روک سکو تو روک لو   


کو شائع کی گئی۔ May 14, 2018    ·(TOTAL VIEWS 152)      No Comments

تحریر ؛ چودھری عبدالقیوم
چند مہینوں بعد ملک میں عام انتخابات ہونے جارہے ہیں جس کے لیے سیاسی جماعتیں اور امیدوار بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں جب کہ بڑی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی،تحریک انصاف،ایم ایم اے سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ سیاسی جلسوں سے اپنی اپنی انتخابی مہم شروع کررکھی ہے۔عام انتخابات جمہوریت کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں جس کے ذریعے ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔انتخابات کے ذریعے ہی سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی کارکردگی جانچنے کا موقع ملتا ہے کہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد عوام کے اعتماد پر پورا اتریں ہیں کہ نہیں۔ہر پانچ سال بعد باقاعدگی اور تواتر کیساتھ الیکشن ہوتے رہیں تو جمہوریت مستحکم ہوتی ہے اور ملک ترقی کرتا ہے۔بڑے نشیب و فراز اوربڑی مشکلات سے گذرنے کے بعد موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کررہی ہے۔خاص طور پر مسلم لیگ ن کی حکومت کا آخری سال بہت زیادہ کٹھن ثابت ہوا۔جس کے درمیان میاں نوازشریف کو سپریم کورٹ سے ناہل ہونے پر وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے۔وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد انھوں نے یہ سال اداروں اور عدلیہ کیساتھ محاذ آرائی اور جنگ و جدل کرتے ہوئے گزارا ۔ اسی حالت جنگ میں ان کے کئی ساتھی بھی انھیں چھوڑ چکے ہیں۔اسی جنگ و جدل کی کیفیت میں مسلم لیگ ن الیکشن لڑنے جارہی ہے دوسری طرف سپریم کورٹ اور نیب میں حکمران طبقے اور بڑے لوگوں کیخلاف میگا کرپشن کیسز کی سماعت بھی ہورہی ہیں سپریم کورٹ نے بینکوں سے اربوں روپوں کے قرضے معاف کرانے والے بااثر 222 لوگوں کو بھی طلب کرلیا ہے۔ان کیسز اور ریفرنسزکے فیصلے رواں ماہ یا اگلے مہینے تک متوقع ہیں۔جس کے اثرات یقینی طور پر الیکشن پر اثرانداز ہونگے ایسے حالات میں ہونے والے انتخابات میں اس دفعہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابی قوانین پر پوری طاقت سے عملدرآمد کرائے۔کیونکہ الیکشن تو پرانے انتخابی قوانین کیمطابق ہی ہونگے جس میں سرمایہ دار اور امیر لوگ ہی الیکشن لڑسکیں گے۔الیکشن کے بھاری اخراجات کیوجہ سے عام غریب آدمی تو حصہ نہیں لے سکتا کیونکہ مروجہ الیکشن قوانین اسمبلیوں میں موجود سرمایہ داروں کے بنائے ہوئے ہیں ۔ ان قوانین میں جدید دور کیمطابق انتخابی اصلاحات کرنے کی اشد ضرورت تھی خاص طور پر الیکشن کے بھاری اخراجات پر پابندی لگانے چاہیے تھی تاکہ عام آدمی اور اہل لوگ الیکشن لڑسکتے۔ لیکن حکمرانوں نے ایسا نہیں کیا اب ان قوانین میں تبدیلی کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس تو نہیں۔اب یہی ہوسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن انھی قوانین کے اندر رہ کر منصفانہ الیکشن کرائے جس کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔خاص طور پر الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوارکے لیے آئین کی شق 62/63 پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔کسی ایسے امیدوار کو ہرگز الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جو اسلام مخالف اور ملک دشمن سرگرمیوں،کرپشن اور کرائم میں ملوث ہو۔ الیکشن لڑنے والے امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ محب وطن اوراسلام کے بنیادوں اصولوں کی پاسداری کرتا ہو۔اگر ان دو تین چیزوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔تو اس سے کافی بہتری آسکتی ہے۔الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ انتخابی قوانین پر عمل کرتے ہوئے اسلام اور پاکستان کیخلاف سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کیساتھ کرپشن کرنے والوں،قرضے معاف کرانے والوں سمیت جرائم پیشہ لوگوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دے۔اگر ایسا ہوتا ہے۔تو یقینی طور پر الیکشن کے نتیجے میں پہلے سے کہیں زیادہ اچھے لوگ منتخب ہونگے اور وہ کرپشن کرنے سے بچیں گے اور ملک و قوم کی خدمت کریں گے جس سے لازمی طور پر پاکستان ترقی کرے گا۔اگر الیکشن کمیشن نے ماضی کی طرح ڈھیلی ڈھالی پالیسی اختیار کیے رکھی توپھر انتخابات کے نتیجے میں کسی خاص بہتری کی توقع رکھنا بیکار ہوگا ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس چیز کا احساس ہونا چاہیے کہ آنے والے عام انتخابات پاکستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضرورت سمجھے تو وہ عدلیہ اور فوج سے بھی مدد لے۔تاکہ الیکشن میں پاکستان اور اسلام کے مخالف،کرپٹ اور جرائم پیشہ لوگ کامیاب نہ ہوسکیں ۔ 

Readers Comments (0)




WordPress主题

Weboy