غیر اخلاقی اقدامات   


کو شائع کی گئی۔ March 28, 2014    ·(TOTAL VIEWS 367)      No Comments

2
کبھی ہم سوچتے ہیں کہ بزرگوں کا کہا ہوا ٹھیک ہی ہے کہ کتے کو کھیر ہضم نہیں ہوتی. یہ کہنے کا میرا مقصد کیا ہے. میچ 2014 میں دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے درمیان ہوا جس میں ایک خبر تو سب کے سامنے آ رہی ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے کرکٹ اسٹیڈیم میں غیر ملکی پرچم لہرانے پر پابندی عائد کر دی ہے اس کی وجہ کیا ہے کیا انسان کو عزت راس نہیں. مگر دوسری بات بہت کم لوگوں کے پاس ہو گی جب دنیا کرکٹ کے مایہ ناز کرکٹر جو اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پوری دنیا میں مشہور ہے کرس گیل جب آوٹ ہوئے تو بنگلہ دیشی عوام نے بہت ہی زیادہ غیر اخلاقی حرکات کا ثبوت دیا وہ وڈیو میں سب کے سامنے پیش ہوا جو انهوں نے کیا بنگلہ دیش کی حکومت نے پرچم لہرانے پر تو پابندی عائد کر دی مگر غیر اخلاقی اقدامات پر کوئی اعتراض نہیں لگایا بنگلہ دیش نے ایشیا کپ اور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ کا انعقاد تو کر لیا مگر اپنی چھوٹی عقل اور سوچ کو بڑا نہیں کیا جبکہ کرکٹ میچ میں سیاست کا آغاز ہونا ہی نہیں چاہیے بنگلہ دیش کے اس فیصلے پر آئی سی سی کے سربراہ کو جلد از جلد مکمل ایکشن لینا چاہیے تاکہ پهر کوئی دوسرا ملک اس طرح کی پابندی عائد نہ کریں میچ میں اس طرح کی سیاست نہیں ہونی چاہیے میچ کسی بهی ملک کا ہو اس کو ایک کهیل کی طرح لینا چاہیے بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسنیہ واجد کا تعلق عوامی لیگ سے ہے اور عوامی لیگ پاکستان کے بارے سخت گیر موقف رکھنے میں بہت ہی مشہور ہے (اللہ تعالیٰ کی ذات خیر ہی کرے دوسری جانب پاکستان اور بنگلہ دیش کا ایک اہم میچ 30 مارچ کو میر پور میں ہونا ہے اور یہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسنیہ واجد کس دل سے برداشت کریں گی جو پاکستانی پرچم لہرانے پر پابندی عائد کر سکتی ہے وہ کیا نہیں کر سکتی) 2012 کے ایک میچ میں بهی جب پاکستان کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو شکست دی تھی میچ کے دوران بنگلہ دیشی وزیراعظم کرکٹ اسٹیڈیم میں ہی موجود تهی جیسے ہی پاکستان جیت گیا تو اسی وقت بغیر کھلاڑیوں کو انعام دیے وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد غصے سے اسٹیڈیم سے باہر چلی گئیں کیوں یہی ہے ہم سب جس کے پیچھے چل رہے ہیں. وہ ہمیں ہمیشہ دغا دی.ے پر آمادہ ہیں .ایک اور اہم بات یہاں بتاتا چلوں کہ بنگلہ دیش والے پاکستانیوں کو اچھا نہیں سمجھتے مگر یہ کیا آج ہوا اس سوال کا جواب دینا یقیناََ مشکل ہے ہمیں اس امر کو بھی سوچنا بھی ہو گا کہ جب تک ہم سوچ کو مثبت نہیں کریں گئے تب تک ہم میں انسانیت نہیں آئے گی.انسانیت نہیں ہو گی تو جانوروں اور ہم میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوگا. ہماری اسلامی جمہوری مملکت کو ہر طرف سے دبایا جا ریا یے پھر بھی ہم اب تک کیسے بچے ہوئے ہیں اس کی واضع مثال ۱۹۶۵ ء میں ملتی ہے اب بھی ہم یہ دیکھیں کہ ہم طرح طرح کے فرقوں میں بٹے ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی مدد کرنے میں دریغ نہیں کرتے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح کی حرکتات کر کے کیا پیش کرنا چاہتے ہیں ان کو سدرھنا ہو گا سدرھنا ہوگا.

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress主题