اک نئی کربلا درپیش 

Published on September 9, 2017 by    ·(TOTAL VIEWS 79)      No Comments

تحریر ؛ ڈاکٹر ایم ایچ بابر 
کلمہ طیبہ پڑھنے کے جرم میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے اسلام کے اولین شہداء صحابی رسول جناب عمار بن یاسر کے والدین تھے جنہیں مشرکین مکہ نے سرکار دو عالم کے دست رحمت پر بیعت کرنے کی وجہ سے ان کے گھر کے عین سامنے برہنہ کر کے شہید کر دیا تھا تا کہ آئندہ جو لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوں وہ اسلام قبول کرنے سے پہلے سو بار سوچیں پھر اپنی المناک موت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسلام سے دور رہیں مگر مالک کائنات کے نازل کیئے ہوئے دین کا ہی معجزہ تھا کہ جوں جوں کفار کی سختیاں بڑھتی گئیں توں توں لوگوں کو حقیقت اصلی کا ادراک ہوتا چلا گیا اور اس وقت کے باشندگان مکہ نے جوک در جوک اسلام کی اکملیت کو جانتے ہوئے دین حق کو قبول کرنا شروع کر دیا کیونکہ کائنات کا واحد کامل و اکمل دین اسلام ہی ہے جو انسان کو موت کے بعد بھی زندگی کی بشارت دیتا ہے یعنی مرتبہ شہادت پر فائز کرتا ہے باقی ادیان میں مر گیا تو تو قصہ ختم مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و مؤدت دل میں لے کر دنیا سے جائے تو شہید یہی وجہ تھی کہ لوگوں نے کفار کی بر بریت کا سینہ تان کر سامنا کیا مگر دین حق سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا یہود نصارہ نے متحد ہو کر ، چالبازیوں سے ، سازشوں سے ، ناحق قتل و غارت سے دنیا سے اسلام کو مٹانا چاہا مگر انہیں کامیابی نصیب نہ ہونا تھی نہ ہوئی ۔ایسے ہی کچھ حالات حالیہ دنوں میں برما میں انسانیت سوز مظالم ڈھاتے ہوئے مسلمانوں کی نسل کشی کر کے کئے جا رہے ہیں تاکہ برما میں مسلمانوں کا وجود تک نہ رہے زندہ انسانوں کو ٹکڑوں میں بانٹا جا رہا ہے کہیں ان کو ایک ہی گڑھے میں کافی تعداد میں تشدد کرتے ہوئے ڈال کے ان پر لکڑیاں ڈال کر جلایا جا رہا ہے تا کہ کلمہ طیبہ کا ورد کرنے والی زبانیں ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائیں مگر ایسا نہ ہو سکا انکی مظلومیت انکی زبان بن گئی اور پوری دنیا میں پھیل گئی ان کی صدائے لا الہ ۔برما میں جس جس طرح کی سفاکی و بربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس کا لفظوں میں بیان کرنا ایک بہت بڑی اذیت ہے کسی بھی مسلمان کے لیئے قارئین کرام یقین مانیں کہ اس کالم کو لکھتے ہوئے مجھے سینے میں سانس گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ،آنکھوں سے اشکوں کا اک سیل رواں جاری ہے بار بار پانی پی رہا ہوں پھر بھی ہاتھ لڑ کھڑا رہا ہے اور قلم ڈگمگا رہا ہے یہ حالت صرف برما میں ہونے والی بربریت اور سفاکیت کو سن کر اور سوشل میڈیا پر دیکھ کر ہو رہی ہے ۔آفرین ہے ان مقدس ماؤوں اور بہنوں کے جو اپنی آنکھوں کے سامنے جوان بیٹوں اور بھائیوں کو ذبع ہوتا دیکھ رہی ہیں سلام پیش کرتا ہوں اس بوڑھے باپ کو جو بے بسی اور لاچارگی کے عالم میں اپنے بیٹوں کے جسموں کو ٹکڑوں میں بٹتا دیکھ رہا ہے جوان بیٹی کی عصمت دری دیکھ کر بھی سانس لے رہا ہے فقط آسمان کی طرف دیکھ کر ایک چیخ مارتا ہے جیسے مالک کائینات سے کہہ رہا ہو اے خدائے بحر و بر گواہ رہنا کہ میں نے اپنی نسل ختم کروا لی مگر تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین نہیں چھوڑا ،اے خالق کون ومکاں تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہونے کے دعویدار بنگلہ دیشی مسلمان مجھے بنگالی نہیں مانتے اور برما والے بدھ مت مجھے برمی نہیں گنتے میرے اللہ یہ لوگ میری شناخت کو ماننے سے انکاری ہیں مگر اے خداوند انس وجاں کیا یہ میری پہچان کم ہے کہ میں رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والا ہوں اگر میں برما میں رہوں تو یہ بدھ بھگشو مجھے اور میری نسل کو ٹکڑے کرتے ہیں اور اگر مسلمان ہونے کے ناطے سے بنگلہ دیش کی طرف رخ کرتا ہوں تو بنگالی مجھ پر فائر کھول دیتے ہیں میرے اللہ کیا تیری اس کائنات میں میرے لیئے کوئی جائے امان نہیںآج جب میں ان کٹی پھٹی لاشوں کے انبار پہ کھڑا ہو کے استغاثہ بلند کر رہا ہوں کہ ہے کوئی جو مجھ مظلوم کی مدد کرے ؟ ہے کوئی جو مجھ غریب کی نصرت کو پہنچے ؟تو کربلا کا میدان میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر لے کر آجاتا ہے جب نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھائیوں ،بیٹوں ،اور بھتیجوں کے لاشے سامنے رکھے سید الشہداء امام حسین ؑ دکھائی دینے لگتے ہیں جو استغاثہ بلند کر رہے ہیں ھل من ناصر این ینصرنا ، ھل من مغیث و یغیثنا ۔ آج لگ رہا کہ مجھ سمیت رکھائن صوبہ کے روہنگیا مسلمانوں کو اک نئی کربلا درپیش ہے ۔ احباب عقل و دانش روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کہیں یہ اغیار کی طرف سے تمام دنیا کے مسلمانوں کے خلاف بچھایا جانے والا سازشوں کا کوئی خوفناک جال تو نہیں ؟کہیں بد ترین دشمن کی طرف سے بہترین دوستوں میں دوری پھیلانے کی ایک چال تو نہیں ؟بھارت ،امریکہ ،اسرائیل کا اس بہانے ایک خوفناک گٹھ جوڑ تو وجود میں نہیں آرہا ؟ کہیں پاکستان کو چائینہ کے سامنے لاکھڑا کرنے کے اسباب تو پیدا نہیں کئے جارہے ؟روہنگیا مسلمانوں پر اتنی انسانیت سوز بربریت کو دیکھنے کے باوجود انتالیس رکنی مسلم اتحاد پراسرار طور پر خاموش کیوں ہے ؟ایران ،ترکی اور پاکستانی ہی کیوں ان مظالم پر ماہئی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں ؟کیا باقی مسلم ممالک نے دین اسلام چھوڑ دیا ہے یا وہ برمی مسلمانوں کو مسلمان تصور نہیں کرتے ؟ان تمام سوالات کے جوابات بھی تلاش کرنے ہیں اور مظلوم روہنگیا مسلمان بھائیوں کی نصرت کا بیڑہ بھی اٹھانا ہے ۔وہ نصرت سفارتی سطح پر ہو ،دینی اور اخلاقی سطح کی ہو ،مالی یا انکی بحالی کی شکل میں ہو ہمیں کرنی ہے۔ قارئین کرام دنیا بھر میں بدھ ازم جتنا امن پسند کوئی مذہب نہیں گنا جاتا پھر کیا ہوا کہ ان میانمر (برما )کے بدھ مت اتنی سفاکی اور درندگی پر اتر آئے جو نہتے اور بے بس و بے کس مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے کے درپے ہو گئے اس قدر سفاک ہو گئے کہ چنگیز خان اور ہلاکو خان کی روحیں تک کانپ اٹھیں اس سارے کھیل میں کہیں ہندوستان کی مکروہ سازش تو کار فرمانہیں یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ابتداء میں یا پھر ابھی تک کچھ ہندو برمہ بدھ بھگشوؤں کے بھیس میں وہاں اپنا کام کر رہے ہوں اور بدھا کے ماننے والوں کے ذہنوں میں اپنی چانکیائی چالبازیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سفاکیت کا محلول گھول دیا ہو اور اس میں کوئی ایسی بھی اچھنبے والی با ت نہیں اگر پر امن مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دلوانے کے لیئے وہ مسلمانوں کی صفوں میں را کے ایجنٹ مسلمانوں کے بھیس میں داخل ہو کر اپنی مکروہ چال میں کامیاب ہو سکتا ہے تو پھر یہاں برما میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا مسلمانوں کو دنیا کے سامنے رسوا کرنے کے لیئے تمام غیر مسلم ایک ہیں بالخصوص امریکہ اسرائیل اور ہندوستان تو اسلام دشمنی میں کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں بہت سی نام نہاد جنگجو تنظیموں میں بارہا اسرائیلی اور ہندوستانی ایجنٹ بکثرت ملے ہیں ان لوگوں کا بس ایک ہی ایجنڈا ہے کہ مسلم دشمنی میں کچھ بھی کر جاؤیہ سوال میرے ذہن میں کافی دنوں سے کھلبلی مچائے ہوئے تھا کیونکہ برما