زکوٰة: مسلمانوں کے معاشی توازن کا ذریعہ   


کو شائع کی گئی۔ May 12, 2019    ·(TOTAL VIEWS 33)      No Comments


میرافسر امان
اللہ تعالیٰ نے قرآن میںزکوٰة صاحبِ نصاب مسلمانوں پر اےک مقررہ حساب سے فرض کی ہے ۔ ” نماز قائم کرو اور زکوة دو‘ ‘ (البقرة۔ ۰۱۱) زکوٰة کے علاوہ بھی اللہ کی راہ مےں خرچ کرنے کے لےے قرآن شرےف کی سورت البقرة مےں ارشاد ہوا”ےہ قرآن اللہ کی کتاب ہے ،اس مےں کوئی شک نہےں،ےہ پرہےزگاروں کو دنےا مےں زندگی کا سےدھا راستہ بتاتا ہے ،اور پرہےزگار وہ ہےں جو غےب پر اےمان لاتے ہےں اور نماز پڑھتے ہےں اور جو رزق ہم نے اُن کو دےا ہے اس مےں سے خدا کی راہ مےں خرچ کرتے ہےں“ (البقرہ۔۱تا۳) زکوٰة ہر زمانے مےں دےن اسلام کے اہم ترےن ارکان رہی ہے تمام انبےاؑ کی طرح انبےائے بنی اسرائےل نے بھی اس کی سخت تاکےد کی تھی مگر ےہودی اس سے غافل ہو چکے تھے زکوٰة دےنے کے بجائے ےہ لوگ سُود کھانے لگے تھے۔ توحیو اور نماز کے بعدزکوٰةاسلام کا تےسرا ستون ہے جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے ۔اس کی اہمےت کو آپ اس طرح سمجھےں کے نماز کے بعد زکوٰة کا ذکر قرآن شرےف مےں بار بار آتا ہے ۔زکوٰة کے معنی پاکی کے ہےں جب انسان اپنے مال سے زکوٰة نکالتا ہے تو اس سے اپنا مال پاک کر لےتا ہے اصل مےں جو مال اللہ نے انسان کو دےا ےہ اس کا اپنا نہےں ہے ےہ مال اللہ کا ہے اور اللہ نے اس مال مےں سے حاجتمندوں کا حصہ رکھااور اس حصے کو اپنے مال سے نکالنا مسلمان پر فرض کر دےا گےا ہے۔ اےک شخص زکوٰة نہےں نکالتا تو وہ فرض کی ادائےگی نہےں کر رہا، تو ےہ گناہ ہے۔اور گناہ کا اللہ تعالیٰ کو آخرت مےں حساب دےنا پڑے گا۔ زکوٰة کے انکار پر جنگ حلیفہ اوّل نے لوگوں سے جنگ کی۔ دوسری عبادات کی کوئی قےمت نہےں رہتی اگر زکوٰة نہ نکالی جائے۔خلےفہ ِ رسول حضرت ابوبکر ؓ نے زکوٰة کا انکار کرنے والے شروع کے مسلمانوں کے خلاف جہاد کےا جےسے کافروں کے ساتھ کےا جاتا ہے اور فرماےا مےں ان کے ساتھ اس وقت لڑتارہوں جب تک وہ اونٹ کی رسی جو رسول اللہ کے زمانے مےں دےتے تھے نہ دےں۔ زکوٰة تمام انبےا ؑکے دےن مےں فرض تھی۔قرآن کو اُٹھا کے دےکھےں تمام انبےاءکی امتوں کو اس کا حکم دےا گےا تھا۔حضرت عےسیٰ ؑ نے جب گہوارے مےں سے اللہ کے حکم سے لوگوں سے بات کی تھی تو دوسری باتوں کے علاوہ ےہ بات بھی کی تھی کہ مجھے اللہ نے نماز اور زکوٰة کا حکم دےا ہے۔ حضرت ابراھےم ؑ اور اور ان کی نسل کے انبےاءکواللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے اور زکوٰة دےنے کا حکم دےا تھا۔ زکوةاگرچہ تمام شرےعتوں مےں جز رہی ہے۔لےکن اس کے احکا م تمام شرےعتوں مےں الگ الگ رہے ہےں۔شکر نعمت کا فطری تقاضہ ےہ ہے آدمی راہ خدا مےں مال خرچ کرئے۔اللہ کی نعمت کے وہی لوگ مستحق ہےںجو زکوة دےں۔ زکوٰة اللہ ہی کو پہنچتی ہے۔ اللہ صدقہ دےنے والوں کو جزا دےتا ہے۔زکوة اےک ذرےعہ ہے تزکےہ نفس کا۔جےسے بتاےا گےا ہے کہ زکوٰة کے معنی پاک کرنے کے ہےں ۔ےعنی زکوٰة دے کر انسان اپنے نفس کو پاک کرتا ہے۔ زکوة کی اہمےت اسلام کے دستور مےں قانونی ہے اسی لےے مانعےن زکوة کے خلاف حضرت ابوبکر ؓ نے جنگ کی۔ وہ انقلاب عظےم جو اس کے ادا کرنے کا نتےجہ ہے آخر ت کی کامےابی کی صورت مےں نکلتا ہے اور دنےا مےں بھی اس کے ثمرات ملتے ہےں ۔اسی لےے رسول اللہ نے فرماےا تم مےری لائی ہوئی شر ےعت کو نافذ کر دو تم ہاتھوں مےں دولت لےے لےے پھرو گے تمہےں کوئی حقدار نہےں ملے گا۔ مطلب لوگ مالدار ہو جائےں گے۔ زکوٰة کی تنظےم نے عربوں کی زندگی مےں عظےم انقلاب برپا کےا۔ زکوٰة کی دےن مےں بہت ہی اہمےت ہے اسی لےے زکوٰة کا نماز کے بعدبار بار قرآن مےں ذکر ہے۔اسلامی حکو مت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زکوٰة کی وصولی کا انتظام قائم کرے ملک کے دولت مند مسلمانوں سے نصاب کے مطابق زکوة وصول کرے اور مندرجہ ذےل حاجتمندوں مےںتقسےم کا انتظام قائم کرے ۔حضرت محمد صلی اللہ علےہ و سلم کے خاندان ےعنی بنی ہاشم پر زکوة لےنا حرام ہے۔قرآن شرےف مےں زکوة کی آٹھ مدّات کا حکم ہے۔( ۱)فُقراء:۔ زکوة فقےروں کے لےے جو تنگ دست ہوں۔ےہ وہ لوگ ہےں جو اپنی زندگی بڑی مشکل سے گزار رہے ہوں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہ پھےلاتے ہوں۔(۲)مساکےن :۔مساکےن وہ ہےں جو اپنی ضرورےات پوری نہےں کر سکتے۔ ےہ بہت ہی تنگ دست لوگ ہےں جو اپنی ضرورےات پوری نہےں کر سکتے کمانے کے قابل ہوں مگر روزگار نہ ملتاہو۔(۳) عا ملےن علےہا :۔ےعنی زکوة کا مصرف زکوة وصول کرنے پر جو مامورہوں۔ اسلامی حکومت ان کو جو کچھ تنخواہ کی مد مےں دے ۔(۴)۔موئلفةالقلوب :۔ زکوٰة اُن کے لےے جن کی تالےف قلب مطلوب ہوںےعنی جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے ہوں ےا جنکی اسلام دشمنی کو کم کرنے مےں مدد کی ضرورت ہو ۔(۵) فی الّرقاب :۔اس سے مراد جو شخص غلام ہواسکو آ زاد کرانے مےں ےعنی غلاموں کی آزادی کے لےے زکوة کا استعمال جائز ہے۔آجکل جےل کے اندر قےدحقدار قےدےوں کی رہائی کے لےے زکوٰة استعمال کےا جا سکتی ہے۔ (۶) الغارمےن :۔اس سے مراد جو لوگ قرضدار ہو ں مگر اپنا قرض ادا نہ کر سکتے ہوں ان کا قرض ادا کرنے کے لےے زکوة استعمال کی جا سکتی ہے۔