رنگیلے بادشاہ   


کو شائع کی گئی۔ August 29, 2019    ·(TOTAL VIEWS 68)      No Comments

تحریر ۔۔۔شیخ توصیف حسین
کہاوت ہے کہ ایک بادشاہ شکار کھیلنے کیلئے جنگل میں پہنچا جہاں پر اُسے ایک ہرن دکھائی دیا جس کو شکار کرنے کیلئے بادشاہ نے اپنا گھوڑا ہرن کے پیچھے دوڑانا شروع کر دیا جبکہ ہرن اپنی جان بچانے کیلئے تیز دوڑتا ہوا جنگل کے عین وسط میں پہنچ کر غائب ہو گیا جبکہ بادشاہ اسی دوران اپنی واپسی کا راستہ بھول گیا کچھ دیر تک ادھر اُدھر گھومنے کے بعد بادشاہ کو پیاس لگی لیکن جنگل میں پانی کے نہ ملنے کے سبب بادشاہ پیاس کی تاب نہ لاتے ہوئے گھوڑے کی پیٹھ پر بے ہوش ہو گیا جبکہ گھوڑا بادشاہ کو بے ہوشی کے عالم میں اپنی پیٹھ پر لادے جنگل کی ایک سمت چلتا رہا بالآ خر گھوڑا ایک ایسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں پر ایک چرواہا اپنی بکریوں کو چرانے میں مصروف عمل تھا چرواہے نے جب بادشاہ کو گھوڑے کی پیٹھ پر بے ہوشی کے عالم میں دیکھا تو اُس نے بادشاہ کو بڑی مشکل کے ساتھ گھوڑے کی پیٹھ پر سے اتار کر بکری کا دودھ پلانا شروع کر دیا دودھ پیتے ہی بادشاہ ہوش میں آ کر نہ صرف چرواہے کا شکریہ ادا کیا بلکہ اپنی آ دھی سلطنت بھی چرواہے کو بخش دی جسے پا کر چرواہے نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کی نہ صرف ایک کابینہ تشکیل دی بلکہ محافظوں کا دستہ بھی تشکیل دے ڈالا محافظوں نے ایک دن ایک بکری چور کو پکڑ کر چرواہے بادشاہ جو بعد ازاں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے رنگیلا بادشاہ کے نام سے مشہور ہوا کے رو برو پیش کر دیا رنگیلا بادشاہ نے بکری چور کو دیکھا تو بغیر سوچے سمجھے رنگیلا بادشاہ نے بکری چور کو سزائے موت کا حکم سنا دیا جس پر محافظوں کا ایک دستہ بکری چور کو لیکر جلاد کے پاس پہنچا تو جلاد نے بکری چور کو سزائے موت دینے سے محض اس لیے انکار کر دیا کہ اُس کے گلے میں پھانسی کا پھندا چھوٹا رہ گیا تھا جس کی اطلاع پا کر رنگیلا بادشاہ نے جلاد کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ پھانسی کا پھندا جس شخص کے گلے میں فٹ آ جائے اُسے سزائے موت دے دو بالکل یہی کیفیت بلدیہ جھنگ کی بھی ہے جہاں پر تعنیات اعلی افسران و دیگر عملہ رنگیلے بادشاہ بن کر اپنے فرائض و منصبی ادا کرنے میں مصروف عمل ہیں تو یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ میں گزشتہ دنوں چیف آ فیسر بلدیہ جھنگ ملک ظفر عباس کھو کھر جس کے بارے میں شنید ہے کہ مذکورہ آ فیسر فرض شناسی اور ایمانداری کی منہ بولتی تصویر ہے کے دفتر پہنچا تو اسی دوران ایک نوجوان جس کی عمر تقریبا پندرہ سولہ سال تھی نے وہاں پہنچ کر بڑے مودبانہ انداز میں مذکورہ چیف آ فیسر کو مخا طب پو کر کہا کہ میں نے آپ کو ایک تحریری درخواست ارسال کی تھی اُس کا کیا بنا ہے جس پر مذکورہ چیف آ فیسر نے اُس نوجوان کو کہا کہ میں نے آپ کی درخواست کو ریفر کر دیا ہے انشاءاللہ تعالی آپ کا تحریر کردہ درخواست کے مطابق جائز مطالبہ ہے پورا ہو جائے گا یہ سننے کے بعد مذکورہ نوجوان نے بڑی معصومیت کے ساتھ کہا کہ کیا ہمارے محلے کی پلی کل ہی تعمیر ہو جائے گی جس کے ٹوٹ جانے کے باعث نہ صرف راہ گیروں کو بلکہ اہل علاقہ کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے چونکہ اس ٹوٹ پھوٹ کے شکار پلی کی وجہ سے گندہ پانی گھروں میں داخل ہو رہا ہے بلکہ اس غلیظ پانی کی وجہ سے ہمارے لا تعداد معصوم بہن بھائی مختلف موذی امراض میں مبتلا ہو کر بے بسی اور لا چارگی کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں یہ کہہ کر مذکورہ نوجوان دفتر سے باہر نکل گیا کہ اسی دوران وہاں پر مو جود ایک دبلا پتلا شخص جو آ نکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے گریبان کھولے بول اُٹھا اور وہ بھی بڑے تکبرانہ اور غیر مہذبانہ انداز میں کہ مذکورہ نوجوان کی ابھی عمر نہیں ہے سرکاری ٹیکس ادا کرنے کی اور یہاں آ گیا ہے علاقے کی پلی تعمیر کروانے کیلئے ابھی سے انسانیت کا ٹھیکیدار بن رہا ہے اس نوجوان کو شاید یہ معلوم نہیں کہ اس جیسے نجانے کتنے انسانیت کے علمبردار نوجوان در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اُس شخص کی اس گھناﺅ نی گفتگو سننے کے بعد میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے شخص سے پو چھا کہ یہ شخص کون ہے جس کا منہ مومناں اور کرتوت کافراں جیسے ہے تو اُس شخص نے بتایا کہ اس کا نام ظفر عباس ہے اور یہاں بلدیہ جھنگ میں بطور ایکسین اپنے فرائض و منصبی ادا کر رہا ہے یہ سننے کے بعد میں سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سوچنے لگ گیا کہ مذکورہ آ فیسر کی حقیقت بھی شاید شاہی حجام جیسی ہے جس نے ایک دن بادشاہ کے بال کاٹتے ہوئے بادشاہ کو مخا طب کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ کی بیٹی بھی جوان ہے اور میرا بیٹا بھی لہذا ہم ملکر اُن دونوں کی شادی کر دیتے ہیں یہ سننے کے بعد بادشاہ نے بڑے غصیلے انداز میں شاہی حجام کو فل الفور گرفتار کروا کر سر تن سے جدا کرنے کا حکم دے دیا کہ اسی دوران وزیر خاص نے بادشاہ سے عرض کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ حکم واپس لے لیں چونکہ یہ اس کا قصور نہیں یہ سب کچھ اس شاہی حجام کے نیچے چھپے ہوئے شاہی خزانے کی تپش کا نتیجہ ہے جس کی تپش کی تاب نہ لاتے ہوئے یہ حجام اپنی اوقات بھول گیا ہے شاید یہی کیفیت مذکورہ ایکسین جو کہ اپنے آپ کو سیکرٹری بلدیات پنجاب اور ڈی آئی جھی پنجاب پولیس کا قریبی عزیز بتاتا ہے کی بھی ہو جو غریب افراد کے ٹیکسوں کی مد میں بننے والے ہر تعمیراتی کاموں میں چار پرسنٹ کمیشن کے علاوہ حکومت پنجاب کی طرف سے ملنے والی بھاری تنخواہ اور لاتعداد سہولیات کا نتیجہ ہے جو مذکورہ آ فیسر بڑے تکبرانہ اور غیر مہذبانہ انداز میں غریب سائلوں سے گفتگو کرنے میں مصروف عمل ہے بالکل یہی کیفیت بلدیہ جھنگ کے اکرو چمنٹ انسپکٹر محمد عارف کی بھی ہے جو حرام کی کمائی کے حصول کی خا طر شہر بھر میں ناجائز تجاوزات اور بالخصوص سرکاری زمینوں پر لگائے گئے بڑے بڑے فلیکس بورڈ اتروانے میں تاحال قاصر ہے حالانکہ مذکورہ بورڈوں کے خاتمے کیلئے ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ نے احکامات جاری کر رکھے ہیں لیکن افسوس کہ مذکورہ آ فیسر نوٹوں کی چمک سے مرعوب ہو کر ان احکامات کو سگریٹ کے دھواں کی طرح ہوا میں اڑانے میں مصروف عمل ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہی کیفیت کچی آ بادی جلال آ باد کے کلرک چوہدری علی احمد کی بھی ہے جو ڈریکولا کا روپ دھار کر مذکورہ کچی آ بادی کے رہائشیوں کا خان چوس رہا ہے جو بغیر رشوت وصول کیے کسی غریب سائل کا کام کرنا گناہ کبیرہ سمجھتا ہے جس کے اس گھناﺅنے اقدام کی شکایات بلدیہ جھنگ کے ارباب و بااختیار کو مل چکی ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ ہر شکایت کے بعد مذکورہ کلرک بڑے فخریہ انداز میں کہتا ہے کہ میں اوپر سے لیکر نیچے تک باقاعدہ حصہ بحثیت جسہ دیتا ہوں میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اُس کے اس انداز کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ بلدیہ جھنگ میں قانون کی نہیں بلکہ قانون شکن افسران و دیگر عملہ کی حکمرانی ہے بس یہی سوچ کر میں بو جھل قدموں کے ساتھ واپس آ گیا
بک گیا دوپہر تک بازار کا ہر ایک جھوٹ
اور میں شام تک یونہی ایک سچ کو لیئے کھڑا رہا

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Free WordPress Themes