برمی سفارت خانے تک احتجاجی ریلی

Published on September 11, 2017 by    ·(TOTAL VIEWS 50)      No Comments

تحریر۔۔۔ میر افسر امان 
۸ ؍ستمبر کو جماعت اسلامی اسلام آباد نے مسجد شہدا آبپارہ سے برمی سفارت خانے تک جانے کے لیے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ شہر اسلام آباد میں اس ریلی کی تشہیر کے لیے خوبصورت بینر لگائے گئے ۔ ریلی میں شریک ہونے کے لیے اسلام آباد کی گلی گلی میں ہینڈ بل تقسیم کیے گئے۔ شہر کی مساجد کے خطیبوں سے جماعت اسلامی کے ذمہ داروں نے ملاقاتیں کیں۔ان سے درخواست کی کہ جمعہ کے خطبے میں روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ بدھ مذہب کے پیرو کاروں کے مظالم کو نمازیوں کے سامنے بیان کیا جائے۔ ان کے حق میں نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کی اپیل کی جائے۔ بیشتر مساجد میں خطیبوں نے برما کے صوبہ روہنگیا کے مسلمانوں پر بدھ مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ ان کی فوج نے مل کر جو مظالم کیے ہیں ان پر روشنی ڈالی۔ اس اپیل پر شہر کی مساجد سے لوگ جلوس کی شکل میں اس احتجاجی ریلی میں شریک ہوئے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر میاں محمد اسلم صاحب نے تمام مکتبہ فکر کے علماسے ملاقاتیں کر کے اس ریلی میں شرکت کی درخواست کی۔اس سلسلے میں ریلی سے ایک دن پہلے پریس کانفرنس بھی کی گئی۔ جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا ونگ نے اس کی خوب تشہیر کی۔ اخبارات میں ایک دن پہلے اس ریلی کے متعلق خبریں شائع ہوئی۔ نتیجتاً اس ریلی میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ اپنے اپنے جھنڈے لیے شریک ہوئے جس میں اہل سنت الجماعت کے علما اور عوام کے ساتھ ساتھ ان کے جنگ سے پنجاب صوبائی اسمبلی کے ممبر شریک ہوئے۔بریلوی حضرات کے علما اپنے لوگوں کے ساتھ شریک ہوئے۔جمعیت اسلام مولانا فضل الرحمان صاحب کے لوگ اس ریلی میں شریک ہوئے۔مسلم اسٹوڈنٹ فیڈر یشن کے لوگ شریک ہوئے۔اسلام آباد شہر کی کاروباری حضرات کی تنظیموں کے عہدادار اس احتجاجی ریلی میں شریک ہوئے۔ شہر کی ٹراسپورٹ یونین، مزدور یونین کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمایندے بھی شریک ہوئے۔ اسلام آباد بار کے عہدادار اور وکیل حضرات بھی شریک ہوئے۔ جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیم جے آئی یوتھ کے کارکن بھاری تعداد میں شریک ہوئے۔جہاں تک میانمار میں مسلمانوں پر مظالم کا معاملہ ہے تو کافی عرصہ یہ مظالم جاری ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مسلم دشمن میانمار کی حکومت نے مسلمانوں سے امتیازی سلوک کرتے ہوئے بدنام زمانہ ایک کالا قانون پاس کیا تھا کہ ۱۸۲۳ء کے بعد میانمار میں داخل ہونے والے شہریوں کی شہریت منسوخ کر دی گی۔ جبکہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ عرب مسلمان تاجر آٹھویں صدی عیسوی سے میانمار میں آباد ہو گئے تھے۔ کالے قانون کے خلاف میانمار کے مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ ۱۹۲۰ء سے مسلمانوں پر بدھ مذہب کے بھکشو اپنی سیکورٹی فورسز سے مل کر مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں۔ اب ایک سو میل تک کے مسلمان بستی کا صفایا کر دیا گیا۔ لوگوں کے گلے کاٹ کر ان کی لاشوں کو آگ میں جلا دیا گیا۔اقوام متحدہ اور ہیومین رائٹس کی بین القوامی تظیموں نے اس پر میانمار کی حکومت سے صرف رسمی احتجاج کیا۔ ہزاروں لوگ سمندر اور جنگلوں میں دربدر جان بچانے کے لیے بھاگ گئے۔ ہزاروں لوگ بنگلہ دیش میں پناہ کے لیے داخل ہو گئے۔ ترکی کے مرد مجاہد کے علاوہ کسی مسلمان ملک نے ان مظلوموں کی مدد نہیں کی بلکہ ان کے حق میں آواز تک نہیں اُٹھائی۔ ترکی کے اردگان ہزاروں ٹن امدادی سامان کے ساتھ بنگلہ دیش پہنچ گئے۔ صاحبو!ان دہشت گردوں کے ساتھ مسلمان نام نہیں ہے اس لیے اس کے خلاف مغرب، مغربی فنڈڈ این جی،ہیومن رائٹس کی تنظیمیں اور اقوام متحد ہ خاموش ہے۔ ترکی نے بنگلہ دیش حکومت سے کہا ہے کہ میانمار کے سارے مہاجرین کے اخراجات وہ ادا کرے گا۔ان حالات میں سینٹر اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پورے پاکستان میں دنیا کے مسلمانوں کی آواز میں آواز ملانے کی جماعت اسلامی کی مستقل پالیسی کے تحت پورے ملک میں میانمار کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیوں کی کال دی۔ جس پرشہر شہر اور گلی گلی روہنگیا کے مسلمانوں کی حمایت میں پاکستانی عوام نے احتجاج کیا۔ اسی کال کے تحت اسلام آباد کی ریلی کا انتظام کیاگیا ہے جس میں سراج الحق شریک ہوئے۔ ریلی کاپروگرام کا باقاعدہ آغاز نماز جمعہ کے بعد آپارہ چوک پر ہوا۔اسٹیج سیکر ٹیری کے فرائض جماعت اسلامی اسلام آباد کے نائب امیر اور کاروباری تنظیم کے صدر جناب کاشف عباسی اور اسلام آباد جماعت اسلامی کے سیکر ٹیری جناب قاری امیر عثمان نے مشترکا طور پر اداکیے۔ اسلام آباد کی مختلف مساجد سے نمازی جلوس کی شکل میں جوق در جوق اس پروگرام میں شریک ہوتے گئے اور پھر جلوس کی شکل بنتی گئی جو آہستہ آہستہ برما کے سفارت خانے کے طرف بڑھتا گیا۔ جگہ جگہ جلوس رُکتا رہا اور مقررین تقریریں کرتے رہے ۔ پرجوش شریکِ جلوس ان کی تقریروں کے درمیان نعرے لگاتے رہے ۔ پروگرام شروع ہونے سے پہلے اور پروگرام اور تقریر کے دوران ساؤنڈ سسٹم سے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کے لیے دُکھیاگیت بھی سنائے جاتے رہے۔ انتظامیہ نے پہلے سے شہر میں چھ ہزار پولیس لگا دی تھی۔ جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے عوام کو اس ریلی میں شامل ہونے سے روکا جا رہا تھا۔ ارد گرد کی سڑکوں اور آپارہ کی سڑک کو دونوں طرف سے بند کر دیا گیا تھا۔ کسی قسم کی گاڑی کو مسجد شہدا کے گیٹ تک 
نہیں جانے دیا جارہا تھا۔ نمازیوں کو مسجد شہدا میں جانے کے لیے دشواری ہو رہی تھی۔ راقم ایک آزاد مشن صحافی ہونے کے ناطے اس ریلی کی رپورٹینگ کے لیے اس میں شریک ہوا۔ میں کئی سالوں سے معذور ہوں۔ خود میری گاڑی جسے میرا بیٹا چلا رہا تھا کو آپا رہ چوک پر پالیس نے روک لیا۔ میں ایک فرلائنگ بھی پیدل نہیں چل سکتا۔ میرے بیٹے نے پولیس والوں کہا کہ میں مسجد کے گیٹ پر والد کو اُتار کر واپس آ جاتا ہوں۔مگر پولیس والوں نے ایک نہ مانی اور مجھے بھی چوک سے مسجد تک سہارہ لے کر جانا پڑھا۔ جب ریلی شروع ہوئی تو نہتے شرکا ہاتھوں میں اپنی اپنی پارٹیوں کے جھنڈے اور برما کی حکمران سوچی کی تصویر والے پلے کارڈ اور احتجاجی بینرز لیے برما کے سفارت خانے کی طرف بڑھتے گئے۔پولیس والے جنگی لباس پہنے جلوس کے ساتھ ساتھ چلتے گئے۔آگے سرینا چوک اور ریڈ زون کے قریب کنٹینرز اور غار دار تاریں لگا کر ریلی کا راستہ روک دیا گیا۔ کنٹینرز پر لیوی کے نوجوان بیٹھا دیے گئے۔ کنٹینرز کے سامنے سراج الحق سینیٹر اورامیر جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا دنیا کے مسلمان یک جان ہیں ۔مسلمانوں کے خلاف جہاں بھی ظلم ہو گا ہم آواز اُٹھائیں گے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ میانمار سے سفارتی تعلوقات ختم کر کے اس کے سفیر کو پاکستان بدر کر کے اپنے سفیر کو واپس بلایا جائے۔ میانمار اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے عالمی چارٹر پر دستخط کیے ہوئے ہیں کہ اپنی اپنی اقلیتوں کا تحفظ کریں گے۔ میانمار نے اس کی خلاف دردی کی ہے۔ روہنگیا کے مسلمانوں نے بدھ مذہب کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ صاحبو! ویسے تو پاکستان میں اقلیتوں کے کچھ شر پسند افرادہمارے رسول ؐکی شان میں گستاخی کرتے ہیں تو ان کے خلاف ملک کے قانون کے مطابق کار وائی کی جاتی ہے تو مغرب کی فنڈڈ این جی اوز ہنگامہ گھڑی کر دیتیں ہیں۔ اب کہا ں ہیں یہ این جی اوز کہ آٹھویں صدی سے آباد روہنگیا کے مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی گی اور یہ آواز نہیں اُٹھا رہیں۔ سراج الحق صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ میانمار کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے۔ انہوں نے اسلامی دنیا کے حکمرانوں سے کہاکہ میانمار کے مسلمانوں کے حق میں آواز اُٹھائیں ان کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا حکومت ہمارے برما کے سفارے خانے پر احتجاج کرنے سے ڈرتی ہے۔ اصل میں اس کو امریکا کا ڈر ہے۔ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور عوام کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا کہوں گا۔ پھر حکمرانوں کی حکمرانی بچے گی نہ ان کے امریکی غلامی ۔ہمارا کام اپنے ملک کی املاک کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ میانمار کے مسلمانوں کے خلاف آواز بلند کر کے دنیا کے ضمیرکو جھنجھوڑنا ہے۔ اس ریلی سے جنگ سے پنجاب اسمبلی کے ممبر،اسلام آباد بار کے عہدہ داروں سول سوسائٹی اور دوسری جماعتیں کے لیڈروں نے بھی خطاب کیا۔ مغرب سے چند منٹ پہلے یہ پرامن ریلی اس دعا پر ختم ہوئی کی روہنگیا کے مسلمانوں کی اللہ تعالیٰ مدد کرے آمین۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Theme

Premium WordPress Themes