سلطان سے فن کے سلطان تکArticle by Dr.B.A.Khurram   


کو شائع کی گئی۔ January 9, 2018    ·(TOTAL VIEWS 325)      No Comments

فلم انڈسٹری کے نامور اداکار سلطان رہی کی 22ویں برسی کے موقع پہ خصوصی تحریر
تحریر۔۔۔ ڈاکٹر بی اے خرم
پاکستان فلم انڈسٹری میں جب جب فلم سے وابستہ لوگوں کا ذکر ہوگا تب فن کے سلطان ۔۔۔ سلطان راہی کا تذکرہ کئے بغیر رہنا ناممکن ہوگا بائیس سال قبل 9 جنوری 1996ء کا سورج پاک فلم نگر کے لئے ایک منحوس خبر لے کر طلوع ہواپردہ سکرین پر ہزاروں کو ایک ہی پل میں گولیوں سے چھلنی کر دینے والا خود گوجرانوالہ کے قریب نامعلوم افراد کی گولیوں سے لقمہ اجل بن گیا اس روز ایک پر امن ،پیار کرنے والا،ہمدرد،محبتیں بانٹنے والا اور ملنسار انسان ظلم و بربریت کا نشانہ بن گیا مرحوم فلموں میں ظالموں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوا کرتے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ظالموں کے خون سے ندیاں بہا دیتا تھا لیکن جب خود کو ایک ہی گولی لگی تو ڈھیر ہوگیا سڑک پر موت و حیات کی کشمش میں بے یارومددگارپڑا رہا ، کوئی اس کی مدد کو نہ پہنچ سکااور بے بسی کی موت مارا گیا وہ جو ایک بڑھک لگا کر دشمنوں کو بھگا دیتا تھا مرتے وقت سرگوشی تک نہ کر سکاحتی کہ اپنے ہمسفر کو بھی آواز نہ دے سکااور چپکے سے نیند کی وادیوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سو گیا 9جنوری 1996ء کو چار دھائیوں تک پردہ سکرین پر حکمرانی کرنے والافن کا سلطان ،سلطان راہی اپنے چاہنے والوں کو اکیلا چھوڑ گیا ، قتل کے وقت ان کی عمر 58 سال تھی اچانک موت سے پاکستان فلم اندسٹری کو تقریبا مجموعی طور پر ایک ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،انتقال کے وقت مرحوم کی تقریبا 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں۔

فلم سٹار سلطان راہی 1938 میں پڑوسی ملک بھارت کے صوبہ اترپردیش کے ضلع بجنورکے مظفر نگر میں پیدا ہوئے تھے ان کا اصل نام سلطان محمد تھا بعد ازاں صدر راولپنڈی منتقل ہوگئے ہوش سنبھالا تو ’’ فلمیریا ‘‘ کے مریض بن گئے مرحوم نے 1956ء میں پاکستان فلم انڈسٹری میں قدم رکھا انہوں نے فلموں میں ایکسٹرا کے بے شمار رول کئے انتہائی ثانوی کرداروں میں جلوہ گر ہونے لگے کہا جاتا ہے کہ مرحوم نے انڈسٹری میں اپنا مقام بنانے کے لئے بڑا عرصہ دھکے کھائے شوبز کے ابتدائی سالوں میں انہیں سخت محنت کرنا پڑی ،اسٹیج ڈراموں میں بھی حصہ لیا شروعات میں ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا 70 ء کی دہائی میں خود کو منوانے میں کامیاب ہوئے۔ان کی بیشمارفلمیں ایسی تھیں جن میں صرف مرحوم کو ہی علم تھا کہ کس جگہ ان کا شاٹ تھا مثال کے طور پر اگر کسی فلم کی شوٹنگ سربازار میں ہو رہی ہے تو کیمرہ شوٹنگ دیکھنے والوں پر چلا گیا تو شوٹنگ دیکھنے والوں میں سلطان راہی بھی شامل تھے تو وہ فلم بھی شمار ہو گئی یعنی انہوں نے ایسی فلموں میں بھی کام کیا۔

