راجپوت خاندان اور قلعہ بھٹنیرراجستھان   


کو شائع کی گئی۔ July 16, 2021    ·(TOTAL VIEWS 51)      No Comments


تحریر و تحقیق:رشید احمد نعیم
بھٹنیر کا قلعہ راجستھان موجودہ بھارت میں واقع ہے۔ قلعہ کے متعلق بات کرنے سے پہلے اک نظر راجستھان بارے معلومات پر دوڑاتے ہیں۔راجستھان کے لغوی معنی راجاوں کا استھان یا راجاوں کی جگہ ہے۔ تقسیم ہند اور تشکیل راجستھان سے قبل یہاں کثیر تعداد میں چھوٹی بڑی ریاستیں اور رجواڑے آباد تھے جن میں اکثریت راجپوتوں کی تھی اسی لئے اسے راجپوتانہ بھی کہا جاتا تھا۔ راجستھان بھارت کی ایک شمالی ریاست ہے۔اس کا کل رقبہ 342,239 کلومربع میٹر (132,139 مربع میل) ہے جو بھارت کے کل جغرافیائی رقبہ کا 10.4 فیصد بنتا ہے۔ یہ بلحاظ رقبہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے اور بلحاظ آبادی ساتویں بڑی رہاست ہے۔ راجستھان بھارت کے شمال مغربی حصہ پرواقع ہے جہاں اس کی زیادہ تر سزرمین بنجر اور بے آب و درخت صحرائے تھار پر مشتمل ہے۔ صحرائے تھا کی جانب اس کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔ شمال مغرب میں پنجاب، پاکستان ریاست اور مغرب میں سندھ ریاست ہے جہاں دریائے ستلج اور دریائے سندھ کی گھاٹیاں ہیں۔ دوسری جانب یہ 5 بھارتی ریاستوں سے گھرا ہوا ہے۔ شمال میں پنجاب، بھارت، شمال مشرق میں ہریانہ اور اتر پردیش، جنوب مشرق میں مدھیہ پردیش اور جنوب مغرب میں گجرات ہے۔ جغرافیائی حساب سے یہ 23.3 30.12 ٹو 69.30 ٹو 78.17 پر واقع ہے اور ریاست کے بالکل جنوبی حصہ سے خط سرطان گزرتی ہے۔ راجستھان کے کالی بنگا میں وادی سندھ کی تہذیب کے باقیات موجود ہیں وہیں جین مت کی مشہور مقدس جگہ دلوارا مندر بھی اسی ریاست میں ہے جس کی طرف جین مت کے لوگ مقدس سفر کرتے ہیں۔ یہ راجستھان کے واحد پہاڑی مستقر ماؤنٹ آبو کے دامن میں واقع ہے۔ راجستھان میں دنیا کے قدیم ترین پۃاری سلسلوں میں مشہور سلسلہ کوہ اراولی بھی موجود ہے۔ ان کے علاوہ بھرت پور، راجستھان میں پرندوں کے لئے مشہور یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کیولاڈیو نیشنل پارک ہے اور تین نیشنل ٹائیگر ریزور بھی ہیں؛ سوائی مادھوپور میں رنتھمبور نیشنل پارک، سرسکا ٹائیگر ریزرو الور میں اور مکندر ہل ٹائیگر ریزرو کوٹہ ضلع میں۔برطانوی راج میں اس علاقہ کا نام راجپوتانہ تھا لیکن جب 30 مارچ 1949ء کو نئی ریاست کی تشکیل عمل میں آئی تو اس کا نام راجستھان کر دیا گیا۔ اور راجسپوتانہ کا پورا علاقہ بھارت ڈومینین میں شامل ہو کر راجستھان کا حصہ بن گیا۔ راجستھان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر جے پور ہے۔ دیگر اہم شہروں میں جودھ پور، کوٹہ، راجستھان، اجمیر، بیکانیر اور سوائی مادھوپور ہیں۔آیئے اب اپنے اصل موضوع یعنی بھٹنیر کے قلعہ کی طرف آتے ہیں۔