ایمان کا پہلا رکن لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے۔   


کو شائع کی گئی۔ January 22, 2014    ·(TOTAL VIEWS 1,013)      No Comments

28
ابوجمرہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کے اور لوگوں کے بیچ میں مترجم تھا ( یعنی اوروں کی بات کو عربی میں ترجمہ کر کے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو سمجھاتا ) اتنے میں ایک عورت آئی اور گھڑے کے نبیذ کے بارہ میں پوچھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عبدالقیس کے وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ وفد کون ہیں؟ یا کس قوم کے لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ربیعہ کے لوگ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرحبا ہو قوم یا وفد کو جو نہ رسوا ہوئے نہ شرمندہ ہوئے ( کیونکہ بغیر لڑائی کے خود مسلمان ہونے کیلئے آئے، اگر لڑائی کے بعد مسلمان ہوتے تو وہ رسوا ہوتے، لونڈی غلام بنائے جاتے، مال لٹ جاتا تو شرمندہ ہوتے ) ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس دور دراز سے سفر کر کے آتے ہیں اور ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کافروں کا قبیلہ مضر ہے تو ہم نہیں آ سکتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک، مگر حرمت والے مہینہ میں ( جب لوٹ مار نہیں ہوتی ) اس لئے ہم کو حکم کیجئے ایک صاف بات کا جس کو ہم بتلائیں اور لوگوں کو بھی اور جائیں اس کے سبب سے جنت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم کیا اور چار باتوں سے منع فرمایا۔ ان کو حکم کیا اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لانے کا اور ان سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ ایمان کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان گواہی دینا ہے اس بات کی کہ سوا اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ کا دینا اور رمضان کے روزے رکھنا ( یہ چار باتیں ہو گئیں، اب ایک پانچویں بات اور ہے ) اور غنیمت کے مال میں سے پانچویں حصہ کا ادا کرنا ( یعنی کفار کی سپاہ یا مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں سے جو مال حاصل ہو مال غنیمت کہلاتا ہے ) اور منع فرمایا ان کو کدو کے برتن، سبز گھڑے اور روغنی برتن سے۔ ( شعبہ نے ) کبھی یوں کہا اور نقیر سے اور کبھی کہا مقیر سے۔ ( یعنی لکڑی سے بنائے ہوئے برتن ہیں )۔ اور فرمایا کہ اس کو یاد رکھو اور ان باتوں کی ان لوگوں کو بھی خبر دو جو تمہارے پیچھے ہیں۔ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے من وّرآئکم کہا بدلے من ورآئکم کے۔ ( ان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے )۔ اور سیدنا ابن معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں اپنے باپ سے اتنا زیادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اشج سے ( جس کا نام منذر بن حارث بن زیاد تھا یا منذر بن عبید یا عائذ بن منذر یا عبداللہ بن عوف تھا ) فرمایا کہ تجھ میں دو عادتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، ایک تو عقل مندی، دوسرے دیر میں سوچ سمجھ کر کام کرنا جلدی نہ کرنا۔
مختصر صحیح مسلم
1 :

Readers Comments (0)




WordPress主题

WordPress主题