موقع کی مناسبت سے آج کے معروف ہدایت کار فلم ساز اور ہیرو جاوید شیخ کا سچا واقعہ جو لطیفہ کی مانند ہے یاد آگیاجو کہ قارئین کے لئے حاضر خدمت ہے یقیناًآپ پڑھ کر محظوظ ہوں گے جاوید شیخ نے جب پہلی فلم میں کام کیا تو فلم کی ریلیز کے موقع پرخوشی خوشی اپنے دوستوں کوفلم دیکھنے کی دعوت دے ڈالی دوست احباب بڑے اہتمام سے فلم دیکھنے گئے فلم کے اختتام پہ دوستوں نے پوچھا ’’جیدی تم فلم میں کس جگہ تھے ہمیں تو کہیں نظر نہیں آئے ‘‘ تو شیخ صاحب نے برجستہ جواب دیا 
’’ فلم میں جو جلوس تھا میں بھی بقلم خود شامل تھا ‘‘ 
بالکل اسی طرح کے کردار مرحوم سلطان راہی نے ابتدائی سالوں میں بے شمار فلموں میں ادا کئے تھے مرحوم ابھی فلم نگر میں نئے نئے آئے تھے اس وقت کے ایک مشہور فلم ساز کے پاس گئے اور ان سے فلم میں کام مانگا تو اس فلم ساز نے کہا ’’ یہ منہ(چہرہ) میری فلم میں کام نہیں کر سکتا‘‘ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان فلم اندسٹری میں آغا جی کا ڈنکا بجنے لگا تو وہی فلم ساز سلطان راہی کے پاس گئے اور انہیں اپنی نئی فلم میں بطور ہیرو کام کرنے کی آفر کی تومرحوم نے موقع کی مناسبت سے پرانی انہی کی کہی ہوئی بات دہرائی ’’ یہ منہ(چہرہ) آپ کی فلم میں کام نہیں کر سکتا‘‘مرحوم نے مرتے دم تک اس فلم ساز کی کسی بھی فلم میں کوئی بھی رول نہیں کیا 1968ء میں ہدایت کار حید چوہدری نے اپنی فلم ’’بدلہ‘‘ میں پہلی بار مکمل ولن کے طور پہ پیش کیا

یہ ایک نغماتی اور کامیاب فلم تھی1971ء میں نامور ہدایت کار اقبال کاشمیری کی ’’بابل‘‘ میں ایک بدمعاش کا کردار اداکیا یہی فلم سلطان راہی کو منظر عام پہ لے آئی تھی جس کا مشہور گانا یہ تھا’’ میں کھولاں کہڑی کتاب نوں میں کہڑا سبق پڑھاں‘‘۔انورا،ٹھاہ،خان چاچا،دھی رانی،جناب عالی،عشق دیوانہ،دو پتر اناراں دے ،دنیا مطلب دی یہ وہ فلمیں تھی جس میں ان کی فلم نگر میں شناخت ہوئی اور ان فلموں میں بطور ولن کام کیا کئی سالوں پہ محیط محنت اور قسمت رنگ لے آئی۔ 1972 ء میں’’بابل‘‘ کے بعدانہیں ہدایت کار اسلم ڈار کی فلم ’’بشیرا‘‘ میں کاسٹ کر لیا گیا یہ فلم اسی سال ریلیز ہوئی ’’بشیرا‘‘ نے پورے ملک میں دھوم مچاتے ہوئے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے اس فلم کی کردارنگاری کو فلم بین آج بھی سراہتے ہیں اس فلم کا مشہور گیت تھا ’’ بنوں رانی بڑی دلگیر وے‘‘۔حمید چوہدری کی اردو فلم ’’زندگی کے میلے‘‘پہلی فلم تھی جس میں مرحوم نے بطور ہیرو کام کیا ’’جاسوس‘‘ ایک ایسی اردو فلم تھی جس میں ممتاز کے مقابل رومانٹک ہیرو کے روپ میں جلوہ گر ہوئے اس فلم میں مہدی حسن کی آواز میں گیت بھی ان پہ فلمائے گئے انہوں نے کئی اردو فلموں میں یادگار رول ادا کئے مگر ان کی جسمانی ساخت اردو فلموں والی نہ تھی ’’راستے کا پتھر ‘‘میں ان کا رول ینگ ٹو اولڈ تھا جو انہوں نے بڑی خوب صورتی سے نبھایا اس فلم کے ہیرو وحید مراد تھے ہدایت کار ایم اکر م کی ڈائمنڈ جوبلی فلم’’سلطان ‘‘ نے انہیں فلم نگر کا’’ سلطان ‘‘ بنا دیا 1975ء میں