(۷)فی سبےل اللہ:۔اللہ کے دےن کو قائم کرنے کے لےے ےعنی جہاد کے لےے زکوة استعمال کی جا سکتی ہے کوئی شخص مال دار ہے مگر اللہ کے دےن کو قائم کرنے مےں لگا ہوا ہے اس کو بھی ز کو ة دی جا سکتی ہے۔(۸) ابنُ السّبےل:۔ اگر کوئی شخص مسافر ہے اور اسے پےسے کی ضرورت ہے اس کی زکوة مےں سے مدد کی جاسکتی ہے چاہ وہ اپنے ملک مےںما لدار ہی کےوں نہ ہو۔ زکوٰہ کاادا کرنا اےمان لانے والوں کی لازمی ذمہ داری ہے۔اس کا انتظام اسلامی حکومت کی لازمی ذمہ داری مےں شامل ہے۔زکوٰة سے غفلت نہ برتنے والے ہی ہداےات پاتے ہےں۔اس سے مال گٹھتا نہےں بڑھتا
ہے۔اس کے ادا کرنے کا حکم ہے۔اس کے ادا کرنے کا نتےجہ آخر ت کی کامےابی ہے۔ زکوٰة کی دےن مےں بہت ہی اہمےت ہے ز کوٰة دےنے کے بعد بھی آدمی کے مال مےں اللہ کا حق رہتا ہے۔زکوٰة کی فرضےت کا حکم مدےنہ مےں نازل ہوا۔زکوة مال کو پاکےزہ کرتی ہے۔حضرت ابو ہرےرہ ؓ سے رواےت ہے نبی نے فرماےا جس کو اللہ نے مال دےا اور اُس نے اُس کی زکوٰة نہےں دی تو اس کا مال قےامت کے دن گنجے سانپ کی صورت مےں جس کی آنکھوں پر دو سےا ہ نقطے ہوںگے پےش کےا جائے گا پھر وہ اس کی دونوں باچھےں پکڑ کر کہے گا مےںتےرا مال ہوں ۔ مےں تےرا خزانہ ہوں ۔ (بخاری)حضرت ابوذر ؓ سے رواےت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرماےا کہ جس شخص کے پاس اونٹ، گائےں ےا بکرےاںہوں اور وہ اِن کا حق (ےعنی زکوٰة) ادا نہ کرے تو قےامت کے دن ےہ چےزےں بہت بڑی فربہ شکل مےں لائی جائےں گی اور اپنے پےروںسے کچلےں گی اور سےنگوں سے مارےں گی ۔حضرت ابو ہرےرہ ؓ فرماتے ہےں کہ بنی صلی اللہ علےہ سلم نے فرماےا ”جب تم نے اپنے مال کی زکوٰة (مفروضہ) ادا کی تو تم اللہ کے حق سے سبکدوش ہو گئے اور جس نے حرام مال جمع کےا اور اسے اللہ کی راہ مےں دےا تو اس پر اسے کوئی اجر نہےں ملے گا بلکہ الٹا گناہ ہو گا“ (ترغےب بحوالہ ابن خزےمہ،ابن حبان)۔
صاحبو!رسول اللہ نے فرمایا کہ تم میری لائی ہوئی شہریت نافذ کر دو تو تم پیسے لیے ہوئے پھرو گے مگر کوئی حق دار تمھیں نہیں ملے گایعنی زکوٰة کے نظام رائج ہونے سے لوگ خوشحال ہو جائیں گے۔کیا مسلمانوں کی موجودہ بدحالی معیشت کاو خوشحالی میں بدلنے کاراز زکوٰہ نفاذ میںپنہاں نہیں؟مسلمان مملکتوں کو اپنی ہاں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست قائم کریں جو میںزکوٰة کا نظام شامل ہے۔ پھر مسلمانوں میں خوشحالی آ جائے گی۔ آئی ایم ایف اور دیگر سودی ورضے دینے والوں سے جان چھوٹ جائے گی۔

Readers Comments (0)




WordPress Themes

Free WordPress Theme