لودھراں کا الیکشن اور ایک نیا اشارہ Article by Dr.B.A.khurram   


کو شائع کی گئی۔ February 12, 2018    ·(TOTAL VIEWS 202)      No Comments

تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر بی اے خرم
پنجاب کے شہرلودھراں میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے سیاسی پنڈتوں کے ساتھ سیاسی کارکنوں کو بھی حیران کر دیا حالات و واقعات اور سیاسی تجزیوں کے برعکس نتائج نے جہاں حکمران جماعت کو مشکل حلات اور گردش ایام میں ایک نئی آکسیجن فراہم کی وہاں پاکستان تحریک انصاف کے ایوانوں میں لرزہ طاری کردیاضمنی انتخاب کے نتائج نے آنے والے عام انتخاباتجو صرف چند ماہ بعد ہونے والے ہیں ایک واضح سمت کا اشارہ دے دیاضمنی الیکشن میں تحریک انساف نے بھر پور انتخابی مہم چلائی حتی کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرکے ایک تلاطم سا پیدا کر دیا گیا حلقہ میں ترین نے جیتنے کے لئے پیسہ پانی کی طرح بہایا پی ٹی آئی نے اس ضمنی انتخاب میں ایک ایسا انتخابی ماحول پیدا کردیا تھا جو ایسا ظاہر کر رہا تھا کہ شاید حکمران جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑے ،مسلم لیگ ن کا کوئی اہم رہنما حلقہ میں انتخابی مہم چلانے نہیں آیا البتہ حکمران جماعت کے امیدوار نے اپنی انتخابی مہم بڑی خاموشی سے چلائی سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اپنی عدالتی نااہلی کے بعد انٹی اسٹیبلشمنٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آئے نئے روپ میں میاں صاحب ایک طاقت ور  لیڈربن کر ابھرے چکوال کے بعد لودھراں کے الیکشن نے حکمران جماعت کو حکومتی ایوانوں میں پہنچا کر عوامی فیصلہ سنا یا
حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 31 ہزار سے زائد ہے، حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 36 ہزار اورخواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 94 ہزار سے زائدہے۔۔ این اے 154 کے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر 10 امیدوار وں نے حصہ لیا تاہم کانٹے کا مقابلہ پی ٹی آئی کے علی خان ترین اور ن لیگ کے پیر اقبال شاہ کے مابین متوقع تھا غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق ن لیگ نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے میدان مار لیا ہے اور ایک لاکھ 16 ہزار 590ووٹوں سے کامیاب قرار پائی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی ترین 91 ہزار 230ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ یوں یہ نشست حکمران جماعت نے 25ہزار 360 ووٹوں کی برتری سے پی ٹی آئی سے دھڑلے سے چھین کر اپنے نام کر لی مسلم لیگ ن کا شیر کچھار سے نکل کر ایسا دھاڑاکہ مخالفین کونہ صرف کھا یا بلکہ ہضم بھی کرگیاشیر کی دھاڑ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اب ذرا نظر ڈالتے ہیں کہ عام انتخابات اور پھر ضمنی انتخاب میں اس حلقہ میں کون کہاں کھڑا تھا گزرے سالوں میں‌سیاسی کارکنوں نے ہر الیکشن میں‌اپ سیٹ کیا پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین 2015 میں لودھراں کے حلقے این اے 154 میں محمد صدیق خان کے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد ضمنی انتخاب میں ایک لاکھ 38 ہزار 719 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے ۔ 11 مئی 2013 کے عام انتخابات میں این اے 154 سے محمد صدیق خان ن نے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑا اور 86 ہزار 177 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے تھے جبکہ جہانگیر ترین نے 72 ہزار 89 ووٹ لیے اور دوسرے نمبر پر رہے اور ن لیگ کے امیدوار سید محمد رفیع الدین بخاری نے 45 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے تاہم دھاندلی کے الزامات کے باعث 2015 میں محمد صدیق خان نااہل ہو گئے اور ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین نے واضح اکثریت سے کامیابی سمیٹی اور ایک لاکھ 38 ہزار 719 ووٹ حاصل کیے جبکہ محمدصدیق نے ن لیگ کی ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیا لیکن کامیاب قرار نہیں پائے اور 99 ہزار 933 ووٹ حاصل کیے ۔
پاکستان تحریک انصاف گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں تبدیلی کا ڈنڈھوراپیٹتی چلی آرہی ہے پی ٹی آئی جس تبدیلی کا نعرہ لگاتی رہی ہے اور نئے پاکستان کے سہانے خواب دکھا رہی تھی لودھراں کے ضمنی الیکشن نے سب کچھ الٹ پلٹ کے رکھ دیا جنوبی پنجاب کے ووٹروں نے جو فیصلہ کیا ہے یہ حکمران جماعت کے لئے بھی حیران کن ہے جبکہ پی ٹی آئی کے لئے پریشان کن ہے پچھلے ضمنی الیکشن میں‌ چالیس ہزار سے زائد ووٹوں سے جیتنے والی نشست پہ ذلت آمیز شکست ترین فیملی اورپی ٹی آئی کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے حالیہ ضمنی الیکشن میں عوام نے تبدیلی اور نئے پاکستان کے نعرے کو بھاری اکثریت سے مسترد کرکےکسی کو حیران اور کسی کو پریشان کردیا

Readers Comments (0)




Premium WordPress Themes

WordPress Themes