بد سے بدنام برا

Published on September 12, 2017 by    ·(TOTAL VIEWS 93)      No Comments

تحریر۔۔۔ ملک محمد سلمان
وکالت نہ صرف ایک معزز پیشہ ہے بلکہ دکھی انسانیت کی عظیم خدمت بھی ہے ۔لوگوں کو انصاف دلانے اور حق کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں درجنوں وکلاء کوبدماشوں اور طاقت والوں کے ہاتھوں بے موت مروادیا گیا۔بار کی ہڑتالوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو وکلاء کی طرف سے کی جانے والی ہڑتالوں میں زیادہ تر کسی اہم ملکی ایشو پر ہی ہوئی ہے۔
جس طرح ہر گروہ میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح وکلاء میں بھی کچھ شر پسند عناصر موجود ہیں جن کی طرف سے آئے روزپولیس اہلکاروں پر تشدد کیا جاتاہے،احاطہ عدالت سے ملزمان کو بھگایا جاتا ہے۔سچ کی آوازبننے پر صحافیوں پر تشدداور انکے کیمرے چھیننے کا عمل عام رویہ بن چکا ہے۔یہ ایک مخصوس طبقہ ہے جس نے زورزبردستی کی روش اپنا رکھی ہے جس کی وکلاء کمیونٹی میں بھی شدید مزمت کی جاتی ہے۔ان حالات میں بد سے بدنام برا کے مصداق سارے وکلاء کو بدمعاش بنا کر پیش کرنااور پڑھے لکھے معزز وکلاء کی پرامن جدوجہد کو وکلاء گردی سے تعبیر کرنا ہرگز عقل مندی نہیں۔وکلاء میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو صرف حق کا ساتھ دیتے ہیں اور جھوٹے کا مقدمہ تک نہیں لڑتے۔سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی پاکستان اسد منظور بٹ جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کے خلاف بھی کیس لڑا تھا ان جیسے بے شمار وکیل ہیں جنہوں نے اپنی پوری پروفیشنل لائف صرف اور صرف قانون کی بالادستی کی جدوجہد میں گزاردی۔اسی طرح لندن میں پاکستانی نژاد وکیل شیراز خالد پاکستان کا مثبت چہرہ ہیں جنہیں انکی پیشہ وارانہ صلاحیت اور قوانین پر سختی سے عمل پیرا رہنے پر انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
نو ستمبر ہفتہ دوپہر ۱۲ بجے کے قریب سرگودھا کے سنئیر وکیل رانا ولائیت دعویٰ بے دخلی برخلاف فتح محمد ولد غلام محمد کے سلسلے میں اسٹنٹ کمشنر سرگودھا انعم خان کی عدالت پہنچے تو کیس کی سماعت کے دوران ایک قانونی ایشو پر اے سی کی طرف سے بالکل لاعلمی کا مظاہرہ کیا گیا۔سنئیر وکیل کے قانونی دلائل کے جواب میں اسسٹنٹ کمشنر نے موبائل انٹرنیٹ سے نیشنل کی بجائے انٹرنیشنل لاء نکال کر وکیل کو نیا لالی پاپ دے دیا کہ دوسرے فریق کو نوٹس دیے بغیر فیصلہ نہیں ہو سکتا۔جس پر سنئیر وکیل نے سمجھایا کہ میڈم دوسرا فریق جب کمرہ عدالت میں موجود ہے تو نوٹس کی ضرورت نہیں آپ اس کا موقف لے لیں۔ لیکن اے سی نے کمال ڈھٹائی سے بزرگ وکیل کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ تم چپ رہو مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں۔میں وہی کرونگی جو مجھے سہی لگتا ہے تم جاسکتے ہو،وکیل نے اسرار کیا کہ میڈم میں بیس سال سے پریکٹس کر رہا ہوں اگرکوئی شخص خود موجود ہوتو دوبارہ نوٹس کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اے سی کے طبع نازک پر یہ بات شدید ناگوار گزری تو اس نے اپنے دربانوں کو حکم جاری کیا کہ وکیل کو میرے کمرے سے باہر نکالو۔اے سی کے حکم پر ملازم وکیل کے طرف بڑھے تو وکیل نے کہا کہ میڈم اس سے اگلے دونوں کیس بھی میرے ہیں آپ اس کیس کو رہنے دیں باقی کو سنیں ۔لیکن اے سی کی رویے میں جارحیت اور انتقام آچکا تھا اس نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں سننا تم یہاں سے نکل جاؤ۔اس تضحیک پر سنئیر وکیل نے بار کے صدر اور سیکرٹری سے رابطہ کر کے معاملے سے اگاہ کیا۔معاملے کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سرگودھا کے صدر راؤ فضل الرحمٰن دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فوری اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں پہنچے ۔خاتون اسسٹنٹ کمشنر اور وکیل رانا ولائیت کی بات سننے کے بعد فریقین کو صلاح کا مشورہ دیا لیکن افسری کے خمار میں مبتلا اے سی انعم نے اپنی عمرسے بڑے وکلاء کی کوئی بھی بات ماننے سے انکار کیا ۔اے سی کے تلخ و ترش لہجے میں صاف انکار کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور ساتھی وکلاء وہاں سے چلے گئے۔
