لاک ڈاؤن سے عید پر مٹھائی و کیک کی فروخت 70 فیصد کم ہوگئی   


کو شائع کی گئی۔ May 24, 2020    ·(TOTAL VIEWS 32)      No Comments

کراچی(یو این پی)کورونا وائرس کی وباء میٹھی عید کی مٹھاس بھی نگل گئی، لاک ڈاؤن اور دکانوں کے اوقات کار محدود ہونے کی وجہ سے اس سال عید پر کیک اور مٹھائیوں کی فروخت میں 70فیصد تک کمی کا سامنا ہے۔عید کے لیے خصوصی کیک اور مٹھائیوں کی تیاری کا کام ٹھپ ہوگیا بڑی دکانوں نے محدود تعداد میں کیک اور مٹھائی کی محدود ورائٹی تیار کی ہے، میٹھی عید پر کیک اور مٹھائیوں کی فروخت سال کا سب سے بڑا سیزن ہے تاہم اس سال کرونا کی وبا اور کاروباری اوقات محدود ہونے کی وجہ سے کیک اور مٹھائیوں کی فروخت نہ ہونے کے برابر ہے۔مٹھائی کی بڑی دکانوں پر اس سال مٹھائیوں اور کیک کا محدود اسٹاک رکھا گیا ہے عید کے دنوں کے لیے آرڈر پر کیک بنوانے کا رجحان بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور اکا دکا گاہک کیک کے آرڈرز بک کرارہے ہیں، بنوری ٹاؤن میں کیک کی معروف برانڈ ماسٹر کیک کے منیجر محمد شاکر نے بتایا کہ اس سال عید کے لیے کیک کی فروخت 75فیصد کم ہے کیک کی فروخت نہ ہونے کی بڑی وجہ دکانوں کے محدود اوقات کار ہیں۔پٹرول پمپس اور شاپنگ سینٹر بھی 5 بجے بند ہورہے ہیں تاحال عید کے دنوں کے اوقات کار کا بھی اعلان نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بے یقینی کی صورتحال ہے بیکری اور کیک بنانے والوں کو خدشہ ہے کہ اگر بڑی تعداد میں کیک تیار کیے تو بچ کر ضایع ہوں گے اور نقصان کا سامنا ہوگا اس لیے یومیہ بنیاد پر محدود تعداد میں کیک تیار کیے جارہے ہیں۔بنوری ٹاؤن پر ہی واقع سپر کیک نامی کیک شاپ کے منیجر کا کہنا تھا کہ عید کے لیے کیک کی تیاری آج سے شروع کی ہے کیک کی ڈیمانڈ میں نمایاں کمی کا سامنا ہے انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر چاکلیٹ کیک تیار کیے جارہے ہیں جسے بچے زیادہ پسند کرتے ہیں کیک کی آن لائن فروخت اور ہوم ڈلیوری کی بھی سہولت فراہم کی جارہی ہے لیکن محدود تعداد میں آرڈر مل رہے ہیں۔بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں پر نمکو آئٹم اور بیکری آئٹمز تیار کیے جارہے ہیں مٹھائیوں اور کیک کی فروخت نہ ہونے کے برابر ہے۔ رمضان کے دوران بھی مٹھائی کی فروخت انتہائی کم رہی بڑے اجتماعات پر پابندی کی وجہ سے تراویح کے ختم کی محافل کے لیے بھی مٹھائی کے خاطر خواہ آرڈر نہیں ملے یہ بات جیل چورنگی پر مٹھائی کی معروف دکان کے منیجر کلیم نے گفتگو میں بتائی انھوں نے مزید کہا کہ عید کے دنوں میں کیک کی فروخت چاند رات سے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔شہری مہمانوں کی تواضع کے لیے دیگر لوازمات کے ساتھ کیک بھی خریدتے ہیں اس سال چاند رات کی رونقیں ماند پڑی ہیں کیونکہ دکانوں کے اوقات کار محدود ہیں اسی طرح عید کے دنوں میں اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور اقارب سے عید ملنے جانے والے شہری راستے سے کیک اور مٹھائیاں خریدتے ہوئے لے جاتے ہیں اس سال دکانیں 5 بجے سے زیادہ کھولنے کی اجازت نہیں ہے جس سے فروخت متاثر ہونے کا خدشہ ہے انھوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مٹھائی کے کاریگروں کی بھی کمی رہی زیادہ تر کاریگر پنجاب سے اور سندھ کے مختلف شہروں سے آتے ہیں بالخصوص عید کے لیے روایتی نمکین کچوریاں بنانے والے کاریگر شہر کے باہر سے آتے ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاریگر کراچی نہیں پہنچ سکے۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress Blog