سورج مکھی کی کاشت کاوقت 15 جنوری تا 15 فروری تک کا ہے چوہدری شہباز اختر   


کو شائع کی گئی۔ January 7, 2021    ·(TOTAL VIEWS 71)      No Comments

اوکاڑہ (یواین پی)چوہدری شہباز اختر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت(توسیع) اوکاڑہ نے نواحی گاﺅں میں زمینداروں کاشتکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سورج مکھی کی کاشت کے لیے ساہیوال ، اوکاڑہ فیصل آباد و چند دیگر اضلاع قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت 15 جنوری تا 15 فروری تک مقررکیا گیا ہے۔ سورج مکھی کی کاشت کے لیے اچھے اگاﺅ والے صاف ستھرے دوغلی (ہائبرڈ) اقسام کی بیج کی فی ایکڑ مقدار 2 تا اڑھائی کلو گرام رکھیں۔ سورج مکھی کی موزوں اقسام میں ہائی سن۔33 ، ٹی۔40318 ، ایگورا4 ، این کے آر منی ، یو ایس 666 ، یو ایس 444 ، پی اے آر سن 3 ، آکسن۔5264 ، آکسن۔5270 ، ایس۔278 ، ایچ ایس ایف۔360 اے، سن۔7 ، آر۔آئی۔سن۔648 ، او۔آر۔آئی۔سن۔516 شامل ہیں۔ سرورج مکھی کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے موزوں وقت پر کاشت انتہائی ضروری ہے کیونکہ تاخیر سے کاشت کی صورت میں نہ صرف سورج کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ تیل کی مقدار میں بھی کمی ہوتی ہے۔ سورج مکھی کی بھر پور کاشت کےلئے کمزور زمین میں بوائی کے وقت پونے دو بوری ڈے اے پی اور ایک بوری ایس او پی فی ایکڑ استعمال کریںاور اوسط زرخیز زمین کے لئے بوائی کےلئے ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری ایس او پی فی ایکڑ استعمال کریں۔ جناب چوہدری شہباز اختر ،ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت(توسیع) اوکاڑہ نے مزید بتایا ہے کہ پاکستان ہر سال 300 ارب روپے کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے۔ جو کہ ملکی معیشت پر ایک بوجھ ہے۔ امسال وزیراعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت حکومتِ پنجاب تیلدار اجناس کا زیِر کاشت رقبہ بڑھانے کےلئے سورج مکھی کی کاشت پر 5000 روپے فی ایکڑ کی سسبڈی فراہم کر رہی ہے۔ کاشتکار سورج مکھی کی زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کر کے حکومتی سبسڈی سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ملکی درآمدی بل میں کمی لائی جاسکے۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

Free WordPress Theme