جرمنی کی ٹرانس ریپڈ ریل   


کو شائع کی گئی۔ November 16, 2020    ·(TOTAL VIEWS 46)      No Comments

مقصودانجم کمبوہ
برلن آج کل یورپ کا سب سے بڑا تعمیراتی مرکز بنا ہوا ہے جرمن دارلحکومت کے گورننگ مئیر ایبر ہارڈ ڈیپگن نے کہاکہ اس کاثبوت وہ1200 کرین ہیں جو وسیع رقبے پر مصروف عمل ہیں تقریباً دو ہزار جگہوں پر تعمیراتی سر گرمیاں زور و شور سے جاری ہیں سب سے بڑا تعمیراتی شعبہ پو ٹسد امر پلٹز میں ہے جہاں 1100 مربع میٹر رقبے پر تعمیراتی کام ہورہا ہے یہ وہی علاقہ ہے جو جرمنی کی تقسیم کے برسوں میںاجاڑ اور ویران تھا اور یہاں ہر طرف کھار دار تار اور کنکریٹ کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا لیکن وہ دن دور نہیں جب جرمن دارلحکومت کا یہ علاقہ کاروباری اورزندگی سے بھر پور نظر آئے گا ڈملر بینز اور ڈونچے بینک جیسے دنیا کے معروف ادارے اس جگہ منتقل ہورہے ہیں پُرانے ایسپو لینڈے ہوٹل کے شاہی ہال قیسر سال کو سونی کمپنی کے نئے کملیکس میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی ٹیکنیکل وجوہات کی بناءپر 1800ٹن وزنی بینکوئیٹ ہال کو جہاں اس صدی کے آغاز میں قیسر جرمنی اکثر کھانا کھایا کرتا تھا اس جگہ سے ہٹا کر منتقل کیا جائے گا اس علاقے میں زیرِ زمین سرنگیں تعمیر کی جائیں گی ان راستوں کے ذریعے اندرون شہر کے علاوہ بیرون شہر ٹریفک گذرے گی پریرس کے ڈیپارٹمنٹ اسٹور جو جدید ترین فیشن اور بہترین کھانوں کے لئے مشہورہے برلن کے سابق مشرقی حصے “فریڈ رش سٹرا سے “میں اس کی شاخ پہلے ہی قائم ہو چکی ہے پوٹسد امر پلٹز کے بعد فریڈرش سسٹرا سے برلن کا دوسرا بڑا تعمیراتی علاقہ ہے امریکی سرمایہ کار لوڈر کاسمیٹک کمپنی کے ارد گرد ایک بلین مارک سے زیادہ رقم خرچ کر کے کاروباری ادارے قائم کر رہے ہیں اتحاد سے پہلے اس جگہ” چارلی چیک پوائنٹ ©”نامی مشہور چوکی تھی بیرونی ملکوں کے سفارتی نمائندے اور مغر بی ملکوں کے لوگ اس علاقے کو دیکھنے جاتے ہیں جرمن حکومت کے نئے دفاتر ایک موڑ پر دریائے اسپری کے دونوں کناروں پر زیرِ تعمیر ہیں ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس ان دفاتر کے بالکل قریب ©”رشٹاگ “میں ہوا کریں گے جسے نئے سرے سے تعمیرکیا جارہا ہے وفاقی چانسلر کی سرکاری رہائش گاہ بھی اسی علاقے میں تعمیر کی جاچکی ہے پارلیمنٹ اور حکومت کے نئے دفاتر موجودہ صدی کے اختتام پر مکمل ہو چکے ہیں برلن میں مختلف تعمیراتی منصوبے عالمی شہرت یافتہ ماہرین کی نگرانی میں مکمل کیے جاچکے ہیں جن میں رینزوپیانو اور سوالڈ میتاس یونگر ریچرڈ روجرز اور اراٹا اسو زاکی جیسے ماہرین فن شامل ہیں اس لئے گورننگ مئیر ڈیپگن کے بقول یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگا کہ برلن تعمیراتی علاقے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں چیک پوائنٹ چارلی گروپ کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر فرینک شمیخل نے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی سر گرمیوں