لوگ ایک دوسرے سے بے وفائی کیوں کرتے ہیں ؟ تحقیق کاروں نے آخر کار وجہ ڈھونڈ نکالی   


کو شائع کی گئی۔ June 15, 2018    ·(TOTAL VIEWS 82)      No Comments

بوسٹن(یواین پی)لوگ بے وفائی کیوں کرتے ہیں؟ یہ ایک پیچیدہ سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش ہمیشہ سے کی جاتی رہی ہے۔ امریکی سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر کینتھ روزنبرگ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو دہائیوں سے اس موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے اب اپنی تحقیق کو ا یک کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ بے وفائی کا تعلق بڑی حد تک اس بات سے ہے کہ آپ کس قسم کی شخصیت کے حامل ہیں۔ڈاکٹر کینتھ کے مطابق ہماری شخصیت کے سات ایسے پہلو ہیں جو بے وفائی کی خصلت کا پتہ دیتے ہیں اور یہ کہ بے وفائی کا رویہ تین بنیادی عوامل سے تشکیل پاتا ہے۔ ان میں سے پہلا ہمارا دماغ، دوسرا نفسیات اور تیسرا ہماراکلچر ہے۔ بے وفائی کے رویے میں تقریباً نصف حصہ ہمارے دماغ کا ہے۔ کلچر کا حصہ کچھ یوں ہے کہ اگر ہمیں ایسا ماحول ملتا ہے کہ جس میں بے وفائی کا ارتکاب باآسانی ممکن ہے تو ہم ضرور ایسا کریں گے۔ ثقافتی طور پر بے وفائی کے خلاف عمومی رویے جتنے سخت ہوں گے اس کا ارتکاب اتنا ہی کم ہوگا۔ جو لوگ بے وفائی کے متحمل ہوسکتے ہیں، انہیں اس کا موقع دستیاب ہوسکتا ہے اور وہ یہ معاملہ خفیہ رکھ سکتے ہیں، تو وہ ضرور بے وفائی کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ نفسیات کی بات کی جائے تو جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شریک حیات سے بے وفائی کرنے میں حق بجانب ہیں ان میں بے وفائی کا رویہ سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔
شخصیت کے وہ پہلو جو بے وفائی کا اشارہ دیتے ہیں ان میں سرفہرست خود پسندی ہے۔ جو لوگ اپنی ہی شخصیت کے سحر میں مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں پر اپنی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں ان میں بے وفائی کا رویہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ جو لوگ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں، اور خصوصاً جنسی صلاحیتوں کے بارے میں، خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں بھی بے وفائی کا رویہ نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح غیر ذمہ دارانہ فیصلہ سازی کرنے والے افراد، یعنی جو نتائج کی پرواہ کئے بغیر جذباتی انداز میں فیصلہ کرڈالتے ہیں، وہ بھی بے وفائی کی جانب زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ جو لوگ انفرادیت کے حامل ہوتے ہیں اور ہر وقت مہم جوئی کی تلاش میں رہتے ہیں ان سے بھی وفا کی توقع کرنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی شخصیت میں عمر بھر کے تعلق کی ذمہ داری اٹھانے کا مادہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ خود کو کسی ایک شخص کے ساتھ عمر بھر کیلئے منسلک کرنے پر تیار نہیں ہوتے اور یوں ایک کے بعد ایک شریک حیات سے بے وفائی کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress Blog