سندھ پولیس میں پہلی ہندو خاتون اے ایس آئی کی تعیناتی   


کو شائع کی گئی۔ September 5, 2019    ·(TOTAL VIEWS 37)      No Comments

کراچی(یواین پی)سندھ کے انتہائی پسماندہ علاقے سمارو سے تعلق رکھنے والی ہندو خاتون پشپا کوہلی پولیس میں بھرتی ہونیوالی پہلی ہندو خاتون بن گئیں، سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے وہ اے ایس آئی کے عہدے پر تعینات ہوگئیں۔پشپا کوہلی کی کامیابی سے متعلق خبر انسانی حقوق کے کارکن کپل دیو نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے دی، جس میں پہلی ہندو خاتون پولیس اہلکار کو مبارکباد دی گئی ہے۔پشپا کوہلی کا سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میرا تعلق سندھ کے ایسے پسماندہ علاقے سے ہے جہاں لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیح نہیں دی جاتی، میں کامیابی والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے جنہوں نے ہر موقع پر میری حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں ہندو لڑکیوں کیلئے پولیس فورس میں شمولیت کیلئے رول ماڈل بننا چاہتی ہوں ساتھ ہی اپنی محنت سے ایماندار افسر بننا میرا خواب ہے۔میرا یقین ہے کہ لوگوں کو قومیت، رنگ و نسل کے بجائے ان کی صلاحیتوں سے جاننا چاہئے۔انتیس سالہ پشپا نے ڈاؤ میڈیکل کالج سے کریٹیکل کیئر (آئی سی سی) میں گویجوایشن کیا ہے۔اس سے قبل جنوری میں سمن پون بودانی پہلی ہندو خاتون سول، مجسٹریٹ جج تعینات ہوئی تھیں البتہ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص جج مقرر ہوا ہو۔ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پہلے جج جسٹس رانا بھگوان داس تھے، مارچ 2018ء میں کرشنا کماری پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر پہلی ہندو خاتون سینیٹر منتخب ہوئیں۔

Readers Comments (0)




WordPress Blog

WordPress主题