برطرف پولیس اہلکاروں کے معاملے کی تحقیقات کیلئے ڈی ایس پی بلدیہ کو انکوائری آفیسر مقرر   


کو شائع کی گئی۔ July 7, 2020    ·(TOTAL VIEWS 70)      No Comments

حیدرآباد(یواین پی)ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد غلام محمد تھیبو نے تھانیدار ٹنڈویوسف کی سرکردگی میں برطرف پولیس اہلکاروں اورجرائم پیشہ افراد کی جانب سے ٹنڈویوسف قبرستان کے قریب گودام پر ڈکیتی کے دوران ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 360بوریاں لوٹنے کے معاملے کی تحقیقات کیلئے ڈی ایس پی بلدیہ کو انکوائری آفیسر مقررکرتے ہوئے 5روز میں رپورٹ طلب کرلی،19جون کو رات تقریبا4بجے تھانیدارٹنڈویوسف انور خانزادنے کامران پاپا،علی رانا،ثناء اللہ پٹھان،اعجاز سیال،نوید،رضوان نورمحل والے،مٹھو،وقارودیگر کے ہمراہ معین الدین قریشی نامی شخص کے گودام پر ملازمین کو یرغمال بناکر360بوریاں چھالیہ لوٹیں کر دوملازمین کو بھی اغواء کرلیا تھا،ٹنڈویوسف پولیس نے لوٹاگیا مال فروخت کرکے 47بوریاں خراب مال ظاہرکرکے اغواء کئے گئے دونوں ملازمین کو ایف آئی آر میں ظاہرکرکے گودام کے مالک کو روپوش دیکھایاتھا،واقعہ کے بعد متاثرہ تاجر ایک ہفتے تک ایس ایس پی کے دفتر چکرکاٹتارہا مگر ان سے ملاقات نہیں ہوسکی،نصف درجن سے زائد تھانوں پر برطرف پولیس اہلکار اورجرائم پیشہ افراد تھانیداروں کو بیٹر بنے ہوئے ہیں،تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد غلام محمد تھیبو نے فقیر کا پڑ کے تاجر معین الدین چھالیہ والے کی ٹنڈویوسف پولیس کی جانب سے ان کے گودام میں اسلحے کے زور پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کی چھالیہ لوٹنے اوران کے ملازمین اورانہیں جھوٹی ایف آئی آر میں ملوث کرنے سے متعلق دی گئی درخواست پر ڈی ایس پی بلدیہ جمیل سیال کو انکوائری آفیسر مقررکرتے ہوئے 5روز میں رپورٹ طلب کرلی،تاجر معین الدین کی جانب سے دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ 19جون کو رات تقریبا4بجے ان کے ٹنڈویوسف قبرستان سے متصل گودام پر سادے کپڑوں میں ملبوس ایس ایچ اوٹنڈویوسف انورخانزادہ،علی رانا،کامران پاپا،ثناء اللہ پٹھان،اعجاز سیال،نوید،رضوان نورمحل والا،مٹھوودیگر نے ان کے ملازم لطیف اوروقار کو اسلحے کے زور پر یرغمال بناکر گودام میں موجود 20کلو کے 360کٹے(بوریاں)4کاروں،ایک مزداٹرک اورسوزوکی میں لاد کر لوٹ کرلے گئے اوردونوں ملازمین کو آنکھوں پر پٹیاں اورہاتھ باندھ کر اغواء کرلیا،اورکئی گھنٹوں پر دونوں ملازمین کو کارمیں رکھنے کے بعد ٹنڈویوسف تھانے پران کے خلاف ایف آئی آر نمبر27/2020ایس ایچ اوانورخانزادہ کی مدعیت میں درج کرلی جس میں دونوں ملازمین کو 47بوری مین کا چورارکھنے میں ملوث کیاگیا اوردرخواست گزارکو روپوش کردیاگیا،تاجرمعین الدین قریشی نے دی گئی درخواست میں بتایاکہ ٹنڈویوسف پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں ظاہر کی گئی 47بوریاں خراب مال ہے اوران کا نہیں ہے،جبکہ انہوں نے مذکورہ مال کے بارے میں تحقیقات کی تو معلوم ہواہے کہ پولیس کی جانب سے لوٹی گئیں چھالیہ کی 360بوریاں،ٹنڈوالہیار،فقیر کا پڑودیگر مقامات پر فروخت کی گئیں ہیں جبکہ اس واقعہ کے بعد وہ ایک ہفتے تک مسلسل ایس ایس پی عدیل چانڈیو کے دفتر کے چکر کاٹتے رہے اوروہاں موجودافسران کو تمام صورتحال اورمعاملے سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے ایس ایس پی سے ملنے کی کوشش کرتے رہے مگر ان کی مصروفیات کے باعث ملاقات نہیں ہوسکی جس کے بعد انہوں نے ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد کو معاملے کی تحقیقات کیلئے درخواست دی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کے نصف درجن سے زائد تھانوں کے ایس ایچ اوز نے برطرف پولیس اہلکاروں جرائم پیشہ افراد کے ذریعے اپنی اپنی ٹیمیں بنارکھیں ہیں،جوکہ مین پوری کی فروخت کی روک تھام کی آڑ میں لوٹ ماراورڈکیتیوں اورتاجروں کے شارٹ ٹائم اغواء میں ملوث ہیں،مذکورہ جرائم پیشہ افراد تھانوں کی ہفتہ وصولی،جرائم پیشہ افراد،سماج دشمن عناصر کو موکل دینے کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں اوردن رات تھانوں پر موجود رہنے کے ساتھ ساتھ افسران کے ساتھ ضلعی اورریجنل پولیس کے دفاتر میں دیکھے جاسکے ہیں،تاجر معین الدین قریشی کا کہنا ہے کہ وہ ایف بی آراورانکم ٹیکس رجسٹرڈ ہیں اوراپنی لوٹے گئے مال کی واپسی اورملوث پولیس اورسماج دشمن عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کیلئے انصاف کے تمام ایوانوں اوراعلی عدلیہ میں جائینگے،جبکہ ضلع بھر میں کھلے عام مین پوری کی تیاری اورفروخت کا کاروبار کھلے عام جاری ہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Themes