حضرت علی ؓکی شہادت   


کو شائع کی گئی۔ May 25, 2019    ·(TOTAL VIEWS 113)      No Comments


تحریر: عطیہ رانی ،کراچی
حضرت علی بن ابی طالب پر خارجی ابن ملجم نے 26 جنوری 661ءبمطابق 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود خنجر کے ذریعہ نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا، علی ؓبن ابی طالب زخمی ہوئے، اگلے دو دن تک آپ زندہ رہے لیکن زخم گہرا تھا، چنانچہ جانبر نہ ہو سکے اور 21 رمضان 40ھ کو وفات پائی، آپؓ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اور امت مسلمہ کے خلیفہ راشد چہارم تھے۔حضرت علی ؓ 13 رجب کو ہجرت سے 24 سال قبل مکہ میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سے متعلق تواریخ میں لکھا گیا ہے کہ آپ بیت اللہ کے اندر پیدا ہوئے، حضرت علی ؓ کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول و فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں احادیث نبوی ﷺمیں موجود ہیں کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔
حضرت علیؓ کا حسبِ نسب
آپ ؓکے والد حضرت ابو طالبؑ اور والدہ جنابِ فاطمہ بنت ِ اسد دونوں قریش کے قبیلہ بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور ان دونوں بزرگوں نے بعدِ وفات حضرت عبدالمطلب پیغمبر اسلام صلی علیہ وآلہ وسلم کی پرورش کی تھی۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں، بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اوروہیں پرورش پائی۔ پیغمبرکی زیرنگرانی آپ کی تربیت ہوئی، وہ ایک لمحہ کے لیئے بھی حضور ان کو تنہا نہیں چھوڑتے تھے۔آپ کے بارے میں عام روایت ہے کہ آپ نے 13 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا
حضرت علیؓ سے منسوب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث
عالم ِ اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث مبارکہ درجہ ذیل ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!
علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں
میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے
تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علیؓ ہے
علیؓ کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی
یہ (علیؓ) مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تین فضیلتیں
وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علیؓ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا، حضرت علیؓ کا عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔
جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیا۔آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔
19حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر 19 رمضان 40 ہجری میں شام سے آئے ایک شقی القلب شخص عبد الرحمن بن ملجم نامی شخص نے قطامہ نامی خارجی عورت کی مدد سے مسجد کوفہ میں حالتِ سجدہ میں پشت سے سر پر زہر بجھی تلوار سے وار کرکے زخمی کردیا، زخمی ہونے پر آپ کے لبوں پر جو پہلی صدا آئی وہ تھی کہ ”ربِ کعبہ کی قسم آج علی کامیاب ہوگیا“۔
روزہ دار پر سجدے میں وار کیا۔
کون تھا یہ قاتل؟ ایک مسلمان کلمہ گو نماز پڑھنے والا اللہ اکبر ہم ایسے مسلمانوں کو مسلمان کیسے کہہ سکتے ہیں جو دل میں بُغض رکھتے ہوں۔کیا شان ہے ہمارے خلیفہ علی علیہ السلام کی انھیں علم تھا آج انھیں قتل کردیا جائے گا اور قاتل کو جانتے تھے کون ہے مگر اپنے رب کی رضا کے لیے قربانی پیش کی۔ پہلی قربانی باپ نے دی آخری قربانی کربلا میں بیٹے ام حُسین نے دی اور اس دین کو بچا لیا ایک سبق دیا ِ اسلام کو کہ کبھی باطل کے سامنے جُھکنا نہیں چاہے سر کٹانا پڑے۔۔ اللہ اکبر ایسے ہوتے ہیں دین بچانے والے۔۔
علی مسجدِ کوفہ میں تشریف لائے تو ابنِ مُلجم مسجد میں سورہا تھا اُلٹا لیٹا ہوا نیچے تلوار کو چھپائے تلوار بھی زہر میں بُجھی ہوئی۔۔
علی نے کہا ” اے ابنِ مُلجم اُٹھ جا ،نماز کا وقت نکلا جارہا ہے نماز ادا کر۔۔
وہ ملعون اُٹھا علی نے آخری سجدہ ادا کیا یکایک ابنِ ملجم آگے بڑھا ایسا وار کیا سرِ مبارک پر زہر میں بجھا ہوا خنجر اپنا اثر کر گیا روزہ میں روزدار کو ایسا زخم لگا کہ پھر اُٹھ نہ سکے حضرت علی مسجِ کوفہ میں شور برپا ہوگیا قیامت کا منظر تھا۔ تمام چاہنے والے نالہ و فریاد کرنے لگے حسن و حسین علیہ السلام مسجد میں تشریف لائے اپنے بابا کی ریشِ مبارک خون سے تر دیکھی اور گِریہ کرنے لگے۔۔۔
اصحاب حضرت علی کو کاندھوں پہ ڈال کر گھر لے گئے گھر میں کہرام برپا ہوگیا بیٹیاں تڑپ گئیں باپ کی حالت دیکھ کر۔
حکیم نے علاج شروع کیا مگر زہر اپنا کام کرچکا تھا۔۔
ادھر ابنِ ملجم کو گرفتار کر کے لایا گیا علی کے پاس یہاں ظرف دیکھیں حضرت علیؓ کا
اپنے بیٹوں سے فرمایا۔۔ بیٹا قاتل کو اتنا ہی زخم لگانا سزا کے طور پر جتبا اس نے مجھے دیا۔۔ اللہ اکبر یہ انصاف تھا ہمارے خلیفہ کا۔تین دن اس زخم کی شدت میں تڑپتے رہے
21 رمضان کا دن ہمارے خلیفہ مولا علی نے شہادت پائی۔۔۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

Weboy