ویسے تو راجستھان ریاست میں بہت سے مشہور قلعے ہیں مگربھٹنیر کا قلعہ بہت ہی زیادہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ راجستھان کی سرزمین پہ بننے والا راجپوتوں کا سب سے پہلا قلعہ ہے۔یہ قلعہ 269 عیسوی سے لیکر 285 عیسوی میں رائے بُھوپت بھٹی نے تعمیر کروایا۔رائے بھوپت بھٹی کا باپ راجا بھٹی تھا۔ راجا بھٹی تاریخ کا پہلا بھٹی راجپوت تھا۔راجا بھٹی کا باپ راجا شالِوان ایک یادُو ونشی راجپوت تھا۔موجودہ سیالکوٹ شہر کا پُرانا نام شالِبان پُور تھا جسے اِسی راجپوت راجا شالِوان نے بسایا تھا۔یادُو ونشی راجپوت راجا یدُو کی اولاد ہیں۔راجا یدُو ایک چندّر ونشی راجپوت تھا۔تمام چندر ونشی راجپوت راجا چندر دیو کی اولاد ہیں۔آیئے اک نظر راجپوت خاندان کے خصائص پر ڈالتے ہیں۔راجپوت جس کے معانی راجاؤں کے بیٹے کے ہیں اور وہ اپنا سلسلہ نسب دیو مالائی شخصیات سے جوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ابتدا اور اصلیت کے بارے میں بہت سے نظریات قائم کیے گئے ہیں۔ ایشوری پرشاد کا کہنا ہے کہ وہ ویدک دور کے چھتری ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ سیھتن اور ہن حملہ آوروں میں سے بعض راجپوتانہ میں مقیم ہو گئے تھے اور انہوں نے اور گونڈوں اور بھاروں کے ساتھ برہمنی مذہب کو قبول کرکے فوجی طاقت حاصل کر لی تھی۔ مسٹر سی وی ویدیا کا کہنا ہے کہ پرتھوی راج راسا کے مصنف چندر برائے نے راجپوتوں کو سورج بنسی اور چندر بنسی ثابت کرنے سے عاجز آکر ایک نئے نظریہ کے تحت ان کو ’اگنی کل‘ قرار دیا تھا۔ یعنی وہ آگ کے خاندان سے ہیں اور وششٹ نے جو قربانی کی آگ روشن کی تھی۔ اس سے راجپوتوں کا مورث اعلیٰ پیدا ہوا تھا۔ لیکن اب بعض فاضل ہندوؤں نے اس شاعرانہ فسانے سے انکار کیا ہے اور زیادہ تر حضرات کا خیال ہے کہ راجپوت قوم کی رگوں میں غیر ملکی خون ہے۔ ٹاڈ نے اپنی مشہور کتاب ’تاریخ راجستھان‘ میں اسی نظریے کی تائید کی ہے اور راجپوتوں کو وسط ایشیا کے ستھین قبائل کا قریبی قرار دیا ہے۔ جمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ عہد قدیم سے محمود غزنوی کے دور تک بہت سی اقوام ہند پر حملہ آور ہوئیں وہ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں شامل ہیں۔ اہم کی بات یہ ہے ان کے دیوتا، ان کے شجرہ نسب، ان کے قدیم نام اور بہت سے حالات واطوار چین، تاتار، مغل، جٹ اور ستھیوں سے بہت زیادہ مشابہہ ہیں۔ اس لیے باآسانی اندازہ ہوتا کہ راجپوت اور بالاالذکر اقوام ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔راجپوتوں نے اگرچہ ابتدا میں مسلمانوں کے خلاف کامیاب دفاع کیا اور مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روکا۔ اور مسلمانوں کے خلاف یہ بعض اوقات متحد بھی ہو گئے۔ خاص کر محمود غزنوی کے خلاف جے پال کی سرکردگی میں، محمد غوری کے خلاف پرتھوی راج چوہان کی سرکردگی میں اور بابر کے خلاف رانا سنگا کی سرکردگی میں۔ مگر یہ وقتی وفاق تھا جو صرف جنگ تک محدود رہا اور جنگ کے بعد ان کے درمیان وہی نفاق، پیکار اور جنگ کا سلسلہ جاری رہا۔راجپوت آج بھی اپنی بہادری کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں۔ شجاعت اوردلاوری میں ہند کی اقوام میں کوئی ان سا پیدا نہیں ہوا ہے۔ راجپوت اپنی بات کے پکے، تیغ زنی کے ماہر اور اعلیٰ قسم کے شہسوار تھے۔ اپنی آن بچانے کے لیے جان کی بازی لگادیتے تھے۔ راجپوتوں نے اپنی خوبیوں کی بدولت کافی عرصہ (ساتویں صدی عیسوی تا بارہویں صدی عیسوی) تک برصغیر میں حکومت کی اور ایک تہذیب قائم کی۔ لیکن یہ اپنی بالاالذکر برائیوں کی بدولت ان کی طاقت کو زوال آگیا اور انہیں بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں پسپا ہونا پڑا۔ راجپوت نہ صرف میدان جنگ میں جوہر دکھاتے تھے، بلکہ عمدہ انسان اور اعلیٰ میزبان تھے۔ مہمان نواز اور سخاوت کا جذبہ ان میں موجود تھا۔ راجپوت آرٹ و ادب اور موسیقی کے دلدادہ تھے۔ راجپوت مصوری کی اپنی انفرادیت ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے مصوری کا ایک اسکول وجود میں آیا۔ ہر راجا کے دربار میں ایک نغمہ سرا ضرور ہوتا تھا، جو خاندانی عظمت کے گیت مرتب کرتا تھا۔ ان کی معاشرتی زندگی اچھی ہوتی تھی۔ اگرچہ ان میں بچپن میں شادی کا رواج تھا، لیکن اعلیٰ خاندان کی لڑکیاں جب جوان ہوتی تھیں تو اپنی پسند کی شادی کرتی تھیں۔ راجپوت عورتیں اپنی پاک دامنی اور عضمت پر جابجا طور پر ناز کرسکتی تھیں۔ ستی اور جوہر کی رسم اس جذبے کی ترجمانی کرتی تھی۔ جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ آگ میں جل جانا پسند کرتی تھیں۔ اس طرح کسی جنگ میں ناکامی کے خدشے کے بعد راجپوت اپنی عورتوں کو قتل کرکے میدان جنگ میں دیوانہ وار کود جایا کرتے تھے۔ (انوار ہاشمی، تاریخ پاک و ہند۔ 71) ایک عجیب رسم شادی کی تھی وہ شادی اپنے قبیلے یا ہم نسلوں میں نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اس کے لیے ضروری تھا کہ شادی جس سے کی جاتی تھی ان کے درمیان پدری سلسلہ نہ ہو۔ راجپوت رانا، راؤ، راول، راجا اور راجن وغیرہ لائقہ استعمال کرتے ہیں،ان تمام کلمات کے معانی راج کرنے والے کے ہیں۔ مسلمانوں میں سے مغلوں نے راجپوتوں کے جنگی جذبہ سے فائدہ اٹھایا اور راجپوتوں کو اپنے لشکر میں کثرت سے بھرتی کیا۔ مغلوں کی اکثر فتوحات راجپوتوں کی رہیں منت تھیں۔ جہانگیر اجمیر کے بارے میں لکھتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہاں سے پجاس ہزار سوار اور تین لاکھ پیادے باآسانی حاصل ہوسکتے ہیں۔سی وی ویدیا ہشٹری آف میڈول انڈیا میں لکھتے ہیں کہ جب بدھ مذہب کے زیر اثرہندوں میں جنگی روح ختم ہو گئی تو راجپوتوں نے موقع پاکر ملک کے مختلف حصوں پر اپنی حکومتیں قائم کر لیں۔