حقیقت کے آ ئینے میں    


کو شائع کی گئی۔ June 14, 2019    ·(TOTAL VIEWS 49)      No Comments

ماہ رمضان کے مقدس مہینہ میں روزہ افطاری کیلئے سردار خاتون جنت حضرت فاطمہ روٹیاں پکانے میں مصروف عمل تھی کہ اسی دوران چار روٹیاں پکانے کے بعد آ ٹا ختم ہو گیا جس پر آپ نے ایک روٹی حضرت علی علیہ السلام دوسری روٹی حضرت امام حسن علیہ السلام تیسری روٹی حضرت امام حسین علیہ السلام جبکہ چوتھی روٹی اپنے لیئے رکھ لی روزہ افطار کے دوران آپ نے آ دھی روٹی خود کھا لی جبکہ آ دھی روٹی کپڑے میں باندھ کر اپنے والد محترم حضرت محمد مصطفی کو دینے کیلئے اُن کے پاس پہنچ گئی چونکہ آپ یہ بخوبی جانتی تھی کہ اُن کے والد محترم نے تین دن سے ماسوائے چند ایک کھجوڑوں کے کچھ نہیں کھایا تھا روٹی کھانے کے دوران خداوند کریم کے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفی جن کے بارے میں خداوند کریم نے قرآن پاک میں واضح ارشاد فرمایا تھا کہ اے نبی اگر تمھیں پیدا نہ کرتا تو کائنات میں کوئی چیز بھی پیدا نہ ہوتی کے آ نکھوں میں آ نسو آ گئے اور آپ نے اس دوران بھی خداوند کریم سے اپنی امت کی خیرو عافیت کیلئے دعا مانگی نہ کہ اپنی آل کیلئے جبکہ دوسری جانب آپ کے نواسہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے انسانیت کی بقا اور اسلام کی سر بلندی کیلئے اپنا سب کچھ لٹا دیا یہاں تک کہ اپنے چھ ماہ کے علی اصغر کو بھی افسوس صد افسوس کہ ہم اُس نبی کی امت کا شرف حاصل کرنے کے باوجود آج بھی کئی سو سال گزر جانے کے باوجود اپنے اُن بزرگوں جو کلمہ گو ہونے کے باوجود بتوں کی پوجا کرنے کے ساتھ ساتھ لوٹ مار قتل و غارت ظلم و ستم منشیات فروشی خو برو عورتوں کی خرید و فروخت مظلوم افراد کی پاسداری کرنے کے بجائے بااثر ظالم و جابر افراد کی شان میں خوشامدی قصیدے پڑھنے کی روایات کو بر قرار رکھے ہوئے ہیں جس کے ثمرات یہ ہیں کہ آج ہمارے علمائے دین اپنے ذاتی مفاد کے حصول کی خا طر مذہب اسلام کو مختلف عقائد کی شکل میں تقسیم کرنے میں مصروف عمل ہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آج ملک بھر کے محلوں میں دیو بند بریلوی اہل تشیع اہلحدیث و دیگر لا تعداد عقائد کی مساجدیں تو نظر آتی ہیں لیکن خداوند کریم کی ایک مسجد بھی نظر نہیں آتی آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مذہب اسلام کو مختلف عقائد کی تقسیم کی مد میں تباہ و بر باد کر نے میں انہی علمائے دین کا ہاتھ ہے جہنیں خداوند کریم کبھی بھی معاف نہیں کرے گا جبکہ دوسری جانب ہمارے ملک کے کلمہ گو سیاست دان تاجرز ڈاکٹرز اور بالخصوص بیورو کریٹس جو دولت کی ہوس کے پجاری بن کر ڈریکولا کا روپ دھار کر ملک وقوم کا خون چوس کر حرام و حلال کی تمیز کھو بیٹھے ہیں ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی اس بہتی ہوئی گنگا میں اپنا اپنا ہاتھ دھو کر نت نئی تاریخ رقم کرنے میں مصروف عمل ہیں یہاں میری اس بات کا کوئی یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج کے اس نفسا نفسی کے شکار معاشرے میں بھی چند ایک بااثر افراد ایسے ہیں جو اپنے فرائض و منصبی خداوند کریم کی خوشنودگی اور بالخصوص انسانیت کی بقا کے حصول کی خا طر صداقت امانت اور شرافت کا پیکر بن کر ادا کرنے میں مصروف عمل ہیں اگر حقیقت کے آ ئینے میں دیکھا جائے تو یہ بااثر افراد انسان کے روپ میں فرشتہ ہیں جو درحقیقت ملک وقوم کیلئے سایہ شجردار کی حیثیت رکھتے ہیں یہی کافی نہیں مذکورہ افراد اس ظلم و ستم لوٹ مار اور ناانصافیوں کی اس اندھیر نگری میں قطب ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں جن کی چمک سے یہ ملک و قوم جگمگا رہی ہے تو یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ گزشتہ دنوں چند ایک عمر رسیدہ افراد میرے دفتر میں داخل ہو کر کہنے لگے کہ ہم نے پوری اپنی زندگی ملک وقوم کی خدمت میں گزارنے کے بعد جب ریٹائر منٹ لیکر گھر پہنچے تو ہمیں یہ آس تھی کہ اب ہم اپنی پنشن سے اپنی جواں سالہ بیٹیوں کو عزت و احترام کے ساتھ اپنے گھر سے روانہ کریں گے اپنی اہلیہ کے ساتھ حج عمرہ ادا کریں گے لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ حسرت ہمارے دل ہی میں رہ گئی چونکہ ہمارے سیاست دانوں نے جو ملک بھر کی طرح ضلع جھنگ کو اپنی جاگیر