قونصل جنرل جدہ خالد مجید کی قونصلیٹ میں میڈیا کے نمائندگان سے ملاقات   


کو شائع کی گئی۔ July 11, 2020    ·(TOTAL VIEWS 45)      No Comments

جدہ (زکیر احمد بھٹی )قونصل جنرل جدہ خالد مجید نے آج قونصلیٹ میں پریس کے نمائندگان سے ملاقات کی اور قونصلیٹ کی پچھلے چند ماہ کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبائی مرض جدہ میں پاکستان قونصلیٹ کے لئے بہت چیلنجز لایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صورتحال سے اپنی بھرپور صلاحیتوں سے نپٹنے کی کوشش کی اور اللہ کے فضل سے ان مشکل حالات میں کامیابی حاصل ہوئی۔پہلا چیلنج بین الاقوامی پروازوں کی بندش کے بعد عمرہ زائرین کی واپسی کا تھا۔ پروازوں کی بندش کے بعد 500 کے قریب عمرہ زائرین پیچھے رہ گئے تھے۔ سعودی حکومت کی مدد اور معاونت اور سعودی وزارت حج و عمرہ کے قریبی ہم آہنگی سے ، ہم ان حاجیوں کو سعودی ایئر لائن کی دو پروازوں کے ذریعے وطن واپس بھیج سکے۔اس کے بعد ، سعودی عرب میں خصوصی پروازوں کے ذریعے پھنسے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کی وطن واپسی کا چیلنج درپیش تھا۔ وطن واپسی کے لئے ہماری ترجیحات میں وزٹ ویزا ، خروج نہا ئی اور طبی ہنگامی صورتحال تھیں۔ ایسے لوگوں کی شناخت کے لئے ایک فارم سوشل میڈیا کے ذریعے سرکولیٹ کیا گیا۔پورے سعودی عرب میں 34000 کے قریب پاکستانیوں نے اس فارم کے ذریعے اپنے آپ کو رجسٹر کیا۔ ابتدائی طور پر پی آئی اے کے ٹکٹیں قونصل خانے کے احاطے سے فروخت کی جا رہی تھیں جس کی وجہ مقامی حکام کی جانب سے تجارتی علاقوں کو کھولنے پر پابندی تھی۔ اس مقصد کے لئے قونصل خانے میں پی آئی اے کا ایک خصوصی کاؤنٹر کام کر رہا تھا۔ بعد میں جب یہ پابندیاں ختم کردی گئیں ، تو 15 جون ، 2020 سے مجاز ایجنٹوں اور پی آئی اے کے دفتر سے ٹکٹ دستیاب تھے۔ یکم مئی سے جب سےخصوصی پروازیں شروع ہوئی ہیں ، مملکت کے مغربی علاقے سے 64 پروازیں تقریبا 14000 مسافروں کو واپس پاکستان لے گئیں۔ یہ پروازیں جدہ سے اور بعد میں مدینہ سے پرواز کرتی تھیں۔ اب جب سے سعودی عرب میں کرفیو اور پابندیوں میں نرمی آگئی ہے اور معمول کی زندگی شروع ہوگئی ہے ، وطن واپسی کا دباؤ بھی کم ہو گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کی پابندیوں کے عرصے کے دوران بہت سے پاکستانی کمیونٹی ممبران کو دفاتر کی بندش ، ملازمت سے سبکدوشی اور کسی قسم کی تجارتی سرگرمیوں کے فقدان کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان آزمائشی اوقات میں ہم نے زیادہ سے زیادہ ضرورت مند اور بے سہارا پاکستانیوں میں کھانے کی چیزیں اور راشن بیگ تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ ہم اپنے متمول کمیونٹی ممبران اور تنظیموں کے بھی شکر گزار ہیں جو ہماری دعوت پر آگے آئے اور برادری کے افراد کی مدد کی۔قونصل جنرل خالد مجید نے بتایا کہ پابندیوں میں نرمی اور کرفیو اٹھانے کے بعد ، قونصلیٹ نے سعودی حکومت کے اعلان کردہ تمام احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی معمول کی قونصلر خدمات شروع کردی ہیں۔ ہم نے جولائی سے مغربی خطے کے مختلف شہروں کے قونصلر دورہ بھی شروع کرد یئے ہیں ، جس سے دوسرے شہروں میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی کو آسانی ہوگی۔ انھوں نے بتایا کہ کرفیو کے دوران بھی قونصلیٹ عوامی خدمت کے لئے کھلا تھا ، اور ہم نے ڈیوٹی افسران کے رابطے کے نمبر نوٹیفائی کیے جو کمیونٹی کو چوبیس گھنٹے دستیاب تھے۔قونصل جنرل نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کورونا سے متاثرہ تمام مریضوں کو مفت طبی امداد دینے کے اعلان کرنے کی تعریف کی۔ قونصل جنرل نے مزید کہا ، ہزاروں تارکین وطن کو ، جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں ، بادشاہ اور ولی عہد کے اس انسانی اقدام سے فائدہ ہوا ۔قونصل جنرل نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کورونا سے متاثرہ تمام مریضوں کو مفت طبی امداد دینے کے اعلان کرنے کی تعریف کی۔ قونصل جنرل نے مزید کہا ، ہزاروں تارکین وطن کو ، جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں ، بادشاہ اور ولی عہد کے اس انسانی اقدام سے فائدہ ہوا۔انہوں نے مملکت میں پاکستانی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے مملکت میں کورونا کے خلاف فرنٹ لائن فورس کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستانی ڈاکٹروں کے لئے بھی دعا کی جنہوں نے لائن آف ڈیوٹی میں اپنی جان کی پروا کئے بغیر اپنا فرض نبھایا اور اپنی زندگی گنوا دی

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

Free WordPress Theme