کشمیر میں ڈوگر یا ڈوگرہ راجپوتوں کاراج رھا ہے اور اس قوم کے لوگ بھی اصل میں جٹوں میں سے ہیں اور راجے ھونے کی وجہ سے راجپوتوں میں شامل کیے گئے ہیں۔ مسلمانوں کی آمد کے وقت کابل سے کامروپ تک کشمیر سے کوکن تک کی تمام سلطنتیں راجپوتوں کی تھیں اور ان کے چھتیس راج کلی (شاہی خاندان) حکومت کر رہے تھے۔ چندر بروے نے اس تعداد کو پہلے پہل بیان کیا اور پنڈٹ کلہیان نے ’ترنگی راج‘ میں اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔ جیمز ٹاڈ کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیوں کے بعد کے ناموں میں اختلاف ہے۔ چھتیس راج کلی میں برصغیر کا پہلا تاریخی خاندان موریہ خاندان اس میں شامل ہے لیکن اس بنا پر نہیں ہے بلکہ میواڑ کے ایک قدیمی خاندان کی وجہ سے۔قلعہ بھٹنیر راجستھان کے ضلع ہنُومان گڑھ میں موجود ہے اور راجستھان کو پنجاب سے ملاتا ہے۔موُرخ کر نل جیمز ٹاڈ کے مطابق یہ قلعہ راجپوتوں کی شان و شوکت کا مظہر سمجھا جاتا ہے.مورخ ہری سنگھ کے مطابق اس قلعہ پر سلطان محمود غزنوی نے 1004 میں حملہ کیا۔راُے بھونی سنگھ بھٹی نے بڑی جواں مردی سے اس کا مقابلہ کیا.اس کے بعد امیر تیمور نے 1398 میں اس قلعہ پر حملہ کیا جس کا مقابلہ راُے دلچی بھٹی نے بڑی بہادری سے کیا.اس لڑائی میں فریقین کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا.امیر تیمور نے اپنی کتاب تزک تیموری میں لکھا ہے کہ یہ ہندوستان کا سب سے مضبوط قلعہ تھا۔امیر تیمور نے لکھا ” میں نے ہندوستان میں اِس سے زیادہ مضبوط قلعہ کوئی اور نہیں دیکھا۔اتنے بڑے فاتح امیر تیمور کو ریاست بھٹنیر کے راجا راول دُھول چند بھٹی نے کھری ٹکر دی تھی۔ راول دُھول چند بھٹی کے علاوہ ریاست کانگڑہ کے کٹوچ راجپوتوں اور پنجاب کے راجا شیخا کھوکھر نے بھی تیمور کے چھکے چھڑا دیے تھے۔اکبر بادشاہ نے بھی اُین اکبری میں بھٹنیر کے قلعہ اور بھٹی راجپوتوں کی بہادری کا ذکر کیا ہے۔بادشاہ اکبر نے بھی بھٹنیر قلعے کی مضبوطی کی تعریف کی تھی۔1805 میں ریاست بیکانیر کے راجپوت راجا سُورت سنگھ راٹھوڑ نے بھٹی راجپوتوں سے یہ قلعہ فتح کرلیا اور اِس کا نام بدل کر ہنومان گڑھ رکھ دیا۔سترہ سو سال پرانا یہ قلعہ آج بھی قائم دائم ہے۔مشہور کتاب تاریخ بھٹیاں میں بھی اس قلعہ کا تفصیلی ذکر ہے۔ آج بھی سیاح اس قلعہ کو دیکھنے کے لئے دور دراز کے علاقوں سے آتے ہیں اور اس قلعہ کی تعریف کئے بنا ء نہیں رہتے۔اور سیاح اس قلعہ کی تعریف کیوں نہ کریں؟ کیونکہ جس قلعہ کی تعریف عظیم جنگجو امیر تیمور اور اکبر جیسے عظیم بادشاہ کیا کرتے تھے۔آج بھی اس قلعہ کے درودیوار اپنے دامن میں ہزارہاں داستانوں کو سموئے بیٹھے ہیں۔کیونکہ اس قلعہ نے دنیا کے عظیم جنگجوؤں اور عظیم بادشاہوں کی عظمتوں اور جاہ و جلال کو دیکھا ہوا ہے۔(خصوصی معاونت: محمد ریاض

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Weboy