دنیا کی تیزترین انٹیلی جینس   


کو شائع کی گئی۔ March 13, 2019    ·(TOTAL VIEWS 61)      No Comments

تحریر۔۔۔ مظہر عباس

انٹیلی جینس ایجنسی ایک سرکاری محکمہ ہوتاہے جس کامقصد اندرونی وبیرونی خطرات سے آگاہی کیلئے حکومت کوبہترین اورمستند معلومات فراہم کرنا ہے ،جس سے حکومت ان خطرات سے نمٹنے کیلئے پیشگی تیاری کرکے ملکی و قومی سلامتی کے مفادات کیلئے ہرطرح کے معاملات کوبہتر سے بہترانداز میں چلانے کی کوشش کرتی ہے۔دنیا کی معروف انٹیلی جینس ایجنسیوں میں چائنہ کی(منسٹری آف سٹیٹ سیکیورٹی )،آسٹریلین (آسٹریلین سیکرٹ انٹیلی جینس ایجنسی سروس)،کینیڈین :(کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جینس سروس)،فرانس کی :(ڈائریکٹوریٹ جنرل فارایکسٹرنل سیکیورٹی )،انڈیا کی :(ریسر چ اینڈ اینائلاسیس ونگ )،جرمنی کی :(بونڈیشناکریچٹنڈائنسٹ یافیڈرل انٹیلی جینس سروس )،امریکہ کی : (سنٹرل انٹیلی جینس ایجنسی )،رشین فیڈریشن کی :(فارن انٹیلی جینس سروس )،برطانیہ کی (سیکرٹ انٹیلی جینس سروس )،اسرائیلی (موساد)اورپاکستان کی (انٹرسروسز انٹیلی جینس )سمیت دنیا کے تقریباًتمام ممالک نے ایسی ایجنسیاں بنارکھی ہیں ،جن کی وساطت سے وہ اپنے قومی وملکی مفاد کیلئے ان کی فراہم کردہ معلومات پر انحصارکرکے معاملات کوچلارہے ہیں۔قارئین کرام!ہم آپ کویہاں پرانٹیلی جینس کے ایک ایسے روحانی سسٹم سے آگاہی دیناچاہتے ہیں ،جو دنیا کے ہرسسٹم سے نہ صرف کامیاب ترین سسٹم ہے بلکہ اعلیٰ ترین بھی ہے۔اس سسٹم پر عمل کرنیوالوں کونہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں ہر شعبے میں 100%کامیابی ملتی ہے۔ایک فیملی ممبرسے لیکر حکومت وقت تک تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اس سے بھرپور طریقے سے مستفیض ہوسکتے ہیں۔حکومتی سطح پر دیکھاجائے توحکومتیں اپنے معاملات کوچلانے کیلئے ہرطرح کے ذرائع استعمال کرتی ہیں ۔بعض اوقات حکومتیں مسائل سے نبٹنے کیلئے بہت زیادہ وسائل اورپیسہ استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ مطلوبہ نتائج نہیں ملتے ۔دشمنوں کی سازشوں کامقابلہ کرنے کیلئے اور ا ن کے ناپاک عزائم کوخاک میں ملانے کیلئے ہر طرح کے حربے اوروسیلے استعمال کئے جاتے ہیں ،اس کام کیلئے حکومتیں انٹیلی جینس ایجنسیوں سے کام لیتی ہے ،یہ وہ خفیہ ادارے ہوتے ہیں جن کاعوام کی اکثریت کوعلم نہیں ہوتایہ صرف مخصوص حکومتی نمائندے ہوتے ہیں جن کے ذمے صرف مخصوص کام ہوتے ہیں ،بعض اوقات یہ سرکاری نمائندے وہ کام سرانجام دے دیتے ہیں جس سے حکومتوں کے تختے الٹ پلٹ ہوجاتے ہیں۔قرآن وحدیث سے یہ باتیں ثابت ہیں کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کی حکومت کے پہلے سرکار ی نمائندے کی حیثیت سے جس ہستی کواس کرہ ارض پر بھیجاگیا وہ حضرت سیدنا آدم صفی اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والتسلیم ہیں،آپؑ سے لیکر خاتم النبین حضورنبی کریم روف الرحیمﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیھم السلام تشریف لائے یہ تمام کی تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ جل شانہ کی گورنمنٹ کے نمائندے بن کر تشریف لائے اوران ہستیوں نے عام وخاص کووہ معلومات فراہم کیں جوکسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھیں اورایسے ایسے مسائل حل فرمائے کہ ناممکن کوممکن کرکے دکھادیا۔ ان باخبر،اہل ذکراوراہل نظرہستیوں سے جوبھی سوال کیا گیا،جوبھی پوچھاگیا،کسی بھی طرح کی معلومات حاصل کرنامطلوب تھیں توان ہستیوں نے اسی وقت جواب دیا اوربہترین معلومات دیں اوریہ بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ ان ہستیوں نے سوال کرنے والوں(پوچھنے والوں)کویہ کبھی نہیں فرمایا کہ یہ بات ہمیں معلوم نہیں ہے ،اس کی بنیادی وجہ ہی یہ تھی کہ ان کاتعلق سب سے زیادہ مستند اورسچی معلومات عطافرمانیوالے خداوند قدوس سے تھا۔