چائنہ کے زیر اثر ہے اور چین وہاں پہ بہت زیادہ ترقیاتی کام بھی کروا رہا ہے اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھوں تو ہندوستان کو چین اور پاکستان کی دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی سو اس نے اپنے ایجنٹ مسلم کشی کے لیئے برما میں داخل کر دیئے تا کہ عالم اسلام اور خاص طور پر پاکستان کو مذہبی حوالے سے اشتعال دلوا کر برما کے خلاف نبرد آزما ہونے پر مجبور کیا جائے سو وہ اس چال میں بظاہر کامیاب بھی نظر آرہا اب ہو گا یہ کہ عالم اسلام سے مجاہدین اپنے مسلمان،ان بھائیوں کی مدد اور تحفظ کے لئے برما جائیں گے پھر عالم کفر میں ایک شور برپا ہو گا کہ برما میں دہشتگرد گھس آئے ہیں ان دہشتگرد وں کی سرکوبی کے لیئے امریکہ اتحادی فوج کے نام سے برما میں داخل ہو گا اور پھر برما کا حشر بھی افغانستان جیسا ہو جائے گا ۔ تیسری بات جو میرے ذہن نارسا میں آتی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر بڑھتے ہو مظالم کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ برما میں فوج پر حملہ ہوتا ہے تو نام نہا د جہاد ی تنظیمیں اس کی فوری طور پر ذمہ داری قبول کر لیتی ہیں اس طرح وہاں کی مقامی حکومت کی نظر میں تمام مسلمان تشدد پسند دکھائی دینے لگتے ہیں اور ان پر بربریت کی انتہا کر دی جاتی ہے اسے کہتے ہیں کرے کوئی بھرے کوئی ۔قارئین آپ کو یاد ہو گا کہ جب نائن الیون والا واقعہ ہوا تو امریکہ کی نظر میں تمام مسلمان دہشتگرد گنے جانے لگے اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ مسلمانوں پر حلقہ زندگی تنگ کر کے رکھ دیا امریکہ نے بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ نائن الیون کاواقعہ خود کروایا تھا امریکن ایجنسیوں نے مگر زیر عتاب آگئے مسلمان تو کیا یہاں برما میں یہ نہیں ہو سکتا کہ مظلوم روہنگیائی مسلمانوں پر اس بربریت کی وجہ امریکی ، اسرائیلی یا ہندوستانی ایجنسیاں ہی ہوں یہ بات تو روز روشن کی طر ح عیاں ہے کہ مسلمانوں کے نام سے بنائی ہوئی اکثر جہادی تنظیمیں مسلمانوں کی نہیں بلکہ را، موساد ،اور امریکی ایجنٹوں پر مشتمل ہیں اور جب وہ کوئی کارروائی کر کے مسلمانوں کے سر تھوپیں گے تو زیر عتاب بھی مسلمان ہی ہوگا نہ ۔اور روہنگیائی مسلمان جو بیچارے صدی بھر سے اپنی پہچان سے بھی محروم ہیں وہ تو ظلم کا نشانہ بنیں گے جناب ۔ اس لیئے مسلم امہ کو ضرورت ہے ایک بار پھر یکجہتی کی اتحاد کی آج پھر ضرورت ہے اسلامک بلاک کو منظم کرنے کی اور ہاں کچھ بھی ہو برما میں ہونے والا قتل عام انتہائی قابل مذمت ہے جس بڑے پیمانے پر تذلیل انسانی کی جا رہی ہے اسکی روک تھام ازحد ضروری ہے بدھ ازم کے بھیس میں اولاد آدم اور امت محمدیہ کو جس بے دردی سے ذبع کیا جا رہا ہے اس کو روکنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے برمی حکومت کی مذمت کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیشی ہندو (نام نہاد مسلمان )حکومت ان سے بڑ ھ کر قابل مذمت ہی نہیں قابل نفرت بھی ہے کیونکہ کفر تو اسلام کا مخالف ہے ہی بنگالی یزید کے حواری بن کر مظلوموں کی مخالفت میں پیش پیش ہونے پر وہ اسی طرح کے مسلمان ہیں جس طرح کے امام حسین کے مقابلے میں آنے والے یزیدی لشکر کے نام نہاد مسلمان ۔اقوام متحدہ کی خاموشی اور امریکہ نواز مسلمانوں کی خاموشی بالکل ایسے ہی ہے جیسے وہ برما کے مسلمانوں کے قاتلوں کے ساتھ ہوں ۔ اب اتحاد امت کے ساتھ ساتھ صف دوستاں میں چھپے ہوئے دشمنوں کی پہچان کی بھی ضرورت ہے لہٰذا دشمن کی سازشوں میں آنے کی بجائے ان کی پہچان کر کے ان کا قلع قمع واجب ہے تمام عالم اسلام کے لئے ورنہ کر بلا کا تسلسل ختم نہیں ہو گا ۔ 

Readers Comments (0)




Weboy

WordPress Blog