کی مناسبت سے©” تعمیراتی ثقافت “کے عنوان سے فن کا ایک نیا شعبہ اور شکل دریافت کی ہے اس پروگرام کے تحت اس سال موسمِ گرما میں دنیا کے مختلف ملکوں کے فنکاروں نے تفریحی پروگرام پیش کیے جن کا مجموعی دورانیہ آٹھ سو گھنٹے بنتا ہے اس پروگرام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ایک تعمیراتی علاقے میں شور شرابے ، گردوغبار اور ٹریفک میں رکاوٹ کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے بیرونی دنیا سے رابطے کے لئے شہر کے سِرے پر شونے فیلڈ میں مرکزی ہوائی اڈہ تعمیر کیا جائے گا اندورن ملک فضائی سروس کا مقابلہ انتہائی جدید ٹیکنالوجی کی حامل ریلوے سروس سے ہوگا۔ ٹرانس ریپڈ ریلوے کی یہ سروس برلن میں سرکاری دفاتر کے علا قے سے جرمنی کی شمالی بندر گاہ ہمبرگ تک چلے گی ٹرانس ریپڈ ریل 400 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے 280کلومیٹر کا فاصلہ ایک گھنٹے سے کم وقت میںتہہ کرے گی اس ریلوے کا پہلا سیکشن 1998ءمیں تیار ہوا اور پورا منصوبہ 2005ءمیں مکمل ہوا اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ہمبرگ اور برلن کے درمیا ن ٹرانس ریپڈ دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی سروس ہوگی ٹرانس ریپڈ ریل کے منصوبے پر بھاری سرمایہ خرچ ہورہا ہے یہ رقم ٹیکس ادا کرنے والوں سے حاصل ہو رہی ہے اس منصوبے کے بارے میں شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے اتحاد کے بعد جرمنی کے نئے اور پُرانے صوبوں کو برلن سے ملانے والے ٹرانسپورٹ ذرائع کو بہتر بنانے کے کسی اور منصوبے پر لوگوں میں اتنا زیادہ اختلاف رائے دیکھنے میں نہیں آیا لیکن توقع ہے کہ مقنا طیسی ٹیکنالوجی پر مبنی اس ریلوے نظام کو عالمی سطح پر مقابلے اور مسابقت مین جرمنی کے لئے ترپ کے پتے کی حیثیت ہوگئی ہے اس سال موسم بہار میں مرلن میں ماہرین کی ایک کانفنس میں بتایا گیا کہ بعض دوسرے ممالک بھی ٹرانسپورٹ کے اس قسم کے نئے تصورات پر کام کررہے ہیں جنس سے توانائی کی بچت ہو اور ماحول میں آلودگی بھی نہ پھیلے سوٹزر لینڈ میں اس قسم کی جدید ریل چلائی گئی ہے لیکن فالحال اس ریل کا سفر 10000میٹر ہے ۔
جاپان کی مرکزی ریلوے طویل سفر کے لئے ایم ایل یواور کم فاصلوں کے لئے علاقائی سروس ایچ ایس ایس ٹی ڈیزائن کرنے میں مصروف ہے جرمنی کی تحقیق کی وفاقی وزارت کا کہنا ہے کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کی تیز رفتار ریل گاڑیوں کے مقابلے میں ٹرانس ریپڈ بہت آگے ہے اس برتری اور کامیابی کے لئے ان لوگوں کی بصیرت ، تحقیق اور کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا نا چاہئیے جنہوں نے 50سال پہلے جرمنی میں اس کا آغاز کیا تھا۔امریکہ بھی ریلوے ٹرانسپورٹ کو جدت بخشنے کے لئے اپنا پورا زور لگا رہا ہے ۔ پاکستانی سسک سسک کر ان ملکوں کو دیکھ کر جی رہے ہیں ۔میاں برادران بلٹ ٹرین چلاتے چلاتے جیلوں کی ہوا کھا رہے ہیں ۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

WordPress Blog