ماضی کی معروف فلمی اداکارہ رانی Article by Dr.B.A.Khurram   


کو شائع کی گئی۔ May 29, 2019    ·(TOTAL VIEWS 47)      No Comments

تحریر۔۔۔ ڈاکٹربی اے خرم
ماضی کی معروف فلمی اداکارہ رانی کی26 ویں برسی منائی گئی پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ رانی 8 دسمبر 1946ءکو ملک محمد شفیع اور اقبال بیگم کے گھر لاہور میں پیداہوئیں 27 مئی1993ءکو 46 برس کی عمر میں کینسر کے موزی مرض میں مبتلا ہونے کے باعث اس دار فانی سے کوچ کر گئیں برسی کے موقع پہ ان کی فنی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیاگیا ان کا اصل نام ناصرہ تھا مرحومہ نے 60کی دہائی میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا ،ہدایتکار انور کمال پاشانے ناصرہ کورانی کے نام سے 1962ءمیں اپنی فلم” محبوب“ میں متعارف کرایا فلم ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن رانی نے بطور اداکارہ خود کو منوا لیاکہتے ہیں ناکامی، کامیابی کی طرف پہلی سیڑھی ہوتی ہے اور یہ کہاوت اداکارہ رانی پر صادق آتی ہے پاکستان کی خوبصورت اداکارہ رانی کو بھی پہلے پہل ناکامی کا منہ کئی بار دیکھنا پڑا یکے بعد دیگرے ان کی دس فلمیں بری طرح ناکام ہوئیں جس کی وجہ سے رانی پر بدقسمت اداکارہ کا لیبل بھی لگابعد ازاں ان کی عمدہ کردار نگاری نے دھوم مچادی انہیں رقص پہ عبور حاصل تھاجب ہٹ ہوئیں تو کروڑوں فلم بینوں اور پرستاروں کے دلوں پر راج کیاشہنشاہ رومانس وحید مراد ان کے لیے خوش قسمت ثابت ہوئے اور 1967ء میں ہدایتکار حسن طارق کی فلم” دیور بھابی“ کی کامیابی کے بعد رانی کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا اس فلم کا گیت” اے رات بتا کیا ان سے کہے “ اور احمد رشدی کا گایا ہوا گیت ”ہپ ہپ ہرے “بہت مقبول ہوئے اس سے اگلے سال ان کی ایک اور فلم ”بہن بھائی“ ریلیز ہوئی جو سپرہٹ ثابت ہوئی، اس کے گیت جیسے ”ہیلو ہیلو مسٹر عبد الغنی“نے تو مقبولیت کی تمام حدود کو عبور کر لیا تاہم رانی کو بام عروج پر پہنچانے والی فلم 1970ءمیں ریلیز ہونے والی اردو فلم ” انجمن“ تھی اس فلم کے گیتوں نے فلم نگر میں دھوم مچادی ” آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے “اور ”اظہار بھی مشکل ہے اف اللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے “اس فلم کے دیگر گیت بھی بہت مقبول ہوئے تھے اس فلم کی کامیابی کے بعد انھوں نے کبھی پیچھے موڑ کر نہیں دیکھا اس کے بعد ان کی فلم” تہذیب “اور ان کی زندگی کی سب سے ہٹ فلم ”امراو¿ جان ادا “ریلیز ہوئی اس فلم کے گیتوں نے بھی تہلکہ مچایا، جیسے” جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں“، اس کے رانی کی یکے بعد دیگرے ان کی سپر ہٹ فلمیں آتی چلی گئیں، جن میں ایک گناہ اور سہی، بہارو پھول برساو¿، ناگ منی اور ثریا بھوپالی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ رانی نے پنجابی فلموں میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی
مختلف فلموں میں پرفارم کئے گئے ان کی کردارنگاری آج بھی لوگوں کے ذہنوں پہ نقش ہے مرحومہ نے پاکستان کے لیجنڈز ہیروز جن میں وحید مراد،کمال ،عنایت حسین بھٹی،محمد علی،شاہد ،ندیم ،غلام محی الدیں ،سلطان راہی کے ساتھ بطور ہیروئن کام کیامرحومہ نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی فلموں میں بھی اپنا لوہا منوایاپی ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا ان کی معروف فلموں میں دیور بھابھی،انجمن،بہاروپھول برساﺅ،ناگ منی،ناگ اور ناگن،امراﺅ جان ادا ،بیگم جان،خوشبو،بہن بھائی،تہذیب،،دنیا مطلب دی،عشق دیوانہ،چن مکھناں،کوچوان،جند جان،سجن پیاراسمیت سینکڑوں فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے رانی نے تین شادیاں کیں تینوں ناکام رہیں فلمی کیرئیر کے دوران ہدایتکار حسن طارق،فلم ساز جاوید قمر، کرکٹر سرفراز نوازسے شادی کی ان کی عمر ساڑھے 46 برس برس تھی عمر کے آخری سالوں میں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئیں اور جانبر نہ ہو سکیں برسی کے موقع پہ ان کے پرستار مرحومہ کی روح کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں رب کائنات ان کے درجات بلند اور مغفرت فرمائے آمین

Readers Comments (0)




Free WordPress Themes

WordPress主题