سمجھتے تھے بلدیہ جھنگ کا چارج سنبھالتے ہی ہماری پنشن نجانے کس مصلحت کے تحت روک کر ہمیں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا یہی کافی نہیں اس پنشن کے روکے جانے پر ہماری جواں سالہ بیٹیاں گھروں میں ہی بیٹھ گئیں جبکہ ہمارے بچے سکول کی فیس کی عدم ادائیگی کے نتیجہ میں سکولوں سے نکال دیئے گئے جبکہ دوکانداروں نے اُدھار اشیائے خوردنوش دینا بند کر دی جس کے نتیجہ میں ہم کئی کئی دن بھوکے پیاسے زندگی گزارنے لگے کہ اسی دوران بلدیاتی نظام کا خاتمہ ہو گیا بلکہ ہم یوں کہے گے کہ انتقامی نظام کا خا تمہ ہو گیا جس کے نتیجہ میں یہاں چیف آ فیسر بلدیہ جھنگ ملک ظفر عباس کھو کھر تعنیات ہو گیا جو درحقیقت ہمارے لیئے ایک مسیحا بن کر آیا مذکورہ آ فیسر اس ظلم و ستم لوٹ مار اور ناانصافیوں کی اس اند ھیر نگری میں ایک قطب ستارے کی حیثیت رکھتا ہے کہ جس کی چمک سے ہم جیسے بے بس افراد کے چہرے جگمگا اُٹھے ہیں چونکہ مذکورہ آ فیسر نے بلدیہ جھنگ کا چارج سنبھالتے ہی ہماری پنشن جو کئی سالوں سے رکی ہوئی تھی کی ادائیگی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں یہی کافی نہیں بلدیہ جھنگ کے کرپٹ ترین افسران جو کئی سالوں سے ہر تعمیراتی کاموں کی مد میں اپنی کمیشن کی وصولی کے سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے تھے کا مذکورہ آ فیسر نے فل الفور خاتمہ کر کے تمام بلدیہ جھنگ کے ٹھیکیداروں کو انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے تمام کے تمام تعمیراتی کاموں کو شیڈول کے مطابق کرنے کی عادت ڈال لیں ورنہ سزا مقدر بن جائے گی مذید انہوں نے کہا کہ شنید ہے کہ بلدیاتی نظام کے دوران جن خوشامدی اہلکاروں نے چیر مین بلدیہ جھنگ کی چاپلوسی کر کے غیر قانونی طور پر ترقیاں حاصل کر کے لوٹ مار ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی تاریخ رقم کی تھی مذکورہ آ فیسر اُن کا محاسبہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا چونکہ یہی مذکورہ آ فیسر اپنا فرض سمجھتا ہے اور یہی اپنی عبادت عمر رسیدہ افراد کی ان باتوں کو سننے کے بعد میں سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سوچنے لگ گیا کہ ایک طرف چیف آ فیسر بلدیہ جھنگ ہے جو اس نفسا نفسی کے شکار معاشرے میں بھی حرام و حلال کی تمیز رکھتے ہوئے اپنے فرائض و منصبی عبادت سمجھ کر ادا کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب محکمہ ہائی وے جھنگ کے وہ اعلی افسران ہیں جو دیمک کی طرح چاٹ کر ضلع جھنگ کے تعمیراتی تمام فنڈز از خود ہڑپ کر رہے ہیں جن کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے ضلع جھنگ کی تمام کی تمام سڑکیں جس میں سر گودہا روڈ شورکوٹ روڈ فیصل آ باد روڈ چنیوٹ روڈ اور بالخصوص چوکی علی آ باد تا صوفی موڑ بائی پاس روڈ کی سڑکیں مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر محکمہ ہائی وے جھنگ کے اعلی افسران کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان بن چکی ہیں جس کے بارے میں متعدد بار عوامی حلقوں نے انتظامیہ جھنگ سے شکایت کی ہیں لیکن افسوس کہ نجانے کس مصلحت کے تحت انتظامیہ جھنگ تاحال خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے میں مصروف عمل ہیں جس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں پر قانون کی نہیں بلکہ قانون شکن بااثر اہلکاروں کی حکمرانی ہے اور بالکل یہی کیفیت ہمارے محکمہ ہیلتھ جھنگ کی ہے جسے سابقہ حکومت نے اپنے دور اقتدار میں کروڑوں روپے کے فنڈز ڈی ایچ کیو ہسپتال جھنگ کی بہتری اور وسیع سے وسیع تر بنانے کیلئے دیئے تھے لیکن افسوس کہ اُس وقت کے مذکورہ ہسپتال کے ایم ایس نے نجانے کس مصلحت کے تحت مذکورہ کروڑوں روپے کے فنڈز ہسپتال کو وسیع سے وسیع تر بنانے پر خرچ کرنے کے بجائے فرنیچرز اور دیواروں پر لگائے جانے والی چینی کی پلیٹوں وغیرہ پر کرچ کر دیئے جس کے نتیجہ میں آج مذکورہ ہسپتال کا مین ہال ایمر جنسی وارڈ ٹر اما سنٹر اور بالخصوص چلڈرن وارڈ جہاں پر ایک ایک بیڈ پر چار چار مریض جو کہ مختلف موذی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں سابقہ ایم ایس کی کارکردگی پر تاحال ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے 
Readers Comments (0)




Weboy

Weboy