شہبازشریف نے چینی سکینڈل کا اصل ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کو قرار دے دیا   


کو شائع کی گئی۔ May 22, 2020    ·(TOTAL VIEWS 27)      No Comments

لاہور(یواین پی) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے چینی سکینڈل کا اصل ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن نے چینی برآمد کرنے کے اصل ذمہ دار عمران خان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، انکوائری کمیشن کی رپورٹ محض ایک دھوکہ ہے۔ اگر وزیراعظم نوازشریف جے آئی ٹی میں پیش ہوسکتے ہیں، ہم خطاکار دن رات نیب کی پیشیاں بھگت سکتے ہیں، عقوبت خانے اور جیلیں بھگت سکتے ہیں تو ان کو کون سا سرخاب کا پر لگا ہوا ہے کہ یہ چینی انکوائری کمیشن کے روبرو پیش نہیں ہوسکتی وزیراعظم عمران خان کے کمشن کے سامنے پیش نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کمیشن اتنا کمزور اورخوفزدہ ہے کہ وزیراعظم کو بلانے کی جرات نہیں کرسکا۔جمعرات کو انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کا چینی انکوائری کمشن بنانا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف ہے۔یہ معاملہ سبسڈی کا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی مختلف حکومتیں گندم اور چینی کی برآمد پر سبسڈی دیتی رہی ہیں۔ لیکن اس کی بنیادی شرائط ہیں۔ ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ جو چیز برآمد ہونی ہے، اس کا اضافی ذخیرہ آپ کے پاس موجود ہونا چاہئے۔پہلے آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے پاس مقامی سطح پر ضروریات پوری کرنے کے لئے وہ متعلقہ چیز موجود ہونی چاہئے۔ یہ طریقہ غیرملکی زرمبادلہ ملک کے حاصل کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2018-19 کے سال میں گنے کی پیداوار کے اعدادوشمار سے ثابت ہوجائے گا کہ چینی برآمد کرنے کے لئے اس کا اضافی ذخیرہ ملک میں موجود نہیں تھا۔ طلب اور کھپت میں توازن کے لئے اضافی زخیرہ نہیں تھا، اس لئے یہ مجرمانہ فیصلہ تھا۔ای سی سی کے فیصلے پر ذمہ دار وزیراعظم ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اسدعمر صاحب کو مقررکیا جنہوں نے فیصلہ کیا۔ شوگر ایڈوائزری بورڈ نے خبردار کیا کہ اضافی چینی موجود نہیں ہے، ایکسپورٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ای سی سی کے فیصلے کی توثیق وفاقی کابینہ کرتی ہے جس کی صدارت وزیراعظم کرتا ہے۔ انہوں نے کہ 2016کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم پابند ہے۔

Readers Comments (0)




WordPress主题

Free WordPress Theme