے اوسان خطا کر دئیے آخر امن کی فاختہ نے اُڑان بھری جاپان کے دو شہروں کو خاکستر کر کے رکھ دیا جاپانی عوام نے فوج کو ہتھیار پھیکنے پر مجبور کردیا اس طرح اتحادی افواج نے جرمن اور جاپان پر قبضہ کرلیا جرمن دو حصوں میں منقسم ہو گیا مشرقی و مغربی جرمنی کے وجود نے جنم لیا آج پورے یورپ نے سُکھ کا سانس لیا ہے پہلے پہل یورپی ممالک کو جرمن قوم پر اعتبار نہیں آرہا تھا مگر حالات نے ثابت کردیا کہ ہٹلر ایک دہشت و وحشت کی علامت تھا جس نے اپنے بھونڈے مقاصد کے حصول کے لئے پوری دنیا کو مضطرب کیا ۔ یورپی اتحاد کو مستحکم بنانے میں بھی جرمن کا بہت بڑا ہاتھ ہے آج پورا یورپ جرمن کے گرد گھومتا ہے اور جرمنی ترقی و خوشحالی کی منزلوں کو چُھو رہا ہے نہ صرف جرمن اپنی صنعتی ترقی کے زینے پر چرھ رہا ہے بلکہ تیسری دنیا کی ترقی میں خصوصی دلچسپی لے رہا ہے متحدہ یورپ کا نظریہ نیا نہیں بلکہ خاصا پرانا ہے اور اسی نطرئیے کی عمر، ان سیاست دانوں میں سے بیشتر کی عمر سے زیادہ ہے جن پر ماسٹر یخت سربراہ اجلاس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہوتا ہے ۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے اس وقت کی بعض شخصیات لیون بلوم ، لیڈورڈ ، بینس اور کاﺅنٹ سفورزا کا خیال تھا کہ یورپی اتحاد کے ذریعے جنگ سے بچا سکتا ہے ان کی امیدیں دم توڑ گئیں مگر یورپی اتحاد کا نظریہ زندہ رہا شکریہ اد اکیجئے ان لوگوں کا جو متحدہ یورپ کے نطریے کی بنیا د پر ہٹلر کے مخالف تھے اور اس بات کے حامی تھے کہ یورپی ملکوں کو آپس میں جنگ و جدل سے گریز کرنا چاہئیے ان لوگوں کے علاوہ ©”ونسٹن چرچل ” کی بصیرت بھی لائق تحسین تھی چرچل نے 1940میں فرانس کو برطانیہ اور فرانس کے اتحاد کی پیش کش کی او ر 1946میں فرانس و جرمن مصالحت کی بنیاد پر یورپ کی ریاست ہائے متحدہ کے قیام کی تجویز پیش کی وہ ایسے اتحاد کے حامی تھے جس میں ملکوں کی انفرادی مادی قوت کو فوقیت حاصل ہو چرچل کی سیاسی بصیرت کو برطانیہ والوں نے تو شاید لائق توجہ نہ جانا مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی سوچ دو عالمی جنگوں میں ان کے ذاتی تجربے کا نچوڑ تھی اور اس میں یہ خواہش کار فرما تھی کہ یورپ ہمیشہ کے لئے جنگوں سے محفوظ ہوجائے ان کی یہ خواہش اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہے جرمن اور یورپی برادری کا خیال تھا کہ21ویں صدی ایشیا کی ترقی و خوشحالی کی صدی ہوگی مگر بعض دشمن طاقتوں نے یہ نظریہ کامیاب نہیں ہونے دیا جس میں امریکہ اور بھارت شامل ہے چین اور روس نے ایشیا کو آگے لے جانے کی حتٰی الوسع کوششیں تو کی مگر امریکہ نے ایسی چال چلائی کہ وہ طالبان پر اپنے سارے گناہ ڈال کر افغانستان کو تباہ و برباد کرنے پر تُل گیا در اصل معاملہ ایشیا کی ترقی و خوشحالی کا تھا جس میں آہستہ آہستہ بھارتی نیتاﺅں نے بھی اپنا پورا پورا حصہ ڈالا ، پاکستان جس کے سہارے چین اور روس ایشیا کی ترقی کے سفر کو مکمل کرنے نکلے تھے امریکہ اور بھارت نے ملیا میٹ کر دئیے وہ خود تو ڈوبے ہمیں بھی لے ڈوبے پہلے امریکی صدر نے بیت المقدس کا معاملہ چھیڑا اور پورے عربوں کو مضطرب کیا پھر شام کی گولان کی پہاڑیوں کا قصہ نمٹا دیا ایک طرفہ فیصلے کر کے امریکی صدر نے پوری اُ مت مسلمہ کو بے زار کیا کشمیر کے مسئلے میں بھی امریکہ کا ہی ہاتھ نظر آتا ہے وہ چاہتا تو بھارتی نیتا کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر سکتا تھا مودی کی کیا مجال جو ٹرمپ کی بات نہ مانے یہ ڈرامہ آہستہ آہستہ پوری دنیا کو سمجھ آجائے گا امریکی صدر کو معلوم ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی اور فوجی طاقتور ریاست ہے اور بھارتی خواہشوں پر پانی پھیر سکتا ہے مگر اسے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ جنگ آہستہ آہستہ دم توڑ جائے گی کیونکہ دونوں ممالک اس پوزیشن میں نہیں کہ عالمی جنگ کا جھگڑا مول لے لیں ایک تو یہ ہے کہ دونوں ممالک کی اکانومی دن بدن کمزور ہورہی ہے پاکستان کے سیاستدانوں کی لوٹ مار نے پاکستان کو جبکہ بھارت کو مودی کے بھونڈے فیصلوں نے معاشی طور پر بد حالی کا شکار کر دیا ہے بہتر تو یہی بات ہے کہ امریکی اور بھارتی راہنماﺅں کو اس بات پر راضی کر لے کہ جنگ میں وہ جو ہارے سو ہارے گا ۔ چین اپنے علاقوں کو ان حالات میں وگذار کرانے میںسستی نہیں کرے کارگل کی شکل میں ایک اور بحران جنم لے سکتا ہے۔ مودی عقل سے کام لے ۔ٹڑ مپ اور مودٰی ڈرامے بازی بازی بند کر دے

Readers Comments (0)




WordPress Themes

WordPress Themes