صحافی سے بدسلوکی کرنے پہ ٹھٹھہ میں‌احتجاجی ریلی   


کو شائع کی گئی۔ September 20, 2019    ·(TOTAL VIEWS 42)      No Comments

ٹھٹھہ(رپورٹ حمید چنڈ) ٹین دن پہلے لاڑکانہ کئ چانڈ کا میڈیکل کالیج کئ ہاسٹل میں سے ملا ہوا ہندو طالبہ ڈاکٹر نمرتا کماری جو فائنل کی طلبہ تھی جس کا بیدردی سے قتل کرنے والے ملزموں کئ گرفتاری نہ ہونے کئ صورت میں اور وائس چانسلر نے صحافی کے ساتہہ بدسلوکی اختیار کرنے سے آج سندھ یونیورسٹی کئمپس ٹھٹھہمیں احتجاجی مظاہرہ کر کہ ریلیاں نکالی گئی جس میں شاگردوں اور سماجی رہنما اور قومپرست تنظیمی رہنماؤں کئ بہری تعداد میں شرکت ہوئی عوام اور شاگردوں نے کئمپس کے مین گیٹ سے لیکر پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی اور بلند آوازوں میں نعریبازی کئ اس ریلی کئ قیادت سید جلال شاہ، راجو قریشی، ناتہو خان بروہی، جمیل سمون یوسف خشک، صدام سموں اور دیگروں نے کئ انہونے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نمرتا کماری سندھ کئ بیٹی تہی جن کے ساتہہ ظالموں نے تشدد کر کہ. بلاجواز موت کے گہات اوتار دیا انہونے کہا کہ ان ظالم قاتلوں کو فوری طور گرفتار کر کے پہانسی دی جائے اور والدیں کے ساتہہ انصاف کیا جائے انہونے مزید کہا کہ قلم کار صحافیوں کے ساتہہ وائس چانسلر نے جو بدسلوکی کا رویا اختیار کیا ہے ان کئ سخت لفظون میں مذمت کرتے ہے انہونے مزید کہا کہ وائس چانسلر کےخلاف سخت سے سخت کاروائی کر کہ قلم کار صحافیوں کے ساتہہ بہی انصاف کیا جائے دوسری صورت میں احتجاج وسیع کیا جائیگا
بااثر شخص نے ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے اعجاز چانڈیو
ٹھٹھ، (رپورٹ حمید چنڈ) مکلی شاھ لطیف کالونی کے رہائشی اعجاز چانڈیو،رب رکیو چانڈیو،بادل تنیو الطاف پنھور،نے عوامی پریس کلب ٹھٹہ میں پہنچ کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے ہم نہایت غریب لوگ ہیں مگر ہمارا پڑوسی جبری برطرف ریٹائرڈ جج عنایت اللہ کوندھر نے ہمارا جینا دشوار کردیا ہے،انہوں نے بتایا ہماری گھر کے سامنے بااثر رٹائرڈ برطرف جج نے ہمارے آنے جانے کے راستے بند کردیں ہے جبکہ میت تک نکالنے کا راستہ نہیں ہے انہوں نے بتایا ہے بااثر ریٹارڈ جج نے آنے جانے والے گلیوں میں اپنے کار کی پارکنگ بناکر رکہیں ہے،جبکہ راستہ بند ہونے کے باعث پانی کے لائیں سی سی روڈ لائیٹ کے لائیں اور گٹر لائیں کے اسکیم کیسے بھی اداری سے منظور نہیں ہو رہیں،انہوں نے مزید کہا ہے. رٹائرڈ برطرف جج عنایت اللہ کوندھر پیسے لیکر اپنے گھر تک محدود ہے،وہ ہماری پڑوس میں رہ کر ہماری لئے آزار بن گیا ہے، انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستاں،ہائی کورٹ سندہ اور ایس ایس ٹھٹھہ سے مطالبہ کیا ہے بااثر کے خلاف کاروائی کر کے ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے،

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Premium WordPress Themes