ای سی کو کسی سیانے پیر نے مشورہ دیا کہ وکلاء کی بے عزتی کرکے اس نے اچھا کام نہیں کیا اب جلدی سے پینترہ بدلے اور معصومیت کا لبادہ پہن لے۔اے سی جو تھوڑی دیر قبل مردانہ وار وکلاء کو کھری کھری سنا رہی تھی۔فوراً سے پہلے ناتواں اور معصوم و مظلوم خاتون بن گئی ۔سیانے پیر کے مشورے پر عمل پیرا ہو کرسارے کا سارہ ملبہ وکلاء پر گرا نے کا فیصلہ کیا۔
اے سی کے بقول وکلاء نے اسے آفس میں بند کرکے تالا لگا دیا۔جب کہ وکلاء کے مطابق وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔ اے سی نے اپنے ملازمین کی مدد سے خود تالا لگوا کر سب ڈرامہ کیا۔اگر واقعی خاتون اے سی نے یہ سب ڈرامہ کیا ہے تو وہ اچھی ایکٹر ثابت نہیں ہوسکیں کیونکہ سب جانتے ہیں کہ سرگودھا اے سی آفس میں آنے اور جانے کیلئے دو اور دروازے بھی موجود ہیں۔ جبکہ اے سی صاحبان ہمیشہ عقبی دروازہ ہی استعمال کرتے ہیں۔ اگر واقعی وکلاء نے دروازہ لاک کیا ہوتا تو اے سی آسانی سے عقبی دروازے سے باہر جاسکتی تھی۔ویسے سادہ سی بات ہے کہ ہر اے سی آفس میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوتے ہیں اگر اے سی اپنے موقف میں سچی ہے تو سی سی ٹی ریکارڈنگ سامنے لے آئے۔اگر وکلاء نے زیادتی کی ہے تو ان کو قرارواقعی سزا ملنی چاہئے۔ چاہے جو بھی وجہ ہو وکلاء کی طرف سے سرکاری دفتر پرحملہ سرکار کے تقدس کے خلاف اور قابل مواخذہ عمل ہے۔ 
اے سی حمایت تحریک چلانے والوں کو چاہیے کہ اپنی سمت کا تعین کریں ۔اپنی کمیونٹی کے افسران کے ہر جائز و ناجائز معاملے میں حمایت کی بجائے اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کو پہچانیں جنہوں نے سرکاری طاقت کے بے جا استعمال ،اپنی حدود اور اختیارات سے تجاوزکرکے سول سرونٹ کو فرعونیت میں بدل دیا ہے۔جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ان افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔
ایک مہینے کی تقرری میں انعم خان کی طرف سے یہ بدتمیزی کا پہلا واقع نہیں اس سے قبل بھی سنئیر وکلاء اور عام شہریوں کا ساتھ جارہانہ رویہ اور تلخ رویہ رواں رکھا گیا ہے۔خود کو حاکم کُل سمجھنے والی آفیسر کی لڑائی اور بدتمیزی کے واقعات اخبارات کی زینت بن چکے ہیں۔
سول سرونٹس کو یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ انتظامی افسر ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں اور جب جہاں چاہیں بے قابو ہوجائیں، جس کو چاہیں بے عزت کر کے اپنے دفتر سے نکال دیں۔ پولیس جو کسی عام غریب بندے کی سچی درخواست پر بھی مقدمہ درج کرتے ہوئے ٹال مٹول کرتی ہے ۔ اے سی کی مبینہ طور پر ڈرامہ کہانی پر فوری ایف آر بھی درج کر لی اور مدعی سست گواہ چست کے مصداق شدید بد نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مضحکہ خیز طور پر 7اے ٹی اے کی دفعات بھی شامل کردی۔اور تو اور واقع کے روز سنئیر وکیل صغیر احمد کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر فیصل آبادتھے مگر رانا ولائت کے دوست ہونے کی وجہ سے ان کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل کر کے اپنی بدنیتی پر مہر ثبت کر دی۔
پنجاب میں پی اے ایس (ڈی ایم جی) میں خواتین کی ایک خاصی بڑی تعداد ہے۔عارفہ صبوحی، ڈاکٹر عصمت طاہرہ، بشریٰ امان کیانی اور سارہ اسلم ، عنبرین رضا، صائمہ سعید ، صالحہ سعید ، عمارہ خان، آمنہ منیر، بینش فاطمہ ، سلوت سعید ، عفت النساء اور سائرہ عمرسمیت بہت ساری خواتین آفیسر مختلف انتظامی سیٹوں پر اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں اور بہترین انتظامی صلاحیتوں اور خوش اخلاقی کے باعث معاشرے میں انتہائی قدرومنزلت کی حامل ہیں۔لیکن اسسٹنٹ کمشنر انعم خان جیسی آفیسرز جو جذبہ انسانیت اور احترام آدمیت سے عاری ہیں ۔ایسے افراد کو فی الفور سول سروسز جیسے ادارے سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ ان کو بے عزت کرکے دفتر سے نکالنا۔اس معاملے پر جوڈیشری سے ضیر جانبدار انکوائری کروائی جائے ۔اے سی کی حمایت میں ہلکان ہونے والا اے ایس پی حفیظ بگٹی اور اسسٹنٹ کمشنر انعم خان (سی ٹی پی) کے بیج میٹ ہیں۔اگر اے سی اور پولیس کا قصور ثابت ہوتا ہے توبدنیتی پر مبنی جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج پر اے ایس پی حفیظ بگٹی اور ایس ایچ او کے خلاف بھی سخت سے سخت کاروائی عمل لائی جائے۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Weboy