صحافت مقدس پیشہ   


کو شائع کی گئی۔ March 14, 2020    ·(TOTAL VIEWS 62)      No Comments

تحریر۔۔۔ شیخ توصیف حسین
یہ کیسا ملک ہے اور کیسا قانون جہاں پر صحافت جیسے مقدس پیشے سے وابستہ عامل صحافی لاتعداد پریشانیوں کے باوجود ملک وقوم کی بقا کے حصول کی خا طر بااثر قانون شکن عناصر جو ملک وقوم کے ساتھ ساتھ انسانیت کے نام پر ایک بد نما داغ ہیں کے کالے کرتوتوں کو اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بے نقاب کر کے اپنے ماتھے پر ایمانداری کا ٹکہ سجائے اور ہاتھوں میں تسبیح لیے ارباب و بااختیار کی خدمت اقدس میں پیش کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ارباب و بااختیار کہ جن کے منہ مومناں اور کرتوت کافراں جیسے ہیں مذکورہ بااثر قانون شکن عناصر کے کالے کرتوتوں کی تحریری لسٹ کو پڑھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں آج ملک بھر کے تمام اداروں میں لاقانو نیت کا ننگا رقص جاری جبکہ عوام بھوک و افلاس کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف سے محروم ہو کر بے بسی اور لا چارگی کی تصویر بن کر رہ گئی ہے آج کے اس پرآ شوب معاشرے میں لاتعداد سی او ہیلتھ ایم ایس و ڈاکٹرز ڈریکولا کا روپ دھار کر غریب مریضوں کے بنیادی حقوق کا خون چوس کر انسانیت کی تذلیل کرنے میں مصروف عمل ہیں یہی کافی نہیں لاتعداد مذہبی و سیاسی افراد حرام کی کمائی کے حصول کی خا طر حکم خداوندی کو ٹھکراتے ہوئے مذہبی فسادات کروا کر بھائی کے ہاتھوں بھائی کا قتل عام کروا کر مذہب اسلام کی تذلیل کر رہے ہیں جبکہ لاتعداد تاجرز اپنے ماتھے پر ایمانداری کا ٹکہ سجائے اور ہاتھوں میں تسبیح لیے اشیائے خوردنوش کا ذ خیرہ کر کے غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں جن کے اس گھناﺅ نے اقدام کی وجہ سے لاتعداد غریب افراد زندہ درگور ہو کر رہ گئے ہیں قانون کے محافظ تھانوں میں بااثر ظالم افراد کو کرسیاں جبکہ غریب مظلوم افراد کو غلیظ گالیاں اور دھکے دیکر عدل و انصاف کی تذلیل کر رہے ہیں قصہ مختصر آج ملک بھر میں یہ ناسور لوٹ مار ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی تاریخ رقم کر کے ملک و قوم کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کر نے کے بجائے پسماندگی کی راہ گامزن کرنے میں مصروف عمل ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان ناسوروں کے کالے کرتوتوں کو صحافت جیسے مقدس پیشے سے وابستہ عامل صحافی ملک وقوم اور بالخصوص انسانیت کی بقا کے حصول کی خا طر بے نقاب کر کے ارباب و بااختیار کی خدمت اقدس میں پیش کرتے ہیں تو نفسا نفسی کے شکار ارباب و بااختیار ان ناسوروں کے کالے کرتوتوں کو پڑھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں کیا اس ملک کا یہی قانون اور یہی دستور ہے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Weboy