جونیئر ڈاکٹرز کے مسائل اور سینئرز کا رویہ   


کو شائع کی گئی۔ January 7, 2021    ·(TOTAL VIEWS 60)      No Comments

تحریر:مہرسلطان محمود
دوسری قسط:
ٹیچنگ ہسپتالوں میں ہاؤس افیسرز کے ساتھ جو ڈاکٹرز دن رات کام کرتے ہیں ان میں اکثریت پی جی ٹرینیز کی ہے۔ ان میں سینئرز ڈاکٹرز میں سے سنیئررجسٹرار بھی اپنا کام بخوبی سرانجام دیتے ہیں۔پی جی ٹرینی وہ لوگ ہیں جو پانچ سال ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ایک سال ہاؤس جاب کرتے ہیں پھر ایک سے دو سال تک دوردراز کے ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں۔جن میں اکثر جگہوں پر سہولت نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں ہوتی ہے اور ان مسیحاؤں میں ہماری خاتون ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ان ساری مشکلات کا سامنے کرتے ہوئے یہ ڈاکٹرز پوسٹ گریجوایشن کیلئے مقابلے کا امتحان دیتے ہیں۔یہ امتحان پاس کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے پھر سنٹر ل انڈیکشن پالیسی کے تحت ان کی سلیکشن ہوتی ہے۔ سلیکشن کے بعد ان کا سپیشلسٹ بننے کا سفر شروع ہوتاہے۔اس سفر میں دو پروگرام ہیں۔ایک سی پی ایس پی اور دوسرا یونیورسٹی پروگرام ہے۔ویسے تو پاکستان میں ٹریننگ کا سٹینڈر سرے سے ہی موجود نہیں ہے۔ یونیورسٹی پروگرام میں ٹریننگ کا زیرو سٹینڈر ہے لیکن سی پی ایس پی کی سالہاسال محنت سے ٹریننگ پروگرام اور امتحانات کا سسٹم قدرے بہتر ہواہے۔ٹیچنگ ہاسپٹل میں جہاں فرعونیت ہے وہاں سی پی ایس پی پی جی ٹرینی کیلئے ایک ماں کاکردار اداکرتی ہے تو دوسری جانب سی پی ایس پی فیسوں کی مد میں ان ڈاکٹرز کا خون کسی جونک کی مانند چوس لیتی ہے۔پی جی ٹرینی کو ایک سپروائزر الاٹ ہوتاہے جو اسسٹنٹ پروفیسر سے لیکر پروفیسر میں سے کوئی ایک ہوسکتاہے۔ پی جی ٹرینی کا ڈیوٹی ٹائم فکس نہیں ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پروفیسر صاحبان ان سے لگاتار اضافی ڈیوٹیاں کرواتے ہیں جبکہ سی پی ایس پی نے واضع ہدایات دی ہیں کہ پی جی ٹرینی کا ڈیوٹی ٹائم ایک ہفتے میں 60 گھنٹے سے ذیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ان حالات میں ڈاکٹرز کا عوام کیساتھ رویہ نارمل رکھنا کسی بھی لحاظ سے ممکن نہیں ہوسکتاہے اسی وجہ سے ڈاکٹرز کی جانب سے مریض کی دیکھ بھال میں اکثر غفلت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتاہے۔پی جی ٹرینی کیساتھ سینئرز کا برتاؤ ایسے ہے جیسے برہمن کا شودر کے ساتھ ہوتاہے۔سپروائزر کا حقیقی معنوں میں کام یہ ہے کہ وہ اپنے ٹرینی کو اخلاقی ونفسیاتی طور پر اچھا ڈاکٹر بنائے لیکن افسوس کہ اکثروبیشتر ایسا نہیں ہوتاہے ماسوائے چند ایک کے ذیادہ تر سپروائزر فرعونیت کا مظاہر ہ کرتے ہیں اور ٹرینی کو مختلف حربوں سے تنگ کرتے ہیں جس میں مریضوں اور لواحقین کے سامنے تذلیل کرنا،ایکسٹرا ڈیوٹیز کرانا اور تربیتی کلاسز نہ لینا،پروفیشنل چلپقش رکھنا اور ریسرچ ورکنگ میں مدد نہ کرنا شامل ہیں جبکہ اپنے چہتے پی جی ٹرینیز کو عیاشی کرواتے ہیں۔