جون ایلیا کی 17ویں برسی ”آج“ منائی جا ئے گی   


کو شائع کی گئی۔ November 8, 2019    ·(TOTAL VIEWS 39)      No Comments

جہانیاں /لاہور(یواین پی)جون ایلیا کی 17ویں برسی آج 8 نومبر کو منائی جا ئے گی۔ مگر ان کا کلام آج بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔چودہ دسمبر انیس سو اکتیس کو اترپردیش کے شہر امروہہ میں برصغیر کے نامور شاعر سید شفیق حسن ایلیا کے گھر میں آنکھ کھولنے والے جون ایلیا برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔آٹھ سال کی کم عمری میں اپنا پہلا شعر کہنے والے جون، 1957 میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ “شاید”1991 میں منظر عام پر آیا جس وقت ان کی عمر 60 سال تھی۔ دوسرا مجموعہ “یعنی”ان کی وفات کے بعد 2003میں، تیسرا جموعہ”گمان”2004 میں، چوتھا مجموعہ “لیکن”2006 میں اور پانچواں مجموعہ “گویا”2008 میں شائع ہوا۔جون نے شاعری کے علاوہ فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، سائنس اور مغربی ادب کے تراجم پر بھی وسیع کام کیا۔ جون ایلیاء کو اردو کے ساتھ ساتھ فارسی، عربی اورسنسکرت پر بھی خاص عبور حاصل تھا۔فلاسفر اور سوانح نگارجون ایلیااپنے منفرد انداز تحریر کی وجہ سے جانے جاتے تھے وہ معروف شاعر،صحافی اور دانشور رئیس امروہوی اور سیّد محمد تقی کے بھائی تھے انہوں نے پچاس ہزار سے زائد اشعار کہے اور چالیس سے زائد نایاب کتب کے تراجم کیے ان کا علم ایک انسائیکلو پیڈیا کی مانند تھا۔پسے ہوئے طبقے کے ترجمان شاعرجون ایلیا14دسمبر 1937ء کو پیدا ہوئے ان کے والد محترم علامہ شفیق حسن ایلیا ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے اس علمی ماحول میں جون ایلیا نے پرورش پائی جون ایلیانے اپنا پہلا اردو شعر محض 8برس کی عمر میں کہا۔ان کی معروف تصانیف میں ” شاید “ ، ” گویا “ ، ” یعنی “ ، ” گمان “، ” لیکن “ اور دیگر قابل ذکر ہیں۔جون ایلیا کواردو، انگریزی،عربی،فارسی،سنسکرت،عبرانی اور دیگر زبانوں پر دسترس حاصل تھی انہوں نے شاعری کے علاوہ فلسفہ،منطق،اسلامی تاریخ،سائنس اور مغربی ادب کے تراجم پر بھی وسیع کام کیا ہے انہوں نے دنیا کی40 کے قریب نایاب کتب کے تراجم کیے انہوں پچاس ہزار سے زائد شہر کہے جن میں زیادہ تر منظر عام پر نہ آسکے ہیں۔ جون ایلیا کا علم کسی انسائیکلو پیڈیا کی طرح وسیع تھااس علم کا نچوڑ ان کی شاعری سے بھی عیاں ہے۔طویل علالت کے بعد اردو ادب کا یہ منفرد قلم کار اور ادبی دنیا کا آفتاب 8 نومبر 2002 کو 71 برس کی عمر میں انتقال کر گیا۔کراچی کے سخی حسن قبرستان میں منوں مٹی تلے سوئے اس عظیم شاعر کو دنیا آج بھی سراہتی ہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Weboy