بھارتی آبی جارحیت    


کو شائع کی گئی۔ June 13, 2018    ·(TOTAL VIEWS 67)      No Comments

تحریر۔۔۔ محمود حسن
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پانی زندگی کی ایک اہم ضرورت ہے اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتادنیا بھر میں پانی کے زخائیر تیزی سے کم ہو رہے ہیںیہ صورت حال اتنی پیچدہ ہے کہ ماہرین کے 
مطابق آئندہ عالمی جنگ بھی پانی کے حصول کے لیے ہوگی پاکستان کو بھی اس وقت پانی کا اہم تر ین مسلۂ درپیش ہے پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیاوہ کیسی نہ کیسی بہانے سے پاکستان کے خلاف سازش کرتا رہتا ہے اس بار بھارت نے جوسازش کی ہے وہ کشن گنگا ڈیم 330میگاواٹ منصوبہ ہے جو کہ دریائے نیلم کے پانی پر تعمیر کیا گیا ہے بھارت اس دریا کو گنگا کہتا ہے اور یہ دریا پاکستان میں دریائے نیلم کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہ وادی نیلم سے گزرتا ہوا آزاد کشمیر مظفرآباد کے قریب دومیل کے مقام پر دریائے جہلم میں جا گر تا ہے بھارت نے اس دریا کے اوپر مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا ڈیم بنایا ہے جس میں وہ پاکستان کا پانی روک لے گا کیشن گنگا جہلم کا معاون دریا ہے اس لیے اس کے پانی پر پاکستان کاحق ہے بھارت مسلسل آبی جارحیت کرتا آرہا ہے اس منصوبہ پر بھارت نے تقریبا 6ہزار کڑور روپے خرچ کردیے ہیںیہ منصوبہ مقبوضہ کشمیر کی گریز وادی سے بانڈی پورہ تک پھیلاہوا ہے جہاں 24کلومیٹر لمبی سرنگ بناکر اس کا رستہ تبدیل کر کے اسے رولر جھیل میں اتاردیا گیا ہے جہاں سے یہ واپس جہلم کے پانی کے ساتھ پاکستان میں چلاجاتا ہے بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلا ف ورزی کی ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960تک پانیوں کے استعمال پر تنازع چلتا رہا ہے جو کے 1960میں پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم نہرو نے ولڈبنک کے نائب صدر کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ ہواکیوں کہ تقسیم ہند کے وقت زمین تو تقسیم ہوگئی تھی لیکن پانی کی نہیں پانی کی لرائی کی وجہ سے اس معاہدے پے دستخط کیے گئے سندھ طاس معاہدے میں جو بات طے ہوئی یہ تھی کہ انڈس بیسن کے دریاؤں اور ان کی معاون ندیوں کا پانی کون اور کیسے استعمال کرے گا تین دریا پاکستان کے حصے میں آئے اور تین بھارت کے حصے ان دریاؤں کو مشرقی اور مغربی دریاؤں کا نام دیا گیا سندھ جہلم اور چناب مغربی دریا ہیں جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے جبکہ راوی بیاس اور ستلج مشرقی دریا ہیں جن کے پانی پر بھارت کا حق ہے اس معاہدے کے مطابق کچھ شرائط پر بھارت مغربی دریاؤں کا پانی بھی استمعال کر سکتا ہے بھارت دریا کا قدرتی رخ تبدیل نہیں کر سکتابھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے بھارت مسلسل آبی جارحیت کرتاآرہا ہے پاکستان کے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرتا آرہا ہے پاکستان کا موقف ہے کہ اس منصوبہ سے دونوں ہی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی ہے نیلم میں پانی کی تعدادمیں 27فیصد کمی ہو گی اور بھارت نے اس دریا کا رستہ بھی تبدیل کردیا ہے جس سے وادی نیلم کا سارا علاقہ اجاڑ اور بیابان ہو جائے گا وادی نیلم کا 41ہزار ایکڑرقبہ دریائے نیلم سے سیراب ہوتا ہے یہ 230کلومیٹر کا علاقہ تقریبا اڑھائی سو دہیاتوں پر مشتمل ہے یہ سارا علاقہ دریا کے پانی سے محروم ہو جائے گا یہاں پر چاول کی کاشت بھی متاثر ہو گی یہاں کے لوگ 12سو ٹن ٹراؤٹ مچھلی سلانہ پکڑ کر مارکٹ میں فروخت کرتے ہیں وہ بھی بیروزگار ہو جائے گے یہان کے جنگلات اور ہریالی سب تباہ ہو جائے گی یہ وادی بلکل ہی بیابان ہوجائے گی اور نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کا مستقبل بھی خطرہ میں ہے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پرجیکٹ کی پیداوار میں 20فیصد کمی واقع ہو گی جس سے بجلی کی پیداوار میں بھی کمی آئے گی پاکستان نے اس معاملے میں عالمی بنک کا دروازہ بھی کھٹکٹھایا تھا 2010میں یہ تنازع مصالحت کی عدالت میں پہنچا جس نے اس پراجیکٹ کو روکنے کا حکم بھی دیا تھا لیکن تین سال بعد اس ہی عدالت نے بھارت کو بجلی گھر بنانے کی اجازت بھی دے دی اور حکم دیا کہ بھارت کشن گنگا میں پانی کی تعین شدہ مقدارکے بہاؤ کو یقینی بنائے گابھارت نے اس پرجیکٹ کو دوبارہ شروع کر دیا اس کے بعد پاکستان نے 2016میں دوبارہ عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور کشن گنگا کے ڈزائن سے عدالت کو اپنے تحفظات سے آغا کیا جس کی سماعت گزشتہ سال ستمبر میں ہوئی پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائے پاکستان نے اپنا کیس عالمی بنک میں پیش کیا لیکن عالمی بنک نے پاکستان کی شکایت اور شواہد کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے ترجمان عالمی بنک کے مطابق عالمی بنک کا قردار اس معاہدے میں نہایت ہی مختصر ہے وہ کچھ نہیں کر سکتا اب مودی سرکار نے اس منصوبے کا باضبط افتتاح بھی کردیا گیا ہے پاکستان اور بھارت کی سندھ طاس معاہدے کے بعد 1965اور1971دوجنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن 2016تک اس معاہدے کو آنچ نہیں آئی جبکہ2016کے بعد مودی کی حکومت کے ارکان ؂ کا یہ مطالبہ بھی سامنے آچکا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو فوری ختم کیا جائے بھارت نے بجلی کی پیداوار کے بہانے پاکستان کے پانی پر قبضہ تو کر لیا ہے لیکن آنے والے وقت میں یہ ایک خوفناک منصوبہ سابت ہو گا بھارت مسلسل آبی جارحیت کر تاآرہاہے اور افسوس اس بات کاہے کہ ہماری حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں ہی مصروف رہی پانی کا مسلہ کتنا سنگین رخ اختیار کرے گا یہ تو آنے والا واقت ہی بتائے گااللہ پاک پاکستان کو ہمیشہ سقائم دائم رکھے اور اندرونی اور بیرونی دونوں دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ 

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Theme