صدر اور وزیر اعظم عمران خان کا 10محرم الحرام 1441ہجری کے موقع پر الگ الگ پیغام   


کو شائع کی گئی۔ September 10, 2019    ·(TOTAL VIEWS 40)      No Comments

اسلام آباد (یواین پی)صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم اُسوہ حسینؓ کی روشنی میں ہر وہ کام کریں گے جو اعلائے کلمۃ اللہ، فروغ حق، اسلامی روایات کی پاسداری اور ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے مفید ہو،دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے سدباب کے لیے کسی بھی قسم کا اقدام کرنے سے دریغ نہیں کریں گے،اپنی جانوں کے علاوہ اپنا سب کچھ راہ خدا میں دین اسلام کی سر بلندی کے لئے نچھاور کردینا ہی عظمت اور کامیابی ہے،ہمیں کشمیر میں بھارتی سامراج سے برسرپیکار عوام کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے حق پر قائم رہتے ہوئے سنتِ امام حسینؓ کو زندہ رکھا۔یوم عاشور 10محرم الحرام 1441ہجری کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ نواسہ رسول امامِ عالی مقام حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اطہار اور رفقائے کار کے ساتھ میدان کربلا میں یومِ عاشور کو شہادت پاکر تاریخ اسلام میں اس دن کو تاقیامت انمٹ بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ عظیم قربانی ہرسال مسلمانوں کو اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ فسق و فجور کی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ شہادت امام حسین رضی تعالیٰ عنہ حقیقت میں انسانیت کی فتح اور اسلامی اصولوں کی سربلندی ہے، یہ اسی قربانی کا ثمر ہے کہ ہماری تاریخ میں ایسے جانثار پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ حق اور انصاف کا ساتھ دیا۔صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ آئیے آج کے دن تجدید عہد کریں کہ ہم اُسوہ حسینؓ کی روشنی میں ہر وہ کام کریں گے جو اعلائے کلمۃ اللہ، فروغ حق، اسلامی روایات کی پاسداری اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے مفید ہواور دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے سدباب کے لیے کسی بھی قسم کا اقدام کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں دعا کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ پاکستان کو امن، ترقی و خوشحالی سے ہمکنار فرمائے اور یوم عاشور کے اصل پیغام جو کہ قربانی پر مبنی ہے کو ہماری زندگیوں میں شامل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے آج کا دن ہمارے لئے مختلف اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے، تاریخ اسلام میں اس دن کو ایک الگ رفعت و بلندی اور خاص اہمیت و انفرادیت امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کی شہادت اورواقعہ کربلا کی بدولت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کا یہ عظیم معرکہ حق و باطل، یہ بات باور کراتا ہے کہ اسلام کی اعلیٰ اقدار کے فروغ و احیاء کے لیے اپنی یا اپنے پیاروں، شیر خوار بچوں، کڑیل جوان بیٹوں، بھائیوں اور ساتھیوں کی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے اور اپنی جانوں کے علاوہ اپنا سب کچھ راہ خدا میں دین اسلام کی سر بلندی کے لئے نچھاور کردینا ہی عظمت اور کامیابی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جذبہ شبیری ؓ مسلمانوں کے ایمان و یقین، سچائی اور اصول پرستی کی روایت کو جلا بخشتا ہے اور یہ اسلام کے ابدی پیغام اور جذبہ قربانی کی لازوال اور روح پرور روایت کی آبیاری کا سرچشمہ ہے جس کی نظیر تاریخ انسانی میں مشکل سے ہی ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے نزدیک اسوہ حسین ؓ کا یہ پیغام ہر قلبِ سلیم کے لیے ہے کہ وہ راہ حق میں آنے والی ہر پریشانی کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو قرآن پاک کے الفاظ کی روشنی میں ”اے نفسِ مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ کہ تو اس سے ر اضی ہو“ کی عملی تصویر بن جانا چاہیے۔ اسی جذبہ سے سرشاری کے بعد ہم وطن عزیز اور اقوام عالم میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس موقع پرہمیں کشمیر میں بھارتی سامراج سے برسرپیکار عوام کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے حق پر قائم رہتے ہوئے سنتِ امام حسینؓ کو زندہ رکھا اور کربلا کی طرح کشمیر کو بھی معرکہ حق و باطل کی ایک عظیم مثال بنا دیا۔اپنے پیغام کے آخر میں وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ آج کے دن اسلامی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے یوم عاشور عقیدت و احترام سے منائے اور اس موقع پر وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لیے ضرور دعائیں کی جائیں۔ انہوں نے دعا کی کہ خدائے بزرگ و برتر آپ کی دعاؤں کو شرف قبولیت سے نوازے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Themes