دہشت گردی سے امن وا مان کو سنگین خطرات لاحق یہ عالمی برادری کیلئے چیلنج ہے،ملیحہ لودھی   


کو شائع کی گئی۔ April 14, 2018    ·(TOTAL VIEWS 42)      No Comments


نیویارک(یو این پی)اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے کہاہے کہ دہشت گردی سے امن وا مان کو سنگین خطرات لاحق ہیں، عالمی برادری کی توجہ کے باوجود دہشت گردی ایک چیلنج ہے۔نیو یارک میں پاکستان اور ناروے کی جانب سے نوجوانوں اور انسداد دہشتگردی کے موضوع پر تقریب منعقد ہوئی،جس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اورمختلف ممالک کے سفیروں نے شرکت کی۔پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے بتایا کہ انتہا پسند عناصر نوجوانوں کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں،غیرملکی مداخلت ،سیاسی واقتصادی ناانصافی،امتیازی سلوک بھی انتہاپسندی کو پروان چڑھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے پاکستان نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ انسداد دہشت گردی کیمپ قائم کئے اور اپنے ہزاروں فوجی تعینات کئے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ دہشت گردی سے امن وا مان کو سنگین خطرات لاحق ہیں، عالمی برادری کی توجہ کے باوجود دہشت گردی ایک چیلنج ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ غیرملکی مداخلت، قبضہ، سیاسی و اقتصادی نا انصافی، امتیازی سلوک بھی انتہاپسندی پروان چڑھاتی ہیں، انہیں بھی ختم کیا جانا چاہیے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان نے جرات سے مقابلہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خطاب میں انسداد دہشت گردی کیلئے نوجوانوں پر توجہ کو اہم قدم قرار دیا۔انتونیو گتریس نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کیلئے نوجوانوں پر توجہ اہم قدم ہے کیوں کہ انتہا پسند گروپوں کا ہدف نوجوان ہوتے ہیں، نوجوان کل کے نہیں بلکہ آج کے لیڈر ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتہا پسند گروہوں کا ہدف نوجوان ہوتے ہیں کیونکہ وہ تبدیلی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ڈائیلاگ، ہم آہنگی، سیاسی عمل میں شمولیت، گڈ گورننس اور انسانی حقوق کا احترام کر کے نوجوانوں کو آگے بڑھایا جائے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو ذمہ دار شہری بنانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں ۔اقوام متحدہ میں ناروے کے سفیر نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف سب سے اہم سرمایہ نوجوان ہیں۔اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی سے متعلق تقریب کا انعقاد پاکستان اور ناروے کی جانب سے کیا گیا تھا۔تقریب میں مختلف ممالک کے سفیروں، سفارتکاروں اور پاکستان کی اہم سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Themes