کچھ سپروائزر مکمل ایمانداری سے بلاامتیاز تمام ٹرینیز کو یکساں سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔خاتون پی جی ٹرینی کا ذکر نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی۔ ان کوبھی بہت سارے مسائل کا سامناکرنا پڑتاہے جس میں تمام ہاسپٹل سٹاف اور عوام الناس کی جانب سے ہر قسم کی ہراسمنٹ کا سامناکرناپڑتاہے۔یہاں پر ڈاکٹرز کی نام ونہاد تنظیمیں جو اپنے جونیئر ڈاکٹرز،ہاؤس افیسر اور پی جی ٹرینی کو سہانے خواب دکھا کر خود فوائد سمیٹتے ہیں ان کے سربراہان اپنی ڈیوٹی بھی انہی جونیئرز سے لیتے ہیں اور خود کام چوری کا مظاہرہ کرتے ہیں جب ان کو حقیقت دکھائی جائے تو گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے محنتی جونئیرڈاکٹرز کا وقار بری طرح مسخ ہوتاہے۔ڈاکٹرز کی تنظیمیں بننے سے پہلے سینئر ڈاکٹرز جونئیرز کو اپنے کمرے میں گھسنے بھی نہیں دیتے تھے مگر اب ان تنظیموں سے ڈاکٹرز کو دور رکھنے کیلئے قریب رکھتے ہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ تنظیمیں ہسپتال کو بہتر بنانے اور جونیئر ڈاکٹرز کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید بگاڑتی ہیں۔ان کی اکثریت سرکاری عہدیدران کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے خود مراعات حاصل کرتی ہے جس میں گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرنا بھی شامل ہے۔ ان سو کالڈ تنظیموں کے کرتا دھرتا پروفیسرز کے ساتھ تھ گالم گلوچ مع انڈرپریشر کرکے سینئر و جونیئرز کے درمیان نفرت پروان چڑھاتے ہیں جس کا رزلٹ عمومی طور پر سینئرز کا اپنے جونیئرز کے ساتھ منفی روئیے کی صورت سامنے آتاہے۔ڈاکٹرز کی نام ونہاد تنظیموں کے ذمہ داران کی اخلاقیت کا مظاہرہ ان کے تنظیمی الیکشن کی کمپیئن میں دیکھنے کو ملتاہے جس میں یہ سیاسی حریفوں کی طرح ایک دوسرے کو خوب گالم گلوچ کرتے ہیں۔ ان کے اس روئیے کی وجہ سے عوام الناس میں کام کرنے والے محنتی ڈاکٹرز کا وقار بری طرح مجروح ہوچکا ہے۔ہسپتالوں کی بہتری کیلئے ان تنظیموں اور سینئرز ڈاکٹرز کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ اس پر تمام سٹیک ہولڈرز کو فوری مل بیٹھ کر لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔حکومتی عہدیدران کو چاہیے کہ سرکاری وغیر سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کا ٹریننگ سٹینڈر بہتر کریں اور جونئیر ڈاکٹرز کیلئے باقاعدہ قانون سازی کی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، تعریفی شیلڈز و سرٹیفکیٹ دیئے جائیں۔ آخر پر میری نصیحت ہے کہ جونئیر ڈاکٹرز اپنے سینئرز کی عزت کریں اور سنیئرز کو چاہیے کہ وہ جونئیرز کے ساتھ شفقت کا مظاہرہ کریں۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress Blog