سائکوتھرلر فیچر فلم’’ہوٹل‘‘ میری پہچان بنے گی،چائلڈ اسٹار ، نیہا انیل   


کو شائع کی گئی۔ December 25, 2013    ·(TOTAL VIEWS 536)      No Comments

2

لاہور ۔۔۔ پاکستان کی پہلی سائیکوتھرلر فیچر فلم’’ہوٹل‘‘ میں اہم کردار ادا کرنے والی گیارہ سالہ ’’نیہا انیل‘‘ وہ واحد چائلد اسٹار ہے جومنجھے ہوئے اداکاروں اوراداکاراؤں کے ساتھ آڈیشن دے کر فائنل میں پہنچی اور وہاں سب کے دل موہ لیے، فلم کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر بی اے خرم نے خصوصی طور پر نیہا سے ٹیلیفون پر بات چیت کی تو نیہا نے اپنی پیاری اور میٹھی زبان سے جو سوالات کے جوابات دیئے، وہ ہم ویسے ہی تحریر کر رہے ہیں انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ ’’میں پشاور کے مشہور و معروف صحافی و ٹی وی ڈرامہ نگار جہانزیب برق سرحدی کی پوتی ہوں،آرمی پبلک اسکول کی طالبہ ہوں اور محنتی ہونے کے ساتھ ذہانت میں عبور رکھتی ہوں،میں سرکاری چینل پرپروگرام ’’ڈم ڈم ڈی ڈی‘‘ میں بطور معاون میزبان کام کر رہی ہوں، اس طرح سے دیکھا جائے تو یہ فن مجھے میراث میں ملا ہے،اپنے بھول پن اور بے ساختہ جملوں کی ادائیگی کی وجہ سے پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جاتی ہوں،گزشتہ سال 25 دسمبر کا خصوصی ڈرامہ جو کہ قائد اعظم کے دن کی مناسبت سے تھا، اس میں اداکاری بھی کی، دیکھا جائے تو اسکرپٹ یاد کرنا کوئی معمولی بات نہیں، مگرمیں ایک بار پڑھنے کے بعد وہ آسانی سے جملوں کوروانی سے ادا کرجاتی ہوں کہ ساتھی آرٹسٹ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں، بعض اوقات تو ساتھی فنکاروں کو ریڈنگ بھی کراتی ہوں، یہی وجہ ہے کہ سب مجھے بہت پسند کرتے ہیں،میں نے پاکستان کی پہلی سائکو فیچر فلم’’ہوٹل‘‘ میں اہم کردار ادا کیا ہے، فلم کے سیٹ پر جس انداز سے ایکٹ کیا،فلمسٹار میرا جی نے میرے کام کو پسند کیا اور یہی نہیں تمام فنکاروں نے میرے کام کو سراہا، مجھے ’’ہوٹل‘‘فلم میں انٹروڈیوس میرے طلال انکل نے کرایا، وہ بہت اچھے اور شفیق ہیں مگر اسکرپٹ کے معاملے میں مجھے ڈانٹتے ہی نہیں بلکہ میری پٹائی بھی کر دیتے ہیں، میں روتی ضرور ہوں مگر جب اپنے کام کو دیکھتی ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے بالکل صحیح ڈانٹا،ریہرسلز اور سیٹ پر فلم کے ڈائریکٹر خالد حسن انکل بہت پیار کرتے تھے، میں اپنے پہلے دن کے آڈیشن کو بھول نہیں سکتی، یہ میری چھوٹی سی زندگی کا وہ آڈیشن تھا،جس میں سب سے زیادہ ڈر مجھے طلال انکل کا تھا کہ کہیں میں غلط نہ کر جاؤں، مگر ان کی تربیت نے مجھے سرخرو کرایا اور میں نے فلم میں کام کیا، فلم کی ریہرسلز اور شوٹنگزز میں تمام فنکاروں کے ساتھ فیملی ماحول رہا اور ہم کئی دن کراچی سے باہر بھی رہے، یہ میری زندگی کے یادگار دن تھے جو میں نے ان سب کے ساتھ گزارے

Readers Comments (0)

Comments are closed.

Premium WordPress Themes