حجاب میری زینت   


کو شائع کی گئی۔ September 4, 2020    ·(TOTAL VIEWS 64)      No Comments


تحریر: سعیدہ ھاشمی رہنما جماعت اسلامی شعبہ خواتین ضلع مانسہرہ
ایمان والی عورت کا اصلی زیور سونا چاندی نہیں بلکہ حیا اور پردہ ہوتا ہے۔ حجاب عورت کی پہچان بھی اور تحفظ بھی اسلام وہ مذہب ہے جس نے سب سے پہلے عورت کو فخر و عزت کا باعث بنایا اور عورت کو حجاب جیسی نعمت سے نوازا تاکہ وہ آتے جاتے تضحیک کانشانہ نہ بنے اللہ تعالٰی قرآن کی سورة الاحزاب میں فرماتا ہے۔ ” اے محمد اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادورں کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں یہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لیے جائیں اور ستائی نہ جائیں،زمانہ جاہلیت میں اشراف کی عورتیں اور لونڈیاں سب کھلی پھرتی تھیں اور بدکار لوگ پیچھا کرتے تھے،اللہ تعالی نے شریف عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اوپر چادر ڈالیں، اس طرح وہ پہچان لی جائیں گی اور کوئی ان کا پیچھا نہیں کرے گا، معلوم ہوجائے گا کہ وہ بدکار نہیں، کیونکہ وہ عورت چہرہ چھپائے گی کسی کو اپنی طرف متوجہ کرنیکا سب سے بڑا ذریعہ چہرہ اور نظریں ہوتی ہیں، سورہ نور میں اللہ نے فرمایا ہے نظروں کو نیچے رکھنا اپنی عصمت کی حفاظت کرنا اور زینت کو چھپانا ہر عقل مند مرد و عورت کے لے ضروری ہے، اسلام دشمن عناصر نے پردے کو ہمیشہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا ہے مگر ایسی کوئی بات نہیں پردے میں رہ کر مسلمان خواتین نے دنیا کے تمام کاموں میں حصہ لیا ہے۔میدان جنگ میں بھی اپنے پردے کی حدود کو قائم رکھتے ہوئے زخمیوں کو پانی پلاتی اور انکی مرہم پٹی کا کام انجام دیتی تھیں پردے کے احکام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی پردہ کوئی رسم نہیں بلکہ ایک عقلی قانون ہے جاہلی رسم ایک جامد چیز ہوتی ہے جو طریقہ رائج ہوگیا کسی حال میں اس کے اندر تغیر نہیں کیا جاسکتا،بخلاف اس کے عقلی قانون میں لچک ہوتی ہے اس میں احوال کے لحاظ سے شدت اور تخفیف کی گنجائش ہوتی ہے۔ موقع و محل کے اعتبار سے اس کے تمام قواعد میں استثنائی صورت رکھی جاتی ہے۔ قوانین کی پیروی اندھوں کی طرح نہیں بلکہ اس کے لیے عقل و تمیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ عصر حاضر نفسا نفسی کا عالم ہے بیہودگی اور بے پردگی ہمیں چاروں طرف سے گھرا ہوا ہیہر وقت بازاروں میں بد نظری کا گناہ جاری ہے یہود و نصاٰرٰی کی ثقافت کی نقالی کیجاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کریں امت مسلمہ کے ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی نوجوان بچیوں، بہوؤں اور بیٹیوں کو اسلامی پہناوے کی تلقین کریں۔ اور عفت کے تحفظ کے لیے قرآن و سنت کی ہدایت کو مشعل راہ بنایا جائے اور ہمہ وقت اللہ پاک سے پاک دامنی کی دعا کی جائے۔ اسلام دشمن عناصر کا کہنا ہے کہ حجاب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے حجابی خواتین زندگی کی دوڑ میں آگے نہیں نکل سکتی پردہ جاہل، سادہ اور بے وقوف خواتین کرتی ہیں وہ بے حجابی کو ماڈرن ازم کا نام دیتے ہیں مگر میرے خیال میں ایسی کوئی بات نہیں با حجاب خواتین ہمیشہ زندگی کے ہر میدان میں سب سے آگے رہی ہیں۔ حیا عورت کا زیور ہے جو دنیاوی زندگی میں بھی اس کے گلیکا ہار ہے اور آخرت میں حیا اس کی پہچان ہوگاجو اس کے لیے جنت کی راہ آسان کرے گا۔ سورہ اعراف میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں ‘اے آدم کی اولاد ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمھارے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقوٰی کا لباس ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے شاید کہ لوگ اس سے سبق حاصل کریں موجود حالات میں کرونا نے لوگوں کو سبق سکھا دیا ہے جو حجاب سے نفرت کرتے تھے آج وہ بھی حجابی بن گئے ہیں یہ اللہ کی نشانی ہی تو ہے جس سے ہم سبق حاصل نہیں کر رہے ۔ چست کپڑے۔ سلیو لیس قمیص کھلے بال اور چہرے اگر یہ ماڈرن ازم ہے تو جانوروں سے زیادہ کوئی ماڈرن نہیں ہو سکتا۔ اللہ پاک ہمارے لیے ان راہوں پر چلنا آسان فرمائے جن میں ہماری عفت کا تحفظ ہو۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

WordPress Themes