بیرونی ممالک میں ہمارے ملک کی معیاری زرعی اشیاءکی مانگ بہت زیادہ ہے عثمان قریشی   


کو شائع کی گئی۔ October 16, 2020    ·(TOTAL VIEWS 73)      No Comments

ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی اور پوٹیٹو گرورز کوآپریٹو سوسائٹی اوکاڑہ کے اشتراک سے پوٹیٹو سیمینار
اوکاڑہ (یو این پی ) ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی اور پوٹیٹو گرورز کوآپریٹو سوسائٹی اوکاڑہ پاکستان کے اشتراک سے پوٹیٹو سیمینار کا انعقاد ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکپورٹ کمپنی اور پوٹیٹو گرورز کوآپریٹو سوسائٹی کے اشتراک سے پوٹیٹو سیمینار مقامی ہوٹل میں منعقد ہواجس میں کاشتکاروں سیڈ امپورٹرز ایکسپورٹرز فریڈرک پلانٹس اونرز۔ آلو کے سائنسدانوں بیوروکریٹس اور ہارٹی کلچر افسران نے شرکت کی۔ شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ بورڈ،جوائنٹ سیکریٹری امپورٹ ایکسپورٹس عثمان قریشی نے خطاب میں بتایا کہ بیرونی ممالک میں ہمارے ملک کی معیاری زرعی اشیاءکی مانگ بہت زیادہ ہے ہمارا بورڈ آلو، پیاز، آم، کنوں اور سبزیات کو برآمد کروانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ہم نئی مارکیٹ کی تلاش میں رہتے ہیں اسلئے کاشکاروں کو چاہیئے کہ بین الاقوامی معیار کے آلو پیدا کریں تا کہ برآمد ہو سکیں۔ جنرل مینجرسرفراز اقبال نے کہا کہ ہمارا محکمہ کئی سال سے کاشت کی ہارٹی اجناس برآمد کروا رہا ہے آج کا سیمینار اسی سلسلہ کی کڑی ہے ،سید افتخار نے شرکاءکو زور دیا ویلیو ایڈیشن کریں اور غیر روائتی فصلات کاشت کریں ،ڈاکٹر اختر نواز ہزارہ ریسرچ سٹیشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادارے نے آلو کی نئی اقسام تیار کی ہیں آلو کے ساتھ مٹر کاشت کرتے ہیں جس سے کاشت کاروں کو موسم کے مطابق بہتر ریٹ مل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد ظفر پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ آلو کی برآمد بڑھ رہی ہے ہم پوٹیٹو سوسائٹی کے مطالبہ پر سیزن میں کیمپ آفس اوکاڑا بناتے ہیں تا کہ ایکسپورٹرز کو سہولیات میسر ہوں۔ ڈاکٹر اعجاز الحسن نے بتایا کہ چئیرمین بورڈ چودھری مقصود احمد جٹ کی سربراہی میں ادارہ نے سات آلو کی نئی ورائٹی تیار کی ہیں جو جلد کاشت کاروں کو مل جائیں گی ،چودھری مقصود احمد جٹ چئیرمین پوٹیٹو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب،نائب صدر پوٹیٹو گرورز سوسائٹی نے سیمینار کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا مجھے سوسائٹی کے اکابرین نے با اختیار نمائندہ بنایا ہے نمائندگی کرتے ہوئے بورڈ کا ممبر ہوں بورڈ ممبرز نے متفقہ طور پر دوسری مرتبہ چئیرمین منتخب کیا۔ انہوں نے کہا زرعی مداخل کاشت کاروں کے بنیادی مسائل ہیں جن میں مہنگی کھادیں بیج سپرے مشینری ڈیزل بجلی وغیرہ شامل ہیں آلو کے بیج مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ہارٹی کلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ بورڈ کا پہلی مرتبہ آلو سیمینار منعقد کروانے پرشکریہ ادا کیااور کہا کہ آلو کی برآمد کی کوشش اچھی ریت ہے لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے آلو کی برآمد پر پابندی کی تلوار آپ کی کوششوں کی نفی ہے۔ انہوں نے تجویز اور مطالبہ کیا کہ آلو کے تمام مسائل وفاق کے متعلقہ ہیں اس کے حل کے لئے تمباکو بورڈ کی طرز پر پاکستان پوٹیٹو ڈویلپمنٹ بورڈ بنایا جائے جس میں تمام متعلقہ وفاقی محکموں کے چاروں صوبوں کے زراعت کے نمائندے امپورٹرز ایکسپورٹرز پوٹیٹو سوسائٹی شامل ہوں تاکہ تمام مسائل بورڈ خود حل کرے میاں محمد صدیق صدر نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ سیمینار کےآخر میں ہارٹی کلچر بورڈ نے چودھری مقصود میاں محمد صدیق صدر چیمبر آف کامرس ساہیوال کو ان کی مثالی کاکردگی پر ایوارڈ دئے اور شرکاءکے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Free WordPress Themes