تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں!۔۔۔مگر   


کو شائع کی گئی۔ February 9, 2019    ·(TOTAL VIEWS 77)      No Comments

تحریر۔۔۔ مظہر عباس 
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے جب سے بنی نوع انسان کوتخلیق فرمایا ،اس وقت سے لے کرآج تک ،خوشی اورغمی کے لمحات اس کیلئے لازم وملزوم کردئیے گئے۔ہردورمیں انسان کو مسائل کاسامنارہا،چھوٹے،بڑے اورگھمبیرمسائل رہے ،ضروری نہیں کہ انسان کوتمام مسائل سے نجات مل جائے ،ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کے بنیادی مسائل حل ہوجائیں تویقیناًایسا ہی ہوتاہے کہ اس کے تمام مسائل حل ہوگئے۔اس وقت سے لیکرآج تک ،گھرکے ایک فرد سے لیکر ایک خاندان کے افراد،ایک گلی اورمحلے کے افراد ،ایک شہریاایک ضلع کے افراد یہاں تک کہ صوبائی اورملکی سطح پر ایک عام سے لیکر خاص تک ہر انسان کوآج بھی کئی طرح کے مسائل کاسامنا ہے بلکہ موجودہ دورکومسائل سے بھرپوردورکہاجائے توبے جانہ ہوگا۔ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ ایک فردکوکتنے مسائل کاسامناہے؟ایک خاندان کواپنے اہل وعیال کی زندہ رکھنے کیلئے کتنے مسائل درپیش ہیں؟ایک لوکل گورنمنٹ سے لیکر صوبائی اورقومی سطح پر حکومتوں کوکن کن مسائل کاسامنا ہے ؟موجودہ دورانسانیت کیلئے انتہائی تکلیف دورثابت ہواہے،کہیں غربت،بیروزگاری اورمہنگائی سمیت بڑے بڑے گھمبیرمسائل نے انسانیت کوجھنجھوڑکررکھ دیاہے۔ایسے دورمیں رزق حلال کماناانتہائی دشوارگزارہوگیاہے،اکثریت جائز اورناجائز طریقے سے اپنی جیب بھرنے کے چکرمیں اپنے خونی رشتوں تک کواپنی ہوس کانشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کررہی۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ کی ذات اقدس کے بارے میں مشہورہے کہ وہ ذات پاک اپنے بندے سے 70ماؤں سے بھی بڑھ کرپیار اورمحبت فرماتاہے،پھر یہ کیسے ہوسکتاہے کہ آج کے دورمیں اسی کے بندے انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام سے اتنے گرجائیں کہ خود انسانیت بھی شرمندہ ہوجائے۔ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے !وہ کون سے مسائل ہیں جن کی بنیاد پرانسان آ ج انسانیت کے اعلیٰ مقام سے اتناہی گرگیا ہے کہ ایک طرف تواس نے اپنے 70ماؤں سے بڑھ کرپیار فرمانیوالے خالق ومالک اورسچے معبود کوبھلادیا ہے اوردوسری طرف اس نے اپنے تمام قیمتی رشتوں کوبھی اپنی ہوس اورلالچ کی بھینٹ چڑھادیا ہے۔
ایک وقت تھا کہ اسی انسان کوتمام فرشتوں سے سجدہ کرایاگیااورآج وہی انسان ،انسانیت کے اس اعلیٰ ترین مقام سے کیوں اتناگِرگیا ہے ؟
جب تک انسان کواہل نظرہستیوں کی صحبت،نسبت اوران سے عقیدت ومحبت رہی ،یہ انسان فرشتوں سے بھی اعلیٰ ترین مقام پر فائز رہا،کبھی سیدنا آدم صفی اللہ علیٰ نبینا علیہ السلام کی صورت میں ،کبھی سیدنانوح النجی اللہ علیٰ نبینا علیہ السلام کی صورت میں،کبھی سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا علیہ السلام کی صورت میں،کبھی سیدنا اسماعیل ذبیع اللہ علیٰ نبینا علیہ السلام کی صورت میں،کبھی سیدنا داؤد خلیفتہ اللہ علیٰ نبینا علیہ السلام کی صورت میں،کبھی سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبینا علیہ السلام کی صورت میں،کبھی سیدنا عیسیٰ روح اللہ علیٰ نبینا علیہ السلام اورکبھی وجہ تخلیق کائنات ،مختارکل ،حبیب اعظم ،سیدالمرسلین خاتم النبین حضورنبی کریم روف الرحیم سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کی صورت میں یہ اہل نظرہستیاں انسانیت کوحیوانیت سے نکال کرانسانیت کے اعلیٰ وارفع مقام پر فائز کرتی رہیں۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے سلسلہ رشد وہدایت کویہاں تک ختم نہیں فرمادیابلکہ اسی سلسلے کواپنے حبیب اعظم ﷺکے وارثین کے ذریعے قائم رکھاجوتاقیامت جاری رہیگا۔