قصور ٹینریز ویسٹ مینجمنٹ ایجنسی کے چند حقائق   


کو شائع کی گئی۔ August 3, 2020    ·(TOTAL VIEWS 103)      No Comments

تحریر :مہر سلطان محمود
کے ٹی ڈ بلیوایم اے کانوٹیفکیشن 21 مئی 1995ءکو جاری کیا گیا ۔12 اگست 2002 کو کے ٹی ڈ بلیوایم اے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے کے ڈی اے
کا نوٹیفکیشن گورنر پنجاب نے جاری کیا جس میں واضع طور پر ممبرز کا ذکر کیاگیا ہے ۔اس نوٹیفکیشن کے بعد تاحال کوئی نیانوٹیفکیشن جاری نہ ہواہے جس سے یہ واضع ہوتاہے کہ کے ٹی ڈ بلیوایم اے کے معاملات کو چلانے کیلئے اصل فورم کے ڈی اے کمیٹی کا ہے نہ کہ مینجمنٹ کمیٹی کا ،مزید یہ کہ 2007 ءمیںکے ٹی ڈ بلیوایم اے کی جانب سے انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو لیٹر لکھا گیا جس میں مینجمنٹ کمیٹی کی قانونی حیثیت کا پوچھا گیا اس کے جواب میں انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے واضع طور پر لکھا گیا کہ کے ٹی ڈ بلیوایم اے مینجمنٹ کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہے۔اوپر درج کردہ حقائق کو مدنظر رکھ یہ سوال پیداہوتاہے کہ اب تک مینجمنٹ کمیٹی کو کس حیثیت میں تمام ڈپٹی کمشنرز نے چلایاہے آیاکہ بعد ازاں کوئی نیا قانونی تحفظ لیاگیا یاپھر اپنی من مانی سے ہی مغل بادشاہی سسٹم چلتارہاہے؟ اب اصل حقائق کی طرف چلتے ہیں کہ ٹینریز ایسوسی ایشن جو کہ خود رجسٹرڈ نہ ہے صرف چارپانچ لوگ ہی پچھلے ایک عشرے سے اس کے عہدیدار منتخب ہورہے ہیں وہ اپنے ناجائز مطالبات اور ذاتی مفادات کیلئے مینجمنٹ کمیٹی کو استعمال کررہے ہیں یہاں پر ایک سوال بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دیتاہے کہ جب مینجمنٹ کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تو یہ نام و نہاد سب کمیٹیاں کہاں سے وجود میں آئیں اور کس قانون کے تحت بنائی گئیں جن کانہ توکوئی نوٹیفکیشن ہے نہ ہی ٹی او آر اب ان سب کمیٹیوں میں ایک آڈٹ اینڈ انکوائری کمیٹی بھی ہے جو کہ بقول ٹینریز ایسوسی ایشن کے 2009 میں بنی لیکن اس کمیٹی نے آج تک نہ ہی کوئی آڈٹ کیا اور نہ ہی کوئی رپورٹ جاری کی ۔
اس کمیٹی کے کنوینئیرفضل الرحمن ہیں جو کہ رحمن برادرز کے نام سے اپنی ٹینری چلارہے ہیں اور موصوفکے ٹی ڈ بلیوایم اے کے سب سے بڑے ڈیفالٹر ہیں اور ان کے ذمے تقریبا©© بارہ لاکھ روپے سے زائد کے واجبات ہیں جو کہ آج تک جمع نہیں کروائے گئے ہیںاس کے علاوہ یہ موصوف کے ٹی ڈ بلیوایم اے سے جرمنی کے وزٹ سال اندازے کے طور پر2011 یا2012 کیلئے تقریبا پانچ لاکھ روپے ادھار لیکر گئے اور واپسی پر دینے کا وعدہ کیا مگر عرصہ نو سال سے زائد گزرنے پر بھی تاحال واپس نہیں کیے ہیں کیااس محکمے کو ٹینریز والوں کو قرضہ دینے کی اجازت تھی؟ مزید انکشافات کے مطابق یہ چہتے صاحب اسی محکمے سے ایک لاکھ روپے مالیت کا موبائل لیکراسے زاتی استعمال میں رکھے ہوئے ہیں ۔سابقہ جنرل مینجر شابی حسن کے رائیٹ ہینڈ ہونے کا بھی اعزاز انہی کو حاصل ہے جو کہ کرپشن میں سزابھگت چکاہے سے اپنی ذاتی گاڑی میں پچیس ہزارروپے کے ڈیک بھی لگوائے اس کے علاوہ مختلف پرائیویٹ بنکوں میں سرکاری رقم جمع کرواکر سپلٹ اے سی سمیت بہت سارے ذاتی مفادات حاصل کیے ہیں یہ موصوف شابی حسن سے حبیب بنک میں جمع کروائی گئی سرکاری رقم سے منافع کس حیثیت میں لیتے رہے ؟کیا کے ٹی ڈ بلیوایم اے کی انتظامیہ کو نیشنل بنک سے دوسرے بنکوں میں پیسہ ٹرانسفر کرواکر منافع کمانے کی اجازت تھی یا نہیں ؟ چونکہ ڈی سی قصور نے اب کے ٹی ڈ بلیوایم اے کے معاملات میں شکایت موصول ہونے پر آڈٹ کا حکم دیا تو موصوف اپنی ذاتی کرپشن مع اپنے پیٹی بھائی شابی حسن اور بغل بچے آڈٹ افیسر جہانزیب ٹیپو کو بچانے کیلئے میدان میں آگئے ساتھ میں نام ونہاد کمیٹی کے کنویئنر کے طور پر سرکاری ریکارڈ قبضے میں لے کر تقریبا اڑھائی ماہ سرکاری ریکارڈ اپنے قبضے میں رکھا ،فضل الرحمن کا موقف لینے کیلئے رابطہ کیاگیا مگر نمبر مسلسل بند ملا ۔
یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن نے کیسے سرکاری ریکارڈ ایک ڈیفالٹر اور پرائیویٹ بندے کے حوالے کردیاجس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہے سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ابھی بھی کچھ سرکاری ریکارڈ اس نے اپنے قبضے میں رکھاہواہے جس پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو فوری طور پر اس کے خلاف مقدمہ درج کرواکر ریکارڈ برآمد کرواناچاہیے ۔دوسری نام ونہاد کمیٹی پرچیزنگ کیلئے بنی ہوئی ہے حاجی عبدالغفار نام کے بندے نے خود کواس کمیٹی کا کنوینئر ظاہر کرکے لاکھوں روپے کے مفادات لے رہاہے اس نے اپنے قریبی رشتہ داروں کواے ٹی ڈ بلیوایم اے میں بھرتی کروایااور اس کے علاوہ اپنی فیکٹری کو غیر قانونی طور پر دو فیکٹریوں میں بدل لیا ساتھ میں نئی فیکٹری کیلئے کے ٹی ڈ بلیوایم اے انتظامیہ کی دریادلی دیکھیں پانی کے میٹر کیلئے رقم ادھار بھی موصوف کودے ڈالی ۔اسی طرح ایک اور ممبر شان جٹ جس نے اپنی پرانی ٹینری فروخت کرکے غیر قانونی طور پر لاکھوں روپے بچاکر بغیر کسی اجازت نامے کے نئی ٹینری لگالی ۔یوسف ثقلین نامی ممبر نے غیر قانونی طور پر ریلوے کی جگہ پر ٹینری لگائی ہوئی ہے اور ذاتی مفادات کیلئے کے ٹی ڈ بلیوایم اے کے معاملات میں پیش پیش ہے دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ سب لوگ سابقہ مسلم لیگ ن کے ایم این اے شیخ وسیم اختر کے رشتہ دار اور قریبی ہیں اور ن لیگ کی حکومت نہ ہونے کے باوجود بھی بہت اثرورسوخ رکھتے ہیں ۔ڈی سی قصور کو ان تمام لوگوں وٹینریز کے معاملات کا فرانزک آڈٹ ہر صورت کرواناچاہیے ۔پچھلے بیس سال سے کے ٹی ڈ بلیوایم اے کے بلنگ ڈیپارٹمنٹ کاآڈٹ ہی نہ کیا گیا ہے کیونکہ اس اقدام سے اس نام ونہاد ٹینری ایسوسی ایشن کے کچے چٹھے کھلنے کا خطرہ ہے تمام تر کوشش ان عناصر کی یہی ہے کہ اس ڈیپارٹمنٹ کا آڈٹ نہ ہو ،موجودہ انکوائری جو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے کی ہے اس میں بلنگ ڈیپارٹمنٹ کاآڈٹ وانکوائری نہ کی گئی ہے اگر اس کاآڈٹ کیا جائے تو یقینی بات ہے 10 تا15 کروڑ روپے کی مزید کرپشن سامنے آئے گی ۔
بہت ساری قانونی موشگافیاں بھی اس ادارے کے معاملات میں سامنے آئی ہیں جن کو حل کرناانتہائی ناگزیر ہے ساتھ ہی ہمارے زرائع کے مطابق اس وقت ڈی سی قصور کے پاس تین رپورٹس جمع ہوچکی ہیں 01 ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ،02 ڈائریکٹر فنانس کے ٹی ڈ بلیوایم اے اور تیسری نام ونہاد ٹینریزایسوسی ایشن کی ۔ایکشن مصدقہ زرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی رپورٹ پر ہورہاہے دو افراد کومعطل کرکے بذریعہ شوکاز نوٹس جواب طلبی کی گئی ہے جہانزیب ٹیپو پر تقریباََتین کروڑ روپے اور فیصل پر تقریباََبائیس لاکھ روپے کی کرپشن ظاہر کی گئی ہے ڈپٹی کمشنر قصور کو چاہیے کہ جس نے جتنا جرم کیاہے اسکی سزاکاتعین بھی اسی کے مطابق کریںالبتہ اگر کسی نے بڑے مگرمچھ کو پکڑوانے کیلئے تعاون کیاہے تو اسے ریلیف ضرور ملناچاہیے ۔اگر ٹینریز ایسوسی ایشن اپنے رائٹ ہینڈ وخود کوبچانے کیلئے اثرورسوخ کا ستعمال کرتی ہے تو افسران کویہ یاد رکھنا چاہیے تمام معاملات اعلی حکام کے نوٹس میں لائے جائیں گے ۔آخر پر کچھ لوگ اس ادارے کو سرکاری ادارہ قرار دینے میں پس وپیش کرتے ہیں تو ان سے سوال ہے کہ یہ ادارہ سرکاری زمین پر کیوں بنا ؟جب بناتب تقریباََباون کروڑ روپے کی خطیر رقم سرکارنے کیوں دی ؟گاڑیاں سرکار نے کیوں لیکر دیں سرکاری ٹیلی فون نمبرز کیوں لگواکردیئے گئے گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس کیوں لگی ہوئی ہیں نیشنل بنک میں سرکاری اکاﺅنٹ کیوں کھلوایاگیا ڈی سی وایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیواور ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹس افیسر کو کیوں زمہ داریاں دی گئیں .

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

Free WordPress Theme