ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانےکا نام قربانی ہے، صدر مملکت   


کو شائع کی گئی۔ August 30, 2020    ·(TOTAL VIEWS 17)      No Comments

اسلام آ باد (یواین پی) صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانے کا نام قربانی ہے اور اسلامی اقدار کیلئے قربانی ہی کامیابی ہے ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم عاشور محرم الحرام 1442ھ کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یوم ِعاشور یعنی دس محرم الحرام کو اللہ تعالیٰ نے روز ِاوّل سے ہی خاص شرف بخشا ہے۔ اس دن تاریخ ِانسانیت کے بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں، جیسا کہ حضرت آدم ؑکی توبہ قبول ہوئی، جناب نوحؑ کی کشتی سلامتی سے جودی پہاڑ پراتری، حضرت سیدنا ابراہیمؑ پر نارِ نمرود گلزار ہوئی اور دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ بھی یکم محرم الحرام کو شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم خَاتم اَلنّبِیینؐ کے نواسہ جناب امامِ عالی مقام حضرت ِ امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت ِاطہار اور رفقائے کار کے ساتھ میدان کربلامیں یومِ عاشورکو شہادت پا کر تاریخ اسلام میں اس دن کو قیامت تک کیلئے خاص بنا دیا۔ اس دن نواسہ رسول خَاتم اَلنّبِیین ؐ کی شہادت کا عظیم واقعہ ہر سال مسلمانوں کو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ظالم اور باطل قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے وقت آنے پر جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ شہادت امام حسینؓ در حقیقت حق کی فتح، ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانے اور ایثار و قربانی کا استعارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام ہمیں وہ جذبہ ِصادق عطا کرتا ہے جس کی بدولت ہم بڑی سے بڑی آزمائش کا مقابلہ کر سکتے ہیں، اور آپ کو معلوم ہے کہ پاکستانی قوم نے مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے حال ہی میں کورونا وائرس کی عالمی وبا پر کامیابی سے قابو پایا ہے، لیکن اس وبا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور ہمیں اس سلسلہ میں مزید احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ پوری قوم یومِ عاشور کےموقع پر بھی علمائے کرام کی مشاورت سے جاری کردہ کورونا سے متعلق حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ آئیں آج کے دن ہم سب یہ تجدید ِعہدکریں کہ ہم اسوہ ِحسینؓ پر عمل پیرا ہو کر ہر وہ کام کریں گے جو حق کی سربلندی، عدل و انصاف کے فروغ، اسلامی روایات کی پاسداری اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے مفید ہو ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم باہمی نفاق، فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو با لائے طاق رکھ کر ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی سال ہمارے ملک کی ترقی و خوشحالی کا سال ثابت ہو، اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔وزیر اعظم نے یوم عاشور دس محرم الحرام 1442ہجری کے موقع پر قوم کے نام ایک پیغام میں کہا کہ آج کے دن میں قوم سے اپیل کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ آپ محرم الحرام کی تقاریب میں بھی حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر ضرور عمل پیرا ہوں گے اور کورونا سے محفوظ ماحول میں یوم عاشور عقیدت و احترام کے ساتھ، فرقہ وارئیت اور تعصب کو بالائے طاق رکھتے ہوے منائیں گے اور امن و امان کوبھی یقینی بنائیں گے۔اس موقع پر وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کےلئے ضرور دعائیں فرمائیں۔ خدائے بزرگ و برتر آپ کی دعاوں کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین یا رب العالمین)۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج حرمت والے مہینے محرم الحرام کی دس تاریخ ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان جگرگوشہ بتولؓ، نواسہ خَاتم اَلنّبِیین ؐ امامِ عالی مقام حضرتِ امام حسین ؓ کی شہادتِ عظمیٰ کی بے مثال و لازوال قربانی کی یاد کو تازہ کر رہے ہیں۔اگرچہ یومِ عاشور مختلف اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم تاریخ اسلام میں اس دن کو ایک الگ رفعت و بلندی اور خاص اہمیت و انفرادیت امام عالی مقام کی شہادت اورواقعہ کربلا کی بدولت حاصل ہوئی۔کربلا کا یہ عظیم معرکہ حق و باطل یہ بات باور کراتا ہے کہ اسلام کی اعلیٰ اقدار کے فروغ و احیاءکےلئے کسی بھی قربانی کو راہ خدا میں نچھاور کردینا ہی کامیابی ہے۔ جذبہ شبیری ؓمسلمانوں کے ایمان و یقین، سچائی اور اصول پسندی کی روایت کو جلا بخشتا ہے۔ یہ اسلام کے ابدی پیغام اور جذبہ قربانی کی لازوال اور روح پرور روایت کی آبیاری کا سرچشمہ ہے جس کی نظیر تاریخ انسانی میں مشکل سے ہی ملتی ہے۔ میرے نزدیک اسوہ حسین ؓکا یہ پیغام ہر قلِب سلیم کےلئے ہے کہ وہ راہ حق میں آنے والی ہر پریشانی کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اپنی جان جانِ آفرین کہ سپرد کردے۔اسی جذبہ سے سرشاری کے بعد ہم وطن عزیز اور اقوام عالم میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کرسکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس موقع پرہمیں جموں و کشمیر میں بھارتی سامراج سے برسرپیکار عوام کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے حق پر قائم رہتے ہوئے سنتِ امام حسینؓ کو زندہ رکھا اور کربلا کی طرح کشمیر کو بھی معرکہ حق و باطل کی ایک عظیم مثال بنادیا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے کرونا وائرس کی وبا ءنے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس میں ارض پاک بھی شامل تھی لیکن اللہ پاک کی مدد، حکومت کے بروقت اقدامات اور قوم کے بھر پور تعاون سے کرونا وباءکے پھیلاوپرکافی حد تک قابو پا لیا گےا جس پر پوری پاکستانی قوم کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ دریں اثناء وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ پوری قوم اس درد کو محسوس کررہی ہے جس میں کراچی کے عوام مبتلا ہیں۔ تاہم اس تباہ کن صورتحال اور تمام تر مشکلات کے ہنگام مثبت پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ میری حکومت سندھ حکومت کیساتھ ملکر فوری طور پر کراچی کے 3 بڑے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔۔ان میں شہربھر کے نالوں کی مکمل صفائی، آبی گزرگاہوں کی راہ میں رکاوٹ بننے والی تجاوزات سے نمٹنا، کوڑا کرکٹ اور نکاسی آب کے مسائل کا مستقل حل دریافت کرنا اور کراچی کے عوام کو پانی کی فراہمی جیسے بنیادی اور اہم ترین مسئلے کا حل شامل ہے۔

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Weboy