بیچ کر دشمنوں کو ماں اپنی   


کو شائع کی گئی۔ May 13, 2018    ·(TOTAL VIEWS 80)      No Comments

تحریر۔۔۔ چوہدری ناصر گجر
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے گدھ نما انسان موجود ہیں جو اس ملک اور اسکی عوام کو زندہ نوچ نوچ کھا ئے جارہے ہیں ۔ اور وہ بھی اس منظم طریقے سے کہ لوگوں کو بے وقوف بنا کر اپنے حق میں ’’زندہ باد ‘‘ کے نعرے بھی لگوا رہے ہیں ۔ اسلام کی بنیاد پر وجود میں آنے والے اس ملک کو تباہی کی طرف لے جانے والے رات دن اسی فکر میں رہتے ہیں کہ ملکی سلامتی کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں ۔ ہمارے ملک میں نام نہاد دین کے ٹھیکیداروں نے ’’نفرت اور انتشار کے اتنے بیج بوئے کہ ان کو سینچنے کیلئے لاکھوں بے گناہ لوگوں کا خو ن بھی لوگوں کے ذہنوں سے مذہبی منافرت کے جنون کو کم نہ کر سکا۔ اسلام مخالف لوگوں نے بھی لبرل ازم کے نام پر اسلام پر طرح طرح کے کیچڑ اچھالے اور مسلمان کو صرف ’’دہشتگرد‘‘ کے طور پر دنیا میں متعارف کروایا۔ پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان میں ایسے ایسے کارندے بٹھا رکھے ہیں جو ایک اشارے پر ملک میں مذہبی ، لسانی اور صوبائی تعصب کی بنیاد پر خون خرابے کردیتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر ہمارے ملک کے وہ سیاستدان جو جمہوریت کا مطلب صرف یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اور ان کی اولاد کی بادشاہت کا نام جمہوریت ہے ۔ پاکستان کی ترقی کا نعرہ لگانے والے یہ سیاستدان دراصل پاکستان کے دشمن ممالک کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ان سیاستدانوں کی اولادیں ، جائیدادیں زیادہ تر بیرون ملک میں ہی ہیں جبکہ حکومت وہ یہاں کر رہے ہیں ۔ کسی بھی ملک کا بیڑہ غرق کرنے کیلئے اس کی معیشت کو تباہ و برباد کر دینا ہی کافی ہے اور اس کام میں ہمارے سیاستدان اور ان کا ٹولہ اوور ٹائم کام کر رہا ہے ۔ملکی ادارے زوال پذیر جبکہ ان کے اپنے کاروبار روزانہ لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں یہ منطق سمجھ سے باہر ہے ۔اگر کوئی محب وطن پاکستانی ان سے کمائی کا حساب پوچھ لے تو اسے پاکستان کی ترقی کا دشمن قرار دے دیتے ہیں ۔کیونکہ ان کی نظر میں شاید ان کا خاندان اور ان کے خاندان کا نام ہی پاکستان ہے۔
اپنے مفاد کی خاطر ہی ان سیاستدانوں نے 1971ء میں پاکستان کو دوٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔ اب نواز شریف اپنا دکھڑا لے کر میدان عمل میں ہے جیسے جیسے ان کی جائیدادوں کی ترقی بارے پوچھ گچھ شروع ہوئی ویسے ویسے ان کے لہجے میں تلخی آتی گئی شروع شروع میں نواز شریف نے اشاروں میں سقوط ڈھاکہ کا ذکر کرتے ہوئے دوبارہ ایسی نوبت کی دھمکیاں دیں ۔ پھر آہستہ آہستہ عدلیہ کے بارے زبان دراز سے دراز ہوتی چلی گئی۔ پھر فوج کے خلاف لوگوں کو ورغلانے کی مہم شروع کر دی گئی۔ ان کا رویہ دیکھ کر ایڈولف ہٹلر کی بات یاد آگئی کہ ’’ کسی بھی قوم پہ کاری ضرب لگانے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس ملک کی فوج کو اس قوم کی نظروں میں اتنا مشکوک بنا دو کہ وہ اپنے محافظوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگیں ‘‘۔
ان زبانی جملوں کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف نے عملی حملے بھی شروع کر دئیے ہیں ۔ محمود خان اچکزئی کو ساتھ ملا لیا اور پھر دیکھنے میں آیا کہ منظور پشتین نامی ایک شخص نے پشتونوں کا نام لے کر ایک تحریک شروع کر دی اور پاکستانی فوج کو مارنے ، جلسوں میں پاکستانی پرچم پر پابندی اور اسرائیل زندہ باد کے کھلے عام نعرے لگائے جانے لگے ۔ یہ سب دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں نواز شریف کے وہی الفاظ گونجنے لگے جن میں اس نے سقوط ڈھاکہ کا ذکر کیا تھا ۔ میری ذاتی رائے کے مطابق اس منظور پشتین کو لانچ کرنے میں ان کا ہاتھ ضرور ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ میرا تجزیہ غلط ہو لیکن واقعات کو مد نظر رکھا جائے تو تمام کڑیاں دشمن ممالک اور پاکستان کے دشمن ایسے سیاستدان ہی ان کے پیچھے نظر آتے ہیں ۔ یہ لوگ صرف اور صرف اپنی ذات ، اپنے مفاد کے حامی ہیں اور اس کی خاطر انہیں کسی بھی حد تک جانا پڑے تو یہ ذرہ برابر بھی گریز نہیں کریں گے۔ اور کون اس حقیقت سے واقف نہیں کہ زرداری ٹولہ ہو یا نواز شریف ٹولہ سب اپنے مقاصد کیلئے کھلے عام قتل و غارت گری سے ہرگز اجتناب نہیں کرتے۔ جیسے جیسے احتساب عدالت میں مقدمات کے فیصلوں کا وقت قریب آ رہا ہے ویسے ویسے ان کے ملک میں انتشار پھیلانے والے بیانا ت اور کاروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ہر محب وطن پاکستانی کو چاہئے کہ اس ملک کی بھلائی اور سلامتی کی خاطر ان جھوٹے لوگوں کی باتوں میں ہر گز نہ آئیں کیوں کہ اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں ورنہ ہمارے بچے بھی شام میں موجود بچوں کی طرح ہو جائیں گے جن کا کوئی پرسان حال نہ ہو گا۔ اللہ رب العزت ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین ۔آخر میں ایک حقیقت سے قریب تر ان سیاسیوں کی نذرشاعر ملک شفقت اللہ کے دو اشعار:
عیش و عشرت کریں مرے بچے 
لوٹ کے ملک کھا رہا ہوں میں
بیچ کر دشمنوں کو ماں اپنی
جشن کیسا منا رہا ہوں میں 

Readers Comments (0)




WordPress主题

Premium WordPress Themes