قرار دادِ پاکستان…اسلامی و آئینی مقاصد   


کو شائع کی گئی۔ March 22, 2019    ·(TOTAL VIEWS 115)      No Comments

تحریر۔۔۔علی رضارانا
اٹھارویں صدی میں مغرب میں قوم اور قومی ریاستوں کے تصور کے ظہور سے قبل ہی ہندوستان میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے دو علیحدہ قومیں تھیں، مگر 1858ء میں جب برطانیہ نے ہندوستان پر قبضہ کیا اور ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک قوم قرار دے کر حکمرانی شروع کی تو ہندوستان کے مسلمان بجا طور پر اپنے قومی تشخص کے حفاظت طور پر اپنے قومی تشخص کی حفاظت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے (مسلم وقف الا ولاد قانون کی برطانوی ہند میں منسوخی اور قائداعظم کی جدو جہد سے 1931ء میں اس کی بحالی اس امر کی ایک بڑی مثال ہے)۔ یہی امردرا صل قراردادِ پاکستان کی بنیاد بنا جس نے مسلمانوں کے سیا سی مستقبل کا تعین کیا۔برصغیر کے مسلمان ایک ایسے عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں جو ہر شعبہ زندگی خصوصاً تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیاسی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے اور جو محض رسومات، روحانیت اور رواجوں پر مبنی نہیں ہے اور ہندو دھرم فلسفہ کے بالکل متضاد ہے۔ ہندوؤں کے ذات پات پر مبنی فلسفہ نے بھارت کے 6کروڑ انسانوں کو اچھوت بنا کر رکھ دیا ہے۔مسلمان، عیسائی اور دوسری اقلیتں سماجی اور معاشی طور پر انتہائی پسماندہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہندو ذات پات کا نظام قومیت، مساوات، جمہوریت اور اسلام کے سنہری اصولوں کے منافی ہے۔ مسلمان اکثریتی صوبوں میں بھی اپنے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکیں گے کیونکہ مرکز میں ہندوؤں کی بالا دستی ہوگی۔ اس لیے مسلمانوں کا مطالبہ یہ ہے کہ شمالی مشرقی میں بنگال اور آسام اور شمال مغرب میں پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت میں قائداعظم محمد علی جناح کا تقرر اور قائد ملت خان لیاقت علی خان کا وزیر اعظم پاکستان قرار پانا اس امر کی دلیل تھا کہ مسلمانوں کا مطالبہ انکے عقائد کی برتری پر منتج ہے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا قانونی اثر 14اگست 1947کی رات 12بجے کے بعد سے ہوچکا ہے اور اس حاکمیت کا اثر کتاب اللہ کی روشنی میں آئین سازی کے ذریعے اور حدود اللہ کے نفاذ کی صورت میں ہی قابل تسلیم ہے کیونکہ اللہ کی حاکمیت کا تصور اس کے بغیر کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ خالقِ پاکستان قیادت پر مشتمل دستور ساز اسمبلی نے 1949میں قرار دادِ مقاصد منظور کی جو مملکت کے نظام کے خدوخال بیان کرتی ہے۔ اس قرار داد کے اہم نکات یہ تھے:
تمام کائنات پر اقتدار اعلیٰ کی حیثیت اللہ تبارک و تعالیٰ کو حاصل ہے کیونکہ حقیقی اقتداد کا مالک پر وردگار ہے اور -1 اس نے یہ مقدس امانت پاکستان کے عوام الناس کے سپرد اپنے خلیفہ یا نائب کی حیثیت میں کی ہے تاکہ قرآن وسنت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اس امانت کے مقاصد کی تکمیل ہوسکے۔ 2-پاکستان کا دستور قرآن وسنت کی روشنی میں ترتیب دیا جائیگا اور یہاں اسلامی اصولوں سے متصادم کسی قانون پر عملدر آمد نہیں ہوگا۔ 3-اسکے علاوہ اس قرار دادِ میں جمہوریت کیلئے تجاویز اور دیگر بہت سے امور پر بھی گائیڈ لائن اس قرار دادِ میں شامل تھی۔ یہی قرار دادِ مقاصد جو پہلے آئینوں اگر موجود آئین کا حصہ بن چکی ہے۔ -A میں دیباچے کے طور پر شامل رہی 1985 کی آئینی تر میم کے بعد آرٹیکل 2اگر موجودہ آئین کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں واضع طور پر درج ہے کہ پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان اور پاکستان کے سربراہ کا مسلمان ہو بنیادی شرط ہے اور حلف وفاداری میں اسلام کی پاسداری کا ذمہ لیا گیا ہے اس آئینی صورتحال کے ساتھ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سینٹ کا ہر رکن (ماسوائے غیر مسلم ارکان)اسلام کے نفاذ ک ذمہ داری آتی اور افراتفری کے اس دور میں ذاتی اقتدار کے حصول اور طوالت کیلئے ہر معقول اور غیر معقول طریقِ کار اختیارکیا جارہا ہے۔ اقتدار کی اس کشمکش کی وجہ سے جمہوریت آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود نہیں۔ عوام مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن اور سودی نظام کے شکنجے میں ہیں۔ ہماری اعلیٰ اخلاقی اقدار مٹ رہی ہیں۔ بے تقینی اور ہر لحاظ سے زوال پذیر اس معاشرتی صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں اپنے نظر یے کو عملاً اپنا نے سے ہمیشہ گریز کیا گیا ہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک میں اسلام کا نام صرف دکھا وے کیلئے لیا جاتا ہے۔ اسکے ذمے دار آج تک آئینوالے وہ حکمران ہیں جنہوں نے اسلام کو صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے استعمال کیا اور منصب اقتدار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک انتہائی اہم ذمے داری سمجھنے سے قاصر رہے اور ملک میں صحیح معنوں میں نفاذِ اسلام نہ کرسکے ۔ اسلامی نظام کسی فرد واحد کی استبداری و جابرانہ حکومت کا حامی نہیں اس نظام میں اختیار ات کا استعمال اللہ تعالیٰ کی مرضی کے عین مطابق کیا جاتا ہے حکومت عام تصور کے بر عکس صرف عوام کو نہیں بلکہ اللہ کو بھی جوابدہ ہے۔ اقتدار اعلیٰ خدائے بزرگ و برتر کی ذات کو حاصل ہے اور سب عوام اسکی مرضی کے پابند ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے قرار داد مقاصد کو بنیاد بنا کر آئین کی ہر شق اور ہر کو -A نافذالوقت قانون پر قرآن و سنت کی برتری کو تسلیم کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے اور آئین کی شق نمبر 2باقی شقوں سے بالا دست قرار دیا جائے تاکہ نہ صرف معاشرتی برائیوں کا قلع قمع ہوسکے بلکہ ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔ قائداعظم ؒ حکیم الامت اور دیگر عالمی اسلامی شخصیات کا احیائے دین کا وہ نظریہ جس کا بیج پاکستان کی صورت میں بویا گیا اسکو پروان چڑھانے والا ہر فرد تاریخ اسلام میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ 

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Free WordPress Theme