احمد ندیم قاسمی کے ناول گنڈاسہ پر بننے والی فلم ’’وحشی جٹ ‘‘میں راہی صاحب گنڈاسہ لیکر پردہ سکرین پہ جلوہ گر ہوئے اور ایک تہلکہ مچ گیا اسی فلم کااگلا حصہ ہدایت کار یونس ملک نے 11فروی1979کو ’’ مولا جٹ‘‘بنا کر ریلیز کیاجو شاہکار بن گیا اس فلم نے فلم نگر میں ایک انقلاب برپا کر دیا اس فلم نے کامیابی کے تمام ریکارتوڑ دیئے اس فلم میں راہی صاحب نے ٹائٹل رول ادا کیا ’’مولا جٹ ‘‘ میں ان کا ایک ڈائیلاگ ’’مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مر سکدا ‘‘آج بھی ان کے پرستاروں کو یاد ہے جبکہ ’’نوری نت‘‘ کا کردار مصطفی قریشی نے ادا کیا وہ بھی امر ہوگیا ’’نواں آئیاں ایں سوہنیا‘‘نوری نت کا ایک مقبول ڈائیلاگ تھا جو زبان زدعام ہوا ،جو بسوں اور ٹرکوں کے پیچھے بھی لکھا دیکھا گیاان دونوں کی جوڑی نے بے شمار کامیاب اور شاہکار فلمیں پیش کیں ان دونوں کی جوڑی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی1976میں انہوں نے ایک فلم ’’تقدیر کہاں لے آئی ‘‘بطور فلم ساز بنائی جو شائقین فلم میں پذیرائی حاصل نہ کر سکی سلطان راہی نے اپنے چالیس سالہ فلمی کیریئر میں 800سے زائد فلموں میں کام کیا500فلموں میں ہیرو آئے کم و بیش 100 میں بطور ولن آئے 100 اردو فلمیں جبکہ دیگر پنجابی فلمیں تھیں زاہد عکاسی نے ان پہ ایک کتاب’’سلطان راہی پاکستانی فلموں کا سلطان ‘‘ کے ٹائٹل سے لکھی انہیں اس بات کا بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کو ڈیڑھ سو سے زائد فلمی ایوارڈ ملے چار دہائیوں تک مسلسل پردہ سکرین پر راج کرتے رہے ان کے بیٹے حیدر سلطان بھی فلم نگر میں آئے لیکن وہ پذیرائی نہ مل سکی جو مرحوم کے حصہ میں آئی۔
یوں توان کی بے شمار فلمیں سپرہٹ ہوئیں جگہ کی تنگی کے باعث یہاں چند فلموں کا ذکرکریں گے ان کی مشہور فلموں میں دل اور دنیا ،خان چاچا،میں سلطان ،بشیرا،بنارسی ٹھگ، زرق خان،دل لگی، الٹی میٹم،راستے کا پتھر،دادا،سدھا رستہ، وحشی جٹ،شریف بدمعاش،طوفان، جگا گجر ،لاہوری بادشاہ، قانون ،جیرا سائیں، مولاجٹ،رنگا ڈاکو،جٹ سورما، وحشی گجر،گوگا شی، بہرام ڈاکو،بائیکاٹ،ہٹلر ،انوکھا داج،شیر میدان دا،ملے گا ظلم دا بدلہ،جی دار،جٹ ان لندن، شیر خان ،ظلم دا بدلہ،اتھراپتر وریام ،چن وریام ، سالا صاحب ،دو بگھا زمین، رستم،راکا،لاوارث،دارا بلوچ، رستم خان ،مراد خان ،شان ،بگھی شیر،کالیا ،شعلے، قاتل حسینہ،جابر خان،قسمت۔ عجب خان ،جگا، قیدی ،اللہ رکھا ،قیمت، دلاری ،ناچے ناگن،مولابخش،بادل ،مفرور، روٹی ،حکومت،حسینہ 420 کالکا،بلاول،سلطانہ،ڈکیٹ،رنگیلے جاسوس،مجرم ،خدا بخش، کالے چور،شیر دل، چراغ بالی،بدمعاش ٹھگ،قاتل قیدی، ماجھو، بالاپیرے دا،سخی بادشاہ سمیت دیگر فلمیں شامل ہیں جن میں ان کی کردار نگاری انمٹ نقوش چھوڑ گئی سلطان راہی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کی ایک ہی دن 12 اگست 1981کو پانچ فلمیں ،شیر خان ،ظلم دا بدلہ،اتھراپتر،چن وریام اور سالا صاحب ریلیز ہوئی تھیں،جنہوں نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کر دئیے۔ یوں تو سلطان راہی نے آسیہ،انجمن ،نجمہ ،ممتاز،شبنم ،نیلی،گوری ،صائمہ،بابرہ شریف، اور عالیہ کے ساتھ بطور ہیرو کام کیا مگرشائقین فلم نے سب سے زیادہ ان کے ساتھ آسیہ کو پسند کیا ’’مولا جٹ ‘‘ میں ’’مکھو جٹی ‘‘ کا رول بھی آسیہ ہی نے ادا کیا تھا انجمن گوری اور صائمہ کو بھی ان کے ساتھ خوب سراہا گیا
مرحوم صوم و صلوۃکے بہت پابند تھے ایک مرتبہ سردیوں میں ایک فلم کی آؤٹ ڈور شوٹنگ کے لئے پہاڑی علاقے میں گئے ہوئے تھے فلم کی شوٹنگ کے بعد فلم سٹار محمد علی کے ساتھ ایک ہی کمرے میں سوئے ہوئے تھے رات کے پچھلے پہر محمد علی کی آنکھ کھلی تو انہیں کمرے میں نہ پایا اور فکرلاحق ہوئی اتنی سردی میں کہاں چلے گئے باہر تلاش کرنے کے لئے نکلے تو بہت حیران ہوئے راہی صاحب دنیا سے غافل رب کائنات کے آگے سجدہ ریز تھے اس واقعہ سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرحوم کتنے سچے مسلمان تھے ایک مسجد اپنے گھر میں اورایک مسجد ایور نیو اسٹوڈیو میں بنوائی تھی انہوں نے کئی حج کئے اورایسے افراد جوحج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے انہیں بھی اپنے خرچے پہ حج کرانے کی سعادت حاصل کی ،ایسے غیر معروف اور معروف فنکارو ہنر مند جن کا چولہا نہیں جلتا تھا انہیں ہر ماہ باقاعدگی سے خرچہ دیا کرتے تھے کیونکہ رب کائنات نے ان کے دل میں غریبوں کے لئے ہمدردی اورنرم گوشہ پیدا کر رکھا تھاوہ ایک خدا ترس ،نیک ،درویش صفت انسان تھے اللہ رب العزت مرحوم کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلی مقام دے آمین ثم آمین۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

Free WordPress Themes