خاتم المرسلین حضورپرنورﷺ کے ظاہری پردہ فرماجانے کے بعد آپﷺ کے وارثین (اہل نظرہستیوں)میں سب سے پہلے امام العاشقین حضورسیدنا صدیق اکبرؓ ،آپؓ کے بعد مرادرسولﷺحضورسیدنا عمرفاروق اعظمؓ ،آپؓ کے بعد امیر المومنین امام المتقین حضورسیدنا عثمان غنی ذوالنورینؓاورپھر آپؓکے بعد مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ شیر خداکرم اللہ وجہ الکریمؓ نے مسند وراثت سنبھالی۔اس دورمیں بھی جن خوش نصیبوں کوان اہل نظرہستیوں کی صحبت ،نسبت،سنگت اورعقیدت ومحبت نصیب ہوئی وہ یقیناًیقیناًنہ صرف ہرطرح کے مسائل سے بچے بلکہ مسائل میں گھرے ہوئے لوگوں کوبچانے والے بن گئے۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اسی پاک سنگت کوجوازل سے قائم فرمائی اورچونکہ اس کوقیامت تک قائم بھی رکھنا ہے،وہی پاک سنگت ان نفوس قدسیہ کے بعد جاری رہی ،کبھی مخدوم امم ،سید الواصلین حضورسیدنا داتاگنج بخش علی ھجویری ؒ کے روپ میں،کبھی پیران پیر،روشن ضمیر،محبوب سبحانی شہبازلامکانی،غو ث الصمدانی حضورسیدنا عبدالقادرجیلانیؓ غوث الاعظم دستگیرکے روپ میں،کبھی حضورسیدنا مجددالف ثانی ؒ کی صورت میں،کبھی سلطان العارفین سلطان باہوؒ کے روپ میں،کبھی سلطان الہندحضورسیدنا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کے روپ میں،کبھی زہدالانبیاء حضوربابا فرید الدین گنج شکر ؒ کے روپ میں،کبھی سخی لعل شہباز قلندر ؒ کے روپ میں ،کبھی امیر ملت پیر سیدجماعت علی شاہ محدث علی پوری ؒ کے روپ میں اورکبھی پیر جن وبشر،غوث الاغیاث ،مرشد اکمل حضورسیدنا ولی محمد شاہ چادروالی سرکار ؒ کے روپ میں جاری ہے اوراہل نظرہستیوں کایہ سلسلہ اسی طرح جاری وساری ہے۔
فرمان خداوندی ہے کہ ’’فسئلوااھل الذکران کنتم لاتعلمون’’پس (اے منکرو)تم پوچھو(سوال کرو)اہل ذکرسے اگر تم (خودحقیقت حال کو)نہیں جانتے ‘‘(سورۃ الانبیاء 07)توکہیں فرمان مبارک ہوتاہے کہ ’’الرحمن فسئل بہ خبیرا‘‘’’وہ رحمن ہے سو تو پوچھواس کی تعریف کسی واقف حال سے ‘‘(القرآن)۔۔۔انہی اہل ذکراورباخبرہستیوں کوہی تواہل نظرکہتے ہیں اورجوان سے جڑجاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے جڑجاتے ہیں،وہ اللہ تعالیٰ کے ہوجاتے ہیں اوراللہ تعالیٰ ان کاہوجاتاہے ۔
اہل نظرکی رائے میں 
ایک فرد ،خاندان،علاقے ،شہریاملک کی بات نہ کی جائے کہ ان کے بنیادی مسائل ختم ہوں ،ترقی اورخوشحالی آئے بلکہ آپ ملک پاکستان سمیت دنیا بھرکے حالات وواقعات کوبدلناچاہتے ہیں اورمسائل حل کرناچاہتے ہیں توپھریقیناًیقیناً۔۔۔سب مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔۔۔مگر۔۔۔شرط اولین یہی ہے کہ آج بھی انہی نفوس قدسیہ اوراہل نظرہستیوں کی سنگت ،صحبت اوران سے عقیدت ومحبت کواپنے اوپرلازم کرلیاجائے ،ان کے دامن محبت کومضبوطی سے تھام لیں توپھرکوئی وجہ ہی نہیں ہے کہ آپ نہ صرف اپنے حالات بدل سکتے ہیں بلکہ دنیا جہاں کے حالات بدلنے والے بن سکتے ہیں۔چونکہ آج بھی ازل سے شروع ہونیوالا اہل نظرکاسلسلہ جاری وساری ہے اوراس پاکیزہ سلسلہ سے جومنسلک ہوگئے وہ ہرطرح کے مسائل پرقابوپانے والے بن گئے بلکہ بڑے سے بڑے مسائل کوپلک جھپکنے میں حل کرنیوالے بن گئے۔آج سے پھر وہی انسان جوانسانیت کے اعلیٰ مقام سے حیوانیت کی اتھاہ گہرائیوں میں گِرچکاہے ،اس اعلیٰ وارفع مقام پر فائز ہوسکتاہے اوج ثریاتک پہنچ سکتاہے ،انسانیت کانجات دہندہ بن سکتاہے،بس شرط اتنی سی ہے کہ انہی نفوس قدسیہ سے ٹوٹے ہوئے رشتے کودوبارہ سے جوڑلیاجائے توپھر یقیناًکوئی وجہ نہیں کہ پاکستان توکیا روئے زمین کی تمام انسانیت ترقی اورخوشحالی کے خواب کوتعبیر ہوتاہوادیکھے گی انشاء اللہ ۔اللہ تعالیٰ جل شانہ کی بارگاہ اقدس میں دعاگوہیں کہ ہمیں ان نفوس قدسیہ اہل نظرہستیوں سے سچی عقیدت ومحبت کیساتھ ان کی سنگت ،صحبت اورنسبت پاک پردائمی استقامت عطا فرمائے۔آمین 

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Premium WordPress Themes