بنگلہ دیش میں خونیں انتخابات ،17افراد ہلاک، حسینہ واجد کی پارٹی کو برتری   


کو شائع کی گئی۔ December 31, 2018    ·(TOTAL VIEWS 148)      No Comments

ڈھاکا (یواین پی)بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے سخت سیکیورٹی میں ووٹنگ ہوئی جبکہ پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 17 ہوگئی۔ عوامی لیگ کی شیخ حسینہ واجد کے چوتھی اور مسلسل تیسری بار وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل کرنے کی امید مضبوط تر ہوگئی ہے۔میڈیا کے مطابق ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جس کے بعد مختلف علاقوں میں عوامی لیگ اور اپوزیشن اتحاد کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔پولیس کے مطابق اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے کارکنوں میں جھڑپوں کے دوران 6 افراد مارے گئے جب کہ تین افراد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے اور اپوزیشن کارکنوں کے حملے میں ایک اہلکار بھی مارا گیا ۔کئی پولین سٹیشنوں پر ووٹنگ شروع ہونے سے قبل بیلٹ پیپروں سے بھرے بیلٹ بکس پکڑے گئے۔بنگلہ دیش کی 300 نشستوں پر مشتمل پارلیمان کے لیے 10 کروڑ سے زئد رجسٹرڈ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ووٹنگ کے لیے ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے۔صبح 8 بجے شروع ہونے والا ووٹنگ کا عمل بلاتعطل 4 بجے تک جاری رہا، عام انتخابات کے لیے سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے اور 6 لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ۔۔عوامی لیگ کی سربراہ حسینہ واجد چوتھی بار وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے میدان میں تھیں۔ انہیں دوبارہ حکومت بنانے کے لیے 151 سیٹیں درکار ہیں۔الیکشن کے اعلان کے بعد سے بنگلادیش میں اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے 17 رہنماؤں کوعدالتوں کی جانب سے نااہل قرار دیا جا چکا ہے جب کہ 15 ہزار سے زائد کارکن بھی گرفتار ہوچکے ہیں۔حسینہ واجدکی حریف اوربی این پی کی لیڈر خالدہ ضیا کرپشن کے الزام میں پہلے ہی 17 برس جیل کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

Free WordPress Themes