تجدید عہد وفا …غیرت اورہمت   


کو شائع کی گئی۔ September 3, 2019    ·(TOTAL VIEWS 46)      No Comments

تحریر۔۔۔علی رضا رانا
زندہ قومیں تاریخ کے اوراق پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں کہ یہ لوگ ان پر چل کر اپنی منزلیں با آسانی بنا سکتے ہیں اور ماضی کی روشنی میں حال کی راہوں کو متعین کرتے ہیں عزیز پاکستان زبان ، نسل اور علاقے کے بجائے محض اخوت اسلامی اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہوا ۔تحریک پاکستان میں ان لوگوں کا نمایاں کردار رہا ہے کہ جنھیں اس شجر سایہ دار کے سائے سے بھی محروم رکھا گیا ۔6سمبر1965پاکستان کی تاریخ کا سنہرا دن مسلمانوں کے باہم اتحاد اور کوششوں کا عملی مظہر ہے جس نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا ،جذبہ ایمانی کے ذریعے بھارت کے شب خون کا منہ توڑ جواب دیا ۔ یوم دفاع تجدید کا دن ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان نفرتوں ، عداوتوں کی خلیج کو باٹ کر اپنی گم کردہ راہ کو پالیں اور متحد ہوکر بیرونی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ باور کرادیں کہ ابھی ایمان کی حرارت دلوں میں زندہ ہے ،مگر آج ہمارے ملک کو کئی بیرونی خطر عات کا سامنا ہے مگر یہ یوم دفاع تجدید عہد وفا کا دن ہے ،اپنے اندر جذبہ ایمانی وغیرت ایمانی بیدار کرنے کا دن ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان نفرتوں ، عداوتوں کی خلیج کو ختم کرکے “ایک کلمہ ، ایک رسول ﷺایک قرآن کے ماننے والے “اپنی گم کردہ راہ کو پالیں، قرآن سے رشتہ جوڑ کر غیروں کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دیں ، متحد ہوکر بیرونی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ باور کرادیں کہ ابھی ایمان کی حرارت دلوں میں زندہ ہے اور جب تک مسلمان ایمان پر قائم رہے گا ، ایک جسم ، ایک جتھے کی مانند رہے گا جس کا کوئی بال بھی باکا نہیں کرسکے گا ، اس ہی طرح “قرآن مجید “کے مکمل مطالعے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ “اﷲ تعالی نے جہاد کا حکم دیا ہے ” “لیکن شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگنے کی تلقین نہیں فرمائی لہذا مسلمان نہ شکست کھاتا ہے نہ ہتھیار پھینکتا ہے “پاکستان ایشیا کے مسلمانوں کا قلعہ نہیں ہے بلکہ یہ تمام عالم اسلام کا قلعہ ہے اگر یہ قلعہ مضبوط مستحکم ہوگا تو سارے عالم اسلام کے لئے قوت واستحکام کا موجب ہوگا اگر یہ قلعہ کسی لحاظ سے کمزوری اور ضعف کا سبب بنا تو پورا عالم اسلام متاثر ہوگا۔ چنانچہ 22جنوری 1948ءکو قائد اعظم نے جہاز “دلاور”کے افتتاح کے موقع پر ، اس ہی حوالے سے فرمایا کہ “پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں آپ میں سے ہر ایک کو اپنی الگ الگ جگہ انتہائی اہم کردار ادا کرنا ہے ، اس کے لئے آپ کا نعرہ یہ ہونا چاہیے کہ “ایمان ، تنظیم اور اتحاد “آپ اپنی تعداد کے کم ہونے پر نہ جائیے ،کسی کو آپ کی ہمت واستقلال اور بے لوث فرض شناسی سے پورا کرنا پڑے گا کیونکہ اصل چیز زندگی نہیں ہے بلکہ ہمت ، صبرو تحمل اور عزم مصمم رہیں جو زندگی کو زندگی بنا دیتے ہیں ۔ ” یہ حضرت قائد اعظم ہی کا روحانی تصور ہے “کہ پاکستان ہندوستان کے مقابلے میں 6ایٹمی دھما کے کرنے میں کامیاب ہوا اور آج ایٹمی ریاست کے طور پر جانا چاہتا ہے ۔
سلامتی ہی سلامتی کی دعائیں خلق خدا کی خاطر ہماری مٹی پر حرف آیا تو عہد فتح مبین لکھیں گے
خلیل آتش نشین کی میراث کا تسلسل نگاہ میں ہے سو امتحاں سے گزرنے والوں پر حرف صد آفریں لکھیں گے
مگر ہم چاہیے کہ ہم ایک قوم اور ایک انسان بن کر ایک ملک وقوم کی بقاءکے خاطر کوشش کریں اس وقت ملک پاکستان ایک بار پھر دشمنوں کی نظر میں کھٹک رہا ہے ، ہمیں آپسی ،سیاسی اور دیگر اختلافات بھلاکر ، ایک پاکستانی بن کر ملک و قوم کی بقاءکے لئے کھڑا ہوناہوگا اور1965کی طرح آج بھی ایک قوم ، اتحاد سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیناہوگا ہم نے ملک پاکستانی بہت قربانیوں سے حاصل کیا ہے ،اورمہاجرین ، افواج کی شہادتوں کے بعد تعمیر کیا ہے ۔آج 74سال بعدتک افواج اور قوم قربانیاں دیتی آرہی ہے جس کے باعث ملک وقوم قائم ودائم ہے ۔آخر قائد اعظم محمد علی جناح کے 13اپریل 1948اسلامیہ کالج پشاور کے اس خطاب پر کرتا ہوں ۔پاکستان اپنے نو جوانوں پر فخر کرتا ہے خصوصا طلبہ پرجو ہر ضرورت کے وقت پیش پیش رہے ہیں ۔ نوجوانوں تم مستقبل کے معمار ہو ، تمھیں نظم و ضبط سے کام لینا ہے اور تعلیم وتربیت حاصل کرنا ہے تاکہ صبر آزما مسائل سے نمٹ سکے مستقبل کی ذمے داریوں کا بوجھ بھی تمھارے کاندھوں پر ہے ۔ لہذا اس مشکل وقت کے لئے تیار رہوں ۔نو جوانوں میں تمھیں پاکستان کا معمار سمجھتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی باری پرکیا کچھ کر دکھاتے ہو ۔ اس طرح رہو کہ کوئی تمھیں گم راہ نہ کرسکے ۔ اپنی صفوں میں اتحاد اور مضبوطی پید ا کرو،تمھارا اصل کام کیا ہے ؟” اپنی ذات سے وفاداری ، اپنے والدین سے وفاداری ،اپنے ملک سے وفاداری ،اپنی تعلیم پر پوری توجہ ۔آخر میں اسلام احترام انسانیت ، خدمت خلق اور معاشرتی و سماجی فلاح کا سب سے بڑا داعی ہے جس میں مسلمان پر ایک دوسرے کی جان و مال آبرو حرام ہے ، اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھنا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اہل ایمان کی مثال ایک دوسرے سے محبت کرنے ، ایک دوسرے کا غم کھانے اوردوسرے پر مہربانی کرنے میں جسم کی مانند ہے کہ اگر اس کاایک حصہ تکلیف سے دو چار ہوتا ہے تو سارا جسم اسی کیفیت کا شکا رہوجاتا ہے اور بے خوبی بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے )صحیح مسلم (”مسلمان مسلمان کے لئے آئینہ ہے ،مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور ہر وقت اس کی مدد کے لئے کھڑا رہتاہے “۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Free WordPress Themes