انسانی حقوق کے خلاف ورزی کی روک تھام ہمارا بنیادی مقصد ہے؛سید حسن شاہ بخاری   


کو شائع کی گئی۔ October 1, 2020    ·(TOTAL VIEWS 78)      No Comments


ٹھٹھہ (رپورٹ حمید چنڈ)جوڈیشل ممبر سندھ ہیومن رائٹس کمیشن (ر) جسٹس سید حسن شاہ بخاری نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے خلاف ورزی کی روک تھام ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی برائیوں کی روکتھا کے لئے پولیس و دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج دربار ہال مکلی میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پولیس کے افسران سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر محمد عثمان تنویر، ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان، ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد حنیف میمن، مینیجر مرف ملک آدم، سول سرجن ڈاکٹر سید سکندر شاہ و دیگر افسران موجود تھے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سید حسن شاہ بخاری کہا کہ ہمارا آج کے دورے کا مقصد حالیہ بارشوں کے باعث نقصانات اور رلیف، کورونا وائرس پر کنٹرول کے متعلق اقدامات، منشیات و سماجی برائیوں اور دیگر انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کی روکتھام کے متعلق معلومات لینا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور لوگوں کی شکایات موصول ہونے کے بعد ان کے حل کیلئے فوری مؤثر اقدامات اٹھائیں تاکہ انہیں جلد انصاف فراہم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات اور عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی سمیت انسانی حقوق کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔ انہوں نے ایس ایس پی ٹھٹھہ کو ہدایت کی کہ وہ گٹکہ، مین پڑی اور کچا شراب و دیگر جرائم کی روکتھام کیلئے مؤثر اقدامات کریں تاکہ انسانی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ سید حسن شاہ بخاری نے مینیجر مرف کو سختی سے ہدایت کی کہ آپ نے ذمہ داری لی ہے تو اسے بخوبی پورا کریں اور سول اسپتال و دیگر صحت مراکز میں ضروری ادویات کی موجودگی کو یقینی بنائیں اگر اس ضمن میں کوئی دقت ہے تو ہمیں رپورٹ دیں تاکہ اس کے حل کیلئے کوششیں کی جا سکیں۔ قبل ازیں ڈپٹی کمشنر محمد عثمان تنویر نے حالیہ بارشوں کے باعث نقصانات اور رلیف کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بارشوں کے دوران ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر 10 ڈسپوزل جبکہ 15 ڈی واٹرنگ مشینیوں کے ذریعے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا گیا جس کے با‏عث سندھ کے دیگر اضلاع کی نسبت ضلع ٹھٹھہ میں بہت کم نقصانات ہوئے، اس کے علاوہ متاثرین میں 400 ٹینٹ جبکہ 1000 مچھر دانیاں تقسیم کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ مختلف آبادیوں سے پانی کی نکاسی کیلئے ایکسکیویٹر اور دیگر مشینری فرامہ کی گئی ہے تاکہ جلد بارشی پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جا سکے اس ضمن میں روزانہ کی بنیاد پر حکومت سندھ کو رپورٹ بھی پیش کی جا رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے لاک ڈاؤن کے دوران اور اس کے بعد کرونا وائرس کے متعلق اقدامات کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع ٹھٹھہ پر امن ضلع ہے یہاں کسی بھی قسم کا مذہبی، فرقہ وارانہ یا دہشتگردی کا عنصر نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ کرونا کے دوران ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کروانے کے باعث پہلے دو مہینے تک کوئی کورونا کا کیس ظاہر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گٹکہ، مین پڑی اور کچا شراب و دیگر جرائم کی روکتھام کیلئے کافی حد تک کامیابی حاصل کی گئی ہے جبکہ ان انسان دشمن مافیاز کے خلاف پولیس کی جانب سے تیزی سے آپریشن جاری ہے اور کوشش ہے کہ جلد اس ضلع کو منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے پاک کیا جائے گا۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Weboy