اللہ تعالیٰ جل شانہ نے تمام انسانیت کیلئے ہر مسئلے کاحل اپنی عظیم المرتبت اورپسندیدہ کتاب مبارک ’’قرآن مجید فرقان حمید ‘‘میں رکھ دیا ہے ۔اب ان رازوں سے آگاہ ہونے کیلئے ہمیں اس رازدارقرآن،صاحب قرآن،معلم قرآن،حافظ قرآن ،عالم قرآن ،عارف قرآن اورمعارف قرآن کی ضرورت ہے جوہمیں مسائل کاایسا آسان حل بتائے جس سے وہ مشکلات ،پریشانیاں،مصیبتیں،تکلیفیں اوردکھ درد ختم ہوجائیں ۔سب سے پہلے ہم قرآن مجیدفرقان حمید سے رہنمائی لیتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ جل شانہ نے انسانیت کے تمام مسائل کے حل کاکیا کلیہ یا فارمولا ارشاد فرمایا ہے ۔فرمان خداوندی ہے کہ
۔(وہ )رحمن ہے (اے معرفت حق کے طالب )تواس کے بارے میں کسی باخبرسے پوچھ (بے خبراس کاحال نہیں جانتے )‘‘۔(سورۃ الفرقان 59)۔
۔’’(لوگو!)تم اہل ذکرسے پوچھ لیا کرواگر تم (خود)نہ جانتے ہو‘‘۔(سورۃ الانبیاء 7)۔
معززقارئین !اہل ذکراورباخبرہستیاں وہ ہوتی ہیں جوناممکن کوممکن کردیتی ہیں،ان پاکیزہ ہستیوں کاذکرپاک اللہ تعالیٰ کے پاک کلام قرآن مجید فرقان مجید میں بھی ہواہے۔اللہ تعالیٰ کانبی ؑ وہ کام کرے تو اس کو’’معجزہ ‘‘کہاجاتاہے اوراگر اسی طرح کے کام کو کوئی اللہ تعالیٰ کاولی ،اہل ذکر،باخبراوراہل نظرکرے تواسے ’’کرامت ‘‘کہتے ہیں۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ وہ ’’باخبر‘‘اور’’اہل ذکر‘‘ہستیوں کون ہیں؟جن کی بارگاہ اقدس سے ایک عام آدمی سے لیکر خاص آدمی تک اپنے معاملات کوپیش کرکے ان کاحل طلب کرے اوران کواپنے مسائل کاانتہائی آسان حل فوری طور پر مل جائے ۔ ان عظیم المرتبت ہستیوں کوجو’’باخبر‘‘اور’’اہل ذکر‘‘ہیں ان میں پہلے گروہ کو ’’انبیاء کرام علیھم السلام ‘‘کاپاکیزہ اورمقدس گروہ کہاجاتاہے جنہوں نے عام وخاص میں سے جس نے بھی ان کی بارگاہ اقدس سے رجوع کیا،انہیں ان کے مسائل کاحل عطا ہوا۔اس پاکیزہ گروہ کے بعد دوسرامقدس اورپاکیزہ گروہ جسے ’’وارثین انبیاء ‘‘کاگروہ کہاجاتاہے جس کی ابتداامام العاشقین حضورسیدنا صدیق اکبرؓ سے ہوئی ،اوراس کاسلسلہ تاقیامت حضرت سیدنا امام محمد مہدی علیہ السلام تک جاری رہیگا۔نفوس قدسیہ کے اس پاکیزہ گروہ میں سے ہرزمانے میں اورہردورمیں’’باخبر‘‘اور’’اہل ذکر‘‘تشریف لاتے رہے ہیں اورآج بھی موجود ہیں اوریہ سلسلہ اسی طرح تاقیامت جاری وساری رہیگا۔
اہل نظرکی رائے میں:۔
قارئین کرام !جواہل نظرہستیاں آج کے دورمیں موجود ہیں ،راقم کوان کی بارگاہ اقدس میں صحبت پاک کاموقع عطا ہواتودوران صحبت کچھ ظاہری وباطنی معاملات پردورحاضرکی عظیم المرتبت باخبر،اہل ذکراوراہل نظرہستی نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ کے فقراء ،مومن مقربین اوروارث الانبیاء دنیا کی تیزترین انٹیلی جینس ہے‘‘۔’’باخبر‘‘اور’’اہل ذکر‘‘کے دوسرے پاکیزہ گروہ میں اللہ تعالیٰ کے فقراء،مومن مقربین ہیں ،اسی بنیاد پرانہیں اللہ تعالیٰ جل شانہ کی گورنمنٹ کے خاص الخاص نمائندے قراردیاگیا ہے ۔ ان برگزیدہ ہستیوں کاتعلق چونکہ ’’اللہ تعالیٰ جل شانہ ‘‘سے ہوتاہے ،اس لئے اہل نظرکی رائے میں یہی وہ برگزیدہ ،مقدس اورپاکیزہ ہستیاں ہیں جن کی معلومات انتہائی مستند ،قابل اعتماد ،قابل بھروسہ ،قابل یقین اورقابل عمل ہوتی ہیں ،اسی لئے اہل نظرنے انہی مقرب ہستیوں کو’’دنیاکی تیز ترین انٹیلی جینس ‘‘قراردیاگیاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جن خاص وعام نے ایسی ہستیوں کی بارگاہ اقدس تک رسائی حاصل کی کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں دعاہے کہ وہ ہمارا خالق ومالک ہمیں اپنے ان محبوب اورپاک بندوں کی نسبت اورمحبت پر دائمی استقامت عطا فرمائے اوران کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل پیراہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress主题