عوامی عدالت کا عوامی فیصلہ Articale by Dr.B.A.Khurram   


کو شائع کی گئی۔ February 13, 2018    ·(TOTAL VIEWS 303)      No Comments

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر بی اے خرم
گئے وقتوں کی بات ہے جب وطن عزیز میں پاکستان پیپلز پارٹی قائم ہوئی تو اس پارٹی کے پلیٹ فارم سے بڑے بڑے نام ابھر کر سامنے آئے بھٹوفیملی اور پیپلز پارٹی لازم و ملزوم نظر آئے اسے وفاق کی پارٹی کہا گیا ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی قیادت میں چلنے والی پی پی پی انٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی سمجھی جاتی رہی اور عوام میں اس کی جڑیں بہت گہری تصور کی گئیں اس جماعت سے محبت کرنے والے ’’جیالے ‘‘ کہلائے جیالوں کی پارٹی سے محبت بے لوث اور انمٹ رہی بھٹو فیملی کے منظر سے ہٹتے ہی پارٹی کی بنیادی پالیسیوں کو رفتہ رفتہ فراموش کیا جانے لگاآصف علی زرداری کی قیادت میں چلنے والی پی پی پی نے یو ٹرن لیا انٹی اسٹیبلشمنٹ پالیسی کو پس پشت ڈال دیا گیا مفاہمتی پالیسی کا ہر جانب چرچہ زبان زد عام ہوا زرداری نے اپنی ٹرم چاپلوسی اور مفاہمتی پالیسی سے پوری کی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات ہوئے تو وفاق کی پارٹی صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی پارٹی نے جو بڑے بڑے نام دیئے وہ وقت کے ساتھ ساتھ مفاہمتی پالیسی کے باعث دور ہوتے گئے موجودہ دور حکومت ہونے والے ضمنی انتخابات میں جو حشر ہوا یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہامسلم لیگ کو ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کی جماعت کہا گیا بارہ اکتوبر 1999ء کے بعد اس جماعت نے بھی یو ٹرن لیا اور اپنی سیاست کا آغازانٹی اسٹیبلشمنٹ پالیسی سے کیا یوں یہ جماعت عوام میں مقبول ہوتی گئی پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سے میاں نواز شریف نااہل ہوئے تو انہوں نے کھل کر فرنٹ لائن پہ کھیلنے کا فیصلہ کیا سابق وزیر اعظم اپنی عدالتی نااہلی کے بعد انٹی اسٹیبلشمنٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آئے نئے روپ میں میاں صاحب ایک طاقت ور لیڈربن کر ابھرے ان کی مقبولیت ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے نااہلی کے بعدچکوال اور لودھراں کا ضمنی الیکشن ایک بڑا ’’سیاسی اپ سیٹ ‘‘ ثابت ہوا 
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے سیاسی پنڈتوں کے ساتھ سیاسی کارکنوں کو بھی حیران کر دیا حالات و واقعات ، سیاسی تجزیئے ،تخمینے اور پیشگوئیاں ساری کی ساری ٹھس ہوتی دکھائی دیں ’’تبدیلی کا نعرہ‘‘اور ’’ایک زرداری سب پہ بھاری‘‘ کی بجائے ’’شیر اک واری فیر‘‘کا نعرہ درست ثابت ہوا الیکشن نتائج نے جہاں حکمران جماعت کو مشکل حالات اور گردش ایام میں ایک نئی آکسیجن فراہم کی وہاں پاکستان تحریک انصاف کے ایوانوں میں ایک بڑا سیاسی دھچکا اور لرزہ طاری کردیاضمنی الیکشن میں تحریک انساف نے بھر پور انتخابی مہم چلائی حتی کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرکے ایک تلاطم سا پیدا کر دیا گیا پی ٹی آئی کے ہر اہم رہنما نے لودھراں میں ڈیرے ڈال رکھے تھے حلقہ میں ترین نے جیتنے کے لئے پیسہ پانی کی طرح بہایا پی ٹی آئی نے اس ضمنی انتخاب میں ایک ایسا انتخابی ماحول پیدا کردیا تھا جو ایسا ظاہر کر رہا تھا کہ شاید حکمران جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے عمران خان نے ہمیشہ موروثی سیاست کے خلاف سٹینڈ لیا لیکن تحریک انصاف نے این اے 154 میں اپنی کہی ہوئی باتوں کی نفی کرتے ہوئے یہاں موروثی سیاست فروغ دیا اگر یہاں سے نااہل ہونے والے قومی اسمبلی کے رکن کے بیٹے کی بجائے کسی اور کو الیکشن لڑنے کا موقع دیا جاتا تو یقیناًنتائج مختلف ہو سکتے تھے شریف برادران سمیت مسلم لیگ ن کا کوئی اہم رہنما حلقہ میں انتخابی مہم چلانے نہیں گیا البتہ حکمران جماعت کے امیدوار نے اپنی انتخابی مہم بڑی خاموشی سے چلائی’’کانجو گروپ ‘‘ نے حلقہ میں انتھک محنت کی نے روٹھوں کو منایا اور مسلم لیگ ن کی بے جان الیکشن مہم میں جان ڈال کر سب کو حیران کر دیا چکوال کے بعد لودھراں کی ’’عوامی عدالت ‘‘ نے حکمران جماعت کو حکومتی ایوانوں میں پہنچا کر’’ عوامی فیصلہ ‘‘سنا یا
یوں تو اس حلقہ میں دس امیدوار قسمت آزمائی کر رہے تھے لیکن اصل مقابلہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہی متوقع تھا لودھراں ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار پیر اقبال شاہ نے 1 لاکھ 13 ہزار 827 ، تحریک انصاف کے علی ترین 87 ہزار 571 جبکہ تحریک لبیک کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ملک اظہر احمد سندیلہ نے11 ہزار 494 ووٹ حاصل کئے۔این اے 154 کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی سمیت 8 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں،پیپلزپارٹی کے امیدوار مرزا محمد علی بیگ صرف 3 ہزار 762 ووٹ حاصل کر سکے،آزاد امیدوار میاں ساجد نے 1637 ،عبدالمجید 1308 ،محمد صدیق 906 ، فدا حسین 469 ،نفیس احمد مراد171 اور اوصاف علی نے 121 ووٹ حاصل کئے۔ یوں یہ نشست حکمران جماعت نے 25ہزار 360 ووٹوں کی برتری سے پی ٹی آئی سے دھڑلے سے چھین کر اپنے نام کر لی مسلم لیگ ن کا شیر کچھار سے نکل کر ایسا دھاڑاکہ مخالفین کونہ صرف کھا یا بلکہ ہضم بھی کرگیاشیر کی دھاڑ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی این اے 154 لودھراں ضمنی الیکشن میں تحریک لبیک کے امیدوار کا تیسری پوزیشن حاصل کرنا پیپلزپارٹی کی قیادت کیلئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی ضمانتیں مسلسل ضبط ہو رہی ہیں جس نے پیپلزپارٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیئے ہیں ماضی میں یہاں سے جیتنے والی پی پی پی کے امیدوار کی ضمانت تک ضبط ہوگئی پیپلزپارٹی کے لئے بھی یہ الیکشن ایک گہرے صدمے سے کم نہیں زرداری کی مفاہمتی پالیسی نے پی پی پی کو کہیں کا نہیں چھوڑا پارٹی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی کے مخلص ساتھی جو پارٹی چھوڑ چکے ہیں یا پھر دل برداشتہ ہوکر گوشہ گمنامی میں چلے گئے انہیں منا کر دوبارہ پارٹی میں لاکر انہیں عزت دیں اور ان کی مشاورت سے آنے والے عام انتخابات کے لئے نئی پالیسی اور نیا منشور مرتب کیا جائے نوجوان قیادت بلاول بھٹو کو پی پی پی میں فری ہینڈ دیا جائے کیونکہ پارٹی کے لوگ بلاول بھٹو کی صورت میں ایک نوجوان قیادت دیکھ رہے ہیں جس طرح پی پی پی کے سرکردہ لیڈر پارٹی کے یوٹرن لینے سے پارٹی کو خیرباد کہہ گئے یا پھر پیچھے ہٹ گئے اسی طرح وفاقی پارٹی کے کارکن بھی ناقص پالیسیوں کے باعث چپ سادھ کر گھروں میں بیٹھ گئے پی پی پی کا ووٹر اب بھی موجود ہے لیکن اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا اس خاموش ووٹر کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے اگر پی پی پی کی قیادت نے بلاول بھٹو کوفری ہینڈ نہ دیا اور ناراض ووٹرز کو منانے کی کوشش نہ کی گئی تو پھرآنے والے عام انتخابات میں دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی ان کی حالت مایوس کن ہوگی 
اب ذرا نظر ڈالتے ہیں کہ دو ہزارتیرہ کے عام انتخابات اور پھر ضمنی انتخاب میں اس حلقہ میں کون کہاں کھڑا تھا گزرے سالوں میں سیاسی کارکنوں نے ہر الیکشن میں اپ سیٹ کیا پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین 2015 میں لودھراں کے حلقے این اے 154 میں محمد صدیق خان کے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد ضمنی انتخاب میں ایک لاکھ 38 ہزار 719 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے۔ 11 مئی 2013 کے عام انتخابات میں این اے 154 سے محمد صدیق خان ن نے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑا اور 86 ہزار 177 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے تھے جبکہ جہانگیر ترین نے 72 ہزار 89 ووٹ لیے اور دوسرے نمبر پر رہے اور ن لیگ کے امیدوار سید محمد رفیع الدین بخاری نے 45 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے تاہم دھاندلی کے الزامات کے باعث 2015 میں محمد صدیق خان نااہل ہو گئے پیپلز پارٹی کے مرزا ناصر بیگ نے 11155ووٹ لئے اور ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین نے واضح اکثریت سے کامیابی سمیٹی اور ایک لاکھ 38 ہزار 719 ووٹ حاصل کیے جبکہ محمدصدیق نے ن لیگ کی ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیا لیکن کامیاب قرار نہیں پائے اور 99 ہزار 933 ووٹ حاصل کیے۔
لودھراں میں تحریک انصاف کے رہنماجہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کی ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے ہاتھوں شکست سے پی ٹی آئی کے کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی جسے دور کرنے کے لیے تحریک انصاف کے قائد نے سوشل رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پہ خصوصی پیغام جاری کیا ’’یہ ان تمام کارکنان کیلئے ہے جو کہ این اے 154 کے نتیجے کے بعد مایوس ہیں ، غلطیوں کے تجزیے کے بعد ان پر قابو پا کر ہی مضبوطی آتی ہے ،کامیاب لوگ ،ادارے اور قومیں اپنی ناکامیوں سے ہی سیکھتی ہیں اور جو لوگ دل شکستہ ہو جاتے ہیں وہ کبھی واپس طاقت حاصل نہیں کر سکتے کئی دہائیوں پر مشتمل انصاف کیلئے سیاسی جدو جہد میں کبھی مایوس نہیں ہوا لیکن مصیبتوں کا سامنا کرنے کے بعد مزید مضبوط ہو کر آیا ،انشا اللہ 2018 کا الیکشن ہمارا ہے‘‘سیاسی میدان میں شکست کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کا عمل خوش آئند تصور کیا جائے گا ورنہ ماضی میں ہر ہارنے والی پارٹی نے اپنی شکست کو تسلیم کرنے کی بجائے دھاندلی کا رونا رویا ،پاکستان تحریک انصاف گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں’’ تبدیلی‘‘ کا ڈنڈھوراپیٹتی چلی آرہی ہے پی ٹی آئی جس تبدیلی کا نعرہ لگاتی رہی ہے اور نئے پاکستان کے سہانے خواب دکھا رہی تھی لودھراں کے ضمنی الیکشن نے سب کچھ الٹ پلٹ کے رکھ دیا باپ کی سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد بیٹا بھی’’ عوامی عدالت ‘‘سے ناہل قرار پایا پچھلے ضمنی الیکشن میں چالیس ہزار سے زائد ووٹوں سے جیتنے والی نشست پہ ذلت آمیز شکست ترین فیملی اورپی ٹی آئی کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے جنوبی پنجاب کے ووٹروں نے جو فیصلہ کیا ہے یہ آنے والے عام انتخابات کی نئی صف بندی کا پیش خیمہ ہے